محرم سیکورٹی پلان

پشاور میں محرم سیکورٹی پلان تیار ،14ہزار پولیس افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گے

ویب ڈیسک: کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے محرم الحرام سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی،14ہزار پولیس افسران و اہلکار محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے۔
خصوصی سکیورٹی پلان کے مطابق شہر میں سکیورٹی مزید بہتر بنانے کی خاطر جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سنٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں تمام روٹس اور دیگر اہم و حساس مقامات اور مشتبہ افراد کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے بھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔
اہم تقاریب اور جلوسوں کو تھری لئیر سکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ گزرگاہوں میں موجود تمام اونچی عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کئے جائیں گے جبکہ تمام روٹس کا از سر نو جائزہ لے کر نئے سکیورٹی آڈٹ کی روشنی میں گن پوسٹس اور پلگنگ پوائنٹس پر اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔
محرم کے دوران شہر کی سکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے بکتر بند گاڑیاں بھی حساس مقامات پر موجود رہیں گی جبکہ آر آر ایف، اے ٹی ایس،کیو آر ایف، لیڈیز پولیس، بی ڈی یو، ابابیل سکواڈ، سٹی پٹرولنگ فورس کے جوانوں کے ساتھ ساتھ ڈی ایس بی کے جوان بھی سکیورٹی کو موثر بنانے کے لئے اپنے فراض سر انجام دیں گے۔
عاشورہ محرم کے دوران ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لئے ٹریفک پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت محرم الحرام کے دوران ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کی خاطر ایک ہزار سے زائد ٹریفک پولیس کے اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔
شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں اور اہم مقامات پر سپیشل ناکہ بندیاں لگا کر چیکنگ مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ شہر میں داخل ہونے والے تمام مشتبہ افراد اور گاڑیوں کی کڑی نگرانی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
افغان مہاجرین کو کیمپ تک محدود کرکے ان کے شہر میں داخلہ پر بھی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اندرون شہر کی سکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لئے محرم کے آخری ایام میں تمام گاڑیوں کے داخلہ پر مکمل پابندی ہو گی ۔
محرم الحرام کے دوران جلوسوں ، امام بارگاہوں ، دیگر مذہبی عبادت گاہوں اور حساس مقامات سمیت شہر بھر کی مانیٹرنگ کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جہاں سے سی سی ٹی کیمروں کے ذریعے تمام حساس مقامات، امام بارگاہوں ، روٹس اور دیگر اہم جگہوں کی نگرانی کی جائے گی ۔
کوہاٹی میں سپریم کمانڈ پوسٹ قائم کی جائے گی جہاں ریزرو پولیس، بی ڈی یو، لیڈیز پولیس، ڈی ایس بی، ایمبولینس، ریسکیو 1122،فائر بریگیڈ،واپڈا،نادرن سوئی گیس، ضلعی انتظامیہ ، کیپٹل میٹرو پولیٹن کے اہلکار اوردیگر اداروں سے تعلق رکھنے والے افسران و اہلکار ہمہ وقت موجود رہیں گے۔

مزید پڑھیں:  شہدا کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ڈی آئی خان حملے کی مذمت