چیف جسٹس تلخ کلامی

ٹریبونل تشکیل کیخلاف کیس : چیف جسٹس اور نیاز اللہ نیازی میں تلخ کلامی

ویب ڈیسک: سپریم کورٹ میں الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کیخلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اور تحریک انصاف کے وکیل نیازی اللہ نیازی کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ۔
تحریک انصاف کے وکیل نیاز اللہ نیازی کی جانب سے بنچ میں چیف جسٹس کی شمولیت پر اعتراض کیا گیا جسے چیف جسٹس نے مسترد کردیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ نیاز اللہ نیازی کیخلاف کیس پاکستان بار کونسل کو بھجوادیں، کیا ہم اپنی بے عزتی کیلئے یہاں بیٹھے ہیں، بس اب بہت ہوگیا، ہمیں معلوم ہے آپ کی ایک سیاسی جماعت سے وابستگی ہے، مسلسل عدلیہ کی تضحیک کی اجازت نہیں دیں گے، عدلیہ کی تضحیک کا سلسلہ بند کریں۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اب چیف جسٹس کا بنچ بنانے کا دور ختم ہوگیا، اب بنچ بنانے کا اختیار پریکسٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو ہے۔
نیاز اللہ نیازی نے عمران خان کے بارے میں اشارتاً کہا کہ جو قید میں ہے اس کا اعتراض ہے کہ انتخابی نشان چھینا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے جیل سے ویڈیو لنک کی سہولت دی اعتراض اس وقت بھی نہیں اٹھایا گیا، انٹراپارٹی الیکشن کیس میں علی ظفر نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا، اداروں کو بدنام کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے بھی کہا کہ لوگوں کی خواہشوں پر عدالتیں نہیں چلتیں۔

مزید پڑھیں:  پی ٹی آئی کا حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے پیپلز پارٹی سے رابطے کا عندیہ