عدت کیس کا فیصلہ

عدت کیس کا فیصلہ 12جولائی تک ہر حال میں سنانا ہے ، جج افضل مجوکا

ویب ڈیسک: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت اسلام آباد کے جج افضل مجوکا نے کہا ہے کہ عدت کیس کا فیصلہ 12جولائی تک ہر حال میں سنانا ہے ۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت کیس میں سزاکے خلاف اپیلوں پر سماعت کی جس میں وکلا کی جانب سے دلائل دیئے گئے ۔
عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سورہ بقر کے مطابق عدت کا دورانیہ 90 دن نہیں ہے، اس پر جج نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ ہے جس میں90 دن دورانیے کا ذکر ہے، سلمان اکرم نے جواب دیا کہ عدت مکمل ہونے کے مختلف حوالہ جات موجود ہیں، حتمی ججمنٹ سپریم کورٹ کی ہی تصور ہو گی۔
سلمان اکرم نے کہا کہ شکایت کنندہ کی جانب سے صرف ایک بیان دیا گیا کہ کوئی ثبوت موجود نہیں، ویڈیو کلپ میں خاور مانیکا واضح کہہ رہے ہیں کہ میری سابقہ اہلیہ پاک خاتون ہے مگر عدالت کے سامنے غلط بیانی کی گئی، ٹرائل کورٹ کافیصلہ قانون کے مطابق نہیں ہے۔
جج افضل مجوکا نے سوال کیا آپ کا کہنا ہے کہ ٹرائل کورٹ کو یہ ریفرنس ماننے چاہیے تھے یاثبوت مانگے جاسکتے تھے؟ اس پر سلمان اکرم نے جواب دیا جی اگر یہ دو ریفرنس نہیں مانے تو عدالت کی جانب سے ثبوت مانگے جا سکتے تھے، ٹرائل کورٹ کی جانب سے سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ کاحصہ نہیں دیکھا گیا، اس کیس میں فراڈ کس نے کس کے ساتھ کیا اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل دیے کہ اس کیس میں سب کچھ لطیف کے بیان پر منحصر کیا گیا، خاور مانیکا اور لطیف سمیت سارے گواہوں کے بیانات جھوٹ پر مبنی ہیں ، 92 سی آر ایم ایس خاتون کے بیان کو اہمیت دیتا ہے۔
اس کے بعد بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کرلیے۔
بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ میں سلمان اکرم راجہ کے عدت کے دورانیہ پر دیے گئے دلائل اپناتا ہوں اور اس سے ایک لفظ آگے نہیں جاں گا، خوشی ہوئی کہ سلمان اکرم راجہ نے جس طرح سے کیس کا پوسٹ مارٹم کیا۔
جج افضل مجوکا نے کہا کہ 8تاریخ تک کوشش کریں کیس مکمل ہو جائے، عدالت نے 12 جولائی تک ہر حال میں فیصلہ سنانا ہے۔
عدالت نے اپیلوں پر مزید سماعت 8 جولائی تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں:  جنوبی وزیرستان میں دو خاندانوں کے مابین فائرنگ،3افراد جاں بحق