پاک روس تعلقات

وزیراعظم شہباز شریف نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں، کوئی جغرافیائی سیاسی تبدیلی ان تعلقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتی اور نہ ہی دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات ہمارے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔وزیراعظم نے روسی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم آپ کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور باہمی تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں جو اس وقت ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ انہوں نے پیوٹن سے پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں روس سے تیل کی سپلائی موصول ہوئی ہے اور ہم اس کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔اس موقع پر وزیر اعظم نے روسی صدر کو جلد از جلد پاکستان کا دورے کی دعوت بھی دی جبکہ پاک روس بین الحکومتی تعاون کا اگلا اجلاس ماسکو میں بلانے پر بھی اتفاق کیا گیا پاکستان اور روس کے درمیان تجارت اور دیگر مختلف شعبوں میں تعاون کے بڑے امکانات موجود ہیں جن پر اس درجے کی توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی اس کی ایک وجہ ماضی میں روس پاکستان کے تعلقات اور عالمی حالات بھی تھے لیکن ان رکاوٹوں کے دور ہونے کے بعد بھی وہ حقیقی رکاوٹیں دور نہیں کی جا سکیں جس سے دونوں ممالک استفادے کے قابل ہوتے عالمی حالات کے باعث اب بھی ان رکاوٹوں کا احساس ہوتا ہے جن کو مکمل طور پر دور کئے بغیر دونوں ممالک کے درمیان مکمل اعتما د پر مبنی آزادانہ تعلقات قائم نہیں ہوسکتے اس ضمن میں پاکستان کو اپنی پالیسیوں کا دوبارہ جائزہ لینے اور ملکی مفادات سے ہم آہنگ دلیرانہ فیصلوں اور اقدامات کی جو ضرورت ہے توقع کی جانی چاہئے کہ روسی صدر اور وزیر اعظم پاکستان میں ملاقات میں اس طرف بھی پیشرفت کا فیصلہ کیا گیا ہو۔اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر ہے جس میں اضافہ اور فروغ کی بڑی گنجائش اور روشن امکانات ہیں اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ روس دنیا کی ایک قابل ذکر قوت اور علاقائی ہمسائیگی کے ناتے اہم کردار کا حامل ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پراعتماد اور مضبوط تعلقات دونوں ممالک اور خطے کے دیگر ممالک کے بھی مفاد میں ہے روس اور پاکستان کے درمیان کئی شعبوں میں تعلقات اور ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے کے امکانات قوی ہیںپاکستان کو اس وقت توانائی کے شعبے میں جس بحران کا سامنا ہے اور جس کے سبب ہماری معمول کی زندگی سے لے کر صنعتی و معاشی ترقی تک متاثر ہو رہی ہے روس اس سلسلے میں بہتر آپشن ثابت ہو سکتا ہے تیل اور قدرتی گیس کے شعبوں میں روسی کمپنیوں کا تجربہ وصلاحیت مسلمہ ہیں پاکستان روس سے تیل درآمد کرنے کا تجربہ بھی کر چکا ہے اور وزیر اعظم نے اس ضمن میں مزید امکانات اور پیشرفت کا عندیہ بھی دیا ہے حالیہ ملاقات میں اس معاہدے کی تجدید پربھی غور کیاگیادوسری جانب گزشتہ سال دونوں ممالک کراچی سے سینٹ پیٹرزبرگ ، بحری تجارت کا سنگ میل بھی عبور کر چکے ہیں جبکہ روس نے تاجکستان ، ازبکستان اور افغانستان کے راستے پاکستان تک زمینی رابطے استوار کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے جبکہ پاکستان روس سے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا بھی خواہاں ہے اور ڈھائی ارب ڈالر کی گیس پائپ لائن کراچی سے قصور تک بچھانے کا معاہدہ بھی طے پا چکا ہے مگرجس پر عالمی پابندیوں کے باعث کام نہ ہو سکا اب بدلتے حالات میں اس منصوبے کے احیاء کی ضرورت ہے علاوہ ازیں دونوں ممالک کے درمیان آئی ٹی اور ادویات سازی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون و ترقی کی گنجائش ہے پاکستان اور روس کے درمیان انسداد دہشت گردی اور خطے میں اقتصادی توازن و تجارت کے فروغ کے حوالے کے ساتھ ساتھ افغانستان سمیت کئی عالمی معاملات پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات کی بنیادوں کو مزید مضبوط بناسکتا ہے ۔ روس پاک بھارت تعلقات سے میں بہتری کے لئے بھی کردار ادا کر سکتا ہے عالمی پابندیوںکے باوجود تجارتی تعلقات کے فروغ کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان مال کے بدلے مال کی تجارت میں اضافے پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے جس سے برآمدات میں اضافے کی راہ با آسانی ہموار ہوسکتی ہے مخدوش عالمی اقتصادی حالات میں علاقائی تعاون اور علاقائی تجارت ہی وہ کامیاب حکمت عملی ہوسکتی ہے جس سے ہر ملک فائدہ اٹھا سکتا ہے روس سے مضبوط اور مربوط تعلقات خطے میں پاکستان کے کردار اور عالمی طور پر اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کی منڈیوں کے دروازے بھی کھول سکتا ہے وزیر اعظم نے دونوں ملکوں کے تعلقات کی راہ میں کسی رکاوٹ کو قبول نہ کرنے کا صرف عزم کافی نہ ہو گا بلکہ ماضی کے برعکس اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ پاکستان ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے کی پالیسی سے ہٹ جائے اور پریقین و پراعتماد طریقے سے روس وچین سمیت دیگر ممالک سے اپنے تعلقات اور روابط بڑھائے۔