وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ملاقات

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی امریکی وفد سے ملاقات،سائفر کا معاملہ اٹھا دیا

ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے امریکی وفد سے ملاقات کے دوران سائفر کا معاملہ اٹھا دیا ۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے نیو یارک اسٹیٹ اسمبلی اور امریکی پاکستانی پبلک افئیرز کمیٹی ممبران کے وفد نے ملاقات کی ،وفد کی قیادت نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فل روماس کر رہے تھے۔
متعلقہ صوبائی کابینہ اراکین چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے علاہ صوبائی حکومت کے دیگر متعلقہ حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ملاقات کے دوران سائفر کا معاملہ اٹھاتے ہوئے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سائفر کے معاملے سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک کنفیوژن پیدا ہوئی ہے، کنفیوژن کو دور کرنے کے لئے اصل حقائق کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیویارک اسٹیٹ اسمبلی امریکی کانگریس کے ذریعے اس معاملے کی تحقیقات کروانے میں کردار ادا کرے۔
ملاقات میں صوبہ خیبر پختونخوا اور نیویارک اسٹیٹ کے درمیان اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ تعلقات کو فروغ دینے سے متعلق معاملات پر گفتگو کی گئی جبکہ دونوں حکومتوں کے درمیان مختلف سماجی شعبوں میں باہمی تعاون اور اشتراک کار کے ممکنہ مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
وفد نے صحت، تعلیم، تجارت، ہیومین ریسورس سمیت دیگر شعبوں میں خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ باہمی تعاون اور اشتراک کار پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئیمفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے پر بھی اصولی اتفاق کیا ۔
ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا حکومت اور نیویارک اسٹیٹ کے درمیان نرسنگ ایکسچینج پروگرام اور ٹیلی ہیلتھ پروگرام شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیراعلٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوامی فلاح و بہبود کے مختلف شعبوں میں امریکی حکومت کے تعاون اور اشتراک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے،خیبر پختونخوا حکومت اور نیویارک اسٹیٹ کے درمیان باہمی اشتراک اور تعاون سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیاحت، معدنیات، زراعت اور پن بجلی سمیت دیگر شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں،صوبائی حکومت استعداد کے حامل شعبوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کر رہی ہے صوبائی حکومت ان شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گی۔
علی امین گنڈاپورکا مزید کہنا تھا کہ ہم عمران خان کے وژن پر عمل کرتے ہوئے اپنے مسائل کو مواقع میں تبدیل کرنے پر کام کر رہے ہیں، خیبرپختونخوا میں ہیلتھ کارڈ اسکیم کے تحت صوبے کی سو فیصد آبادی کو مفت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، صحت کارڈ کے طرز پر ایجوکیشن کارڈ کے اجرا پر بھی کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکول سے باہر بچوں کا سکولوں میں داخلہ اور خواتین کی شرح خواندگی میں اضافہ صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں سے ایک ہے،صوبائی حکومت کو بیرون ممالک اعلیٰ تعلیم کے لئے طلبہ کو اسکالرشپس کی فراہمی، ووکیشنل ٹریننگ میں تعاون درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کی 60فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جس پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،صوبے کی ہنر مند افرادی قوت سے دونوں حکومتیں استفادہ کر سکتی ہیں۔
وفد نے خیبر پختونخوا حکومت کی پولیس، ہیلتھ اور ایجوکیشن ریفارمز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لئے خیبرپختونخوا حکومت کے اقدامات لائق تحسین ہیں۔
وفدنے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنگلات کے رقبے کو مجموعی رقبے کے 26 فیصد تک بڑھانا صوبائی حکومت کی اہم کامیابی ہے۔

مزید پڑھیں:  زرعی آمدن پر انکم ٹیکس 77 سالہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عائد