بجلی گرانے کا تسلسل

وزیر توانائی اویس لغاری نے کمال اعتراف کیا ہے کہ وطن عزیز میں بجلی کی قیمت زیادہ ہے۔ واضح رہے عالمی مالیاتی ادارے کی ایک اور اہم شرط پرعمل درآمد کرتے ہوئے وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کی منظوری دی۔جس پر عملدرآمد سے بجلی کے بنیادی ٹریف میں اضافے سے بجلی صارفین پر تقریباً 600 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔بجلی کی فی یونٹ قیمت65 روپے روپے سے تجاوز کر گئی ہے جوگھریلو صارفین اور کاروباری طبقے سبھی کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اتنی مہنگی بجلی سے لوگوں کے گھر روشن نہیں ہو سکتے اور تاجر برادری کی صنعت نہیں چل سکتی۔جس پر ملک بھر میں عوام اور تاجر برادری اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ حکومت کو مناسب طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے بجلی صارفین کو ریلیف پہنچانا چاہئے۔ بجلی کے صارفین باقی شعبوں میں ٹیکس چوری کا بوجھ بھی برداشت کر رہے ہیں۔حکومت ٹیکس کے متبادل نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دے اور آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کرے تو صارفین کو ریلیف پہنچانا آسان ہو سکتا ہے۔معاشی بحالی کے لئے بجلی صارفین کو ریلیف پہنچانا لازم ہو چکا ہے ۔لیکن بجائے اس کے کہ حکومت عوام کے مسائل و مشکلات کا ادراک کرتی اس اعتراف کے باوجود کہ بجلی مہنگی ہے مزید مہنگی کر دی گئی جولائی کے مہینے کے جو بجلی بل آئیں گے وہ صارفین کا ہوش اڑا دینے کے باعث ہوں گے عوام آخر کب تک یہ بھاری بوجھ اٹھاتے رہیں گے اور حکومت آخر کب تک عوام سے وصولی کا یہ آسان طریقہ ہی آزمائے گی سوالات اور مشکلات تو بہت ہیں مگر حل اور جواب کسی کے پاس نہیں بلکہ مزید بار ڈالنے ہی کو حل سمجھ لیا گیا ہے۔