کالے رنگ کے چند حوالے

رنگ بھی اپنے اند ر کیا تاثر رکھتے ہیں کہ ہر دیکھنے والی آنکھ خارجی زندگی کے نظارہ میں محو رہتی ہے۔ یہی رنگ فکر و خیال کے لیے نئی جہتوں کے امکانات بھی پیدا کرتے ہیں۔ سیاہ اور سفید رنگ میں معنوی تضاد پایا جاتا ہے ۔اس تضاد میں سیاہ رنگ کے حوالہ سے چند دلچسپ پہلو سامنے آئے تو اس کالم کے ذریعہ قارئین کو شریک کرنا ضروری سمجھا۔ عام طور پر ‘سیاہی’ کو بدی، بد کاری اور بد قسمتی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ ‘دل کا کالا ‘وہ ہے جو بدی کا سوچتا ہے اور ‘سیاہ کار’ وہ ہے جو گناہ کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح اس کے تمام گناہ اور قانون و ضابطہ کے خلاف کام ، ‘کالے کرتوت ‘ کہلاتے ہیں۔ گویا ‘کالا’ کسی چیز کی ایسی شدت کو ظاہر کرتا ہے جو خوف و دہشت کا سبب بنے۔ڈراونی بلا کو ایک کالے سائے کی شکل میں تصور کرتے ہوئے اسے ‘کالی بلا’ کہا گیا ہے۔ ‘کالا بھجنگ ‘ ایسے موٹے تگڑے اور کالے کلوٹے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جس کو دیکھ کر ہیبت طاری ہوتی ہے۔ فرہنگِ آصفیہ میں بھجنگ کو بھجنگا نامی پرندے سے نسبت دی گئی ہے جبکہ بھجنگ کالے سانپ یا ناگ کو بھی کہتے ہیں۔ ایک زمانے میں جب عام کھانسی کے مرض کی شدت بڑھ جاتی تو اسے ‘کالی کھانسی’ کا نام دیا گیا۔ جزائر انڈمان کو ‘کالا پانی’ کہنے میں جوخوف و ہراس پایا جاتا وہ اُس وقت مجرموں کو عمر قید کی سزا بھگتنے کے لیے ایسے غیر صحت مند آب وہوا والے جزائر میں بھیجے جانے کے خیال سے پیدا ہوتا جہاں آدم خور قبائلی بستے تھے۔ انگریزی لغت ‘ہابسن جابسن’ میں کالا پانی کے ذکر سے یہ توجہ دلائی گئی کہ ہندوستان میں سمندر پار کر نے پر سماجی پابندی تھی اور سمندر پار کرنے والوں کو ذات سے باہر نکالا جا سکتا تھا۔ یہ سزا سماجی اعتبار سے بھی باعثِ رسوائی تھی اور انڈمان ان کے لیے ‘کالا’ یعنی منحوس پانی تھا۔ انگریزوں کے خلاف بغاوت کے جرم میں ہندوستانیوں کی ایک اکثریت کو عمر قید کی سزا دی گئی تو ١٨٥٨ میں جب ان قیدیوں کو انڈمان بھجا جانے لگا تو اسی وقت سے کالا پانی کی اصطلاح رواج میں آئی۔اس طرح جس کام میں شدت ہو یا ناقابلِ تسخیر ہو، اسے بھی کالے سے تعبیر کیا جانے لگا جیسے ‘کالے کوسوں’ سے ایک طویل دشوار گزار مسافت کو مراد لیا گیا۔ قانون کا اپنا کوئی رنگ نہیں ہوتا لیکن’ کالا قانون’ اُسے کہا گیا جو زیادتی کرے ،انصاف کی جگہ اُس سے بے انصافی کا اندیشہ ہو اور ممکنہ زیادتیوں کے اندیشے سے لوگوں کو احتجاج پر آمادہ کرے۔’کالا قانون’ کی اصطلاح کو سب سے پہلے انگریزوں ہی نے میکالے کے ١٨٣٦ میں جاری کیے گئے اُس قانون کے خلاف استعمال کیا تھا جس کے تحت دیوانی مقدمات میں انگریزوں کو ہندوستانی جج کی عدالت میں پیش کیا جاتا۔ انگریزنے اسے گوری نسل کی توہین قرار دیتے ہوئے ‘کالے قانون’ کا نام دیا تھا۔ ہندوستان میں جس کالے قانون کی مخالفت ہوئی وہ ١٩١٩ میں انگریز حکومت کا جاری کردہ ‘رولٹ ایکٹ’ تھا۔ اس کے تحت کسی بھی ہندوستانی کو مقدمہ دائر کیے بغیر حراست میں رکھا جاتا۔ اسی قانون کی آڑ میںجنرل ڈائر نے جلیاں والا باغ امرتسر میں جلسہ کے حاضرین پر گولی چلا کر قتل عام کیا تھا۔ کالا رنگ بعض اوقات کسی پُراسرار کیفیت کو ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے کالا چور کی اصطلاح کسی نامعلوم شخص کی حیران کن واردات کے لیے استعمال ہوئی ۔ اسی طرح ‘دال میں کالا’ کسی عجیب گڑ بڑ کی
طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ ہوائی جہاز کا ‘بلیک بکس’ کالے رنگ کا نہیں ہوتا مگر دوسری عالمی جنگ میں رائل ایر فورس کے پائلٹوں نے اس ڈبہ میں رکھے خفیہ ساز وسامان کی وجہ سے اس کا نام بلیک باکس رکھ دیا۔ کالا رنگ اس میں صرف ایک پُراسرار کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اندھیرے کی تمثیل دینے کے لیے بھی کالے رنگ کو اختیار کیا گیا۔’کال کوٹھری ‘ اس تنگ وتاریک قید خانے کو کہا جانے لگا جس میں سنگین جرائم کرنے والوں کو قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانیہ میں ہوائی بموں سے بچنے کے لیے لوگ رات کو اپنے گھر کی بتیاں بجھا دیتے تو یوں گردو پیش اندھیرا رکھنے کی اس کاروائی کو ‘بلیک آوٹ’ کہا گیا ۔ اسی جنگ کے دنوں میں جب روزمرہ کی اشیا ئے ضرورت کا راشن مقرر کیا گیا تو بعض لوگوں نے چوری چھپے تجارت شروع کر دی ۔تب ‘بلیک مارکیٹ’ کی اصطلاح آئی۔ یہ کالا بازاری اور غلط منافع خوری کا سلسلہ پھیلتا گیا اور ١٩٧٥ تک قانونی مالی وسائل پر منحصر معاشی نظام کے متوازی غیر قانونی طور پر جمع کی ہوئی دولت کی بنیاد پر ایک نئی معیشت ابھری جسے ‘کالا دھن’ کا نام دیا گیا۔ غلط طریقہ سے اور لوگوں کو ڈرا دھمکا کررقم اینٹھنے کے لیے ‘بلیک میل’ کا لفظ انگریزی زبان سے مستعار لیا گیا۔ ایک جماعت میں رہتے ہوئے اُسے نقصان پہنچانے، ساتھیوں میں پھوٹ ڈالنے اور کسی کے مقاصد کو پورا کرنے کی خاطر جاسوسی کرنے والے کو ‘کالی بھیڑ’ کا نام دیا جاتا ہے۔ ایسے جادو ٹونے جس میں بھوت پریت اور خبیث روح کو جگایا جائے تو اسے ‘کالا جادو’ کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی نقصان کی بات کرے اور وہ نقصان ہو کر رہے تو اسے ‘کالی زبان’ سے یاد کیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں کالے رنگ کو ماتمی رنگ کے طور پہ استعمال کیا جاتا پھر یونانیوں ، رومیوںاورمغربی ایشیا میں بھی سیاہ پوشی سوگ کی علامت بن گئی۔ ان تمام حوالوں کے باوجود ہمارے ہاں اب بھی اپنی محبوبہ سے ”کالاجوڑا” پہننے کی فرمائش کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:  پشاور کا نوحہ