وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا طلب

لاپتہ افراد کیس: پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو طلب کرلیا

ویب ڈیسک: پشاور ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو طلب کر لیا۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے لاپتا افراد کے کیس میں اضافہ ہونے اور پولیس اور سی ٹی ڈی حکام کی جانب سے لوگوں کی رہائی کے عوض بھاری رقومات طلب کرنے پر وزیراعلی علی امین گنڈاپور کو کو طلب کرلیا۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سنگل بنچ نے لاپتا افراد کے کیسز کی سماعت کے دوران کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب وزیراعلیٰ ہیں، وہ خود آکر عدالت میں پیش ہوں۔
سماعت کے حکم نامے میں کہا گیا کہ گلبرگ سے صوابی کے رہائشی کو اغوا کیا گیا اور اب پولیس 70 لاکھ روپے طلب کررہی ہے، خیبر پختونخوا میں روز بروز لاپتا افراد کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ لاپتا افراد کے رشتہ داروں کی جانب سے پولیس اور سی ٹی ڈی حکام کے اس عمل میں ملوث ہونے کی شکایات آرہی ہیں، پولیس اور سی ٹی ڈی پر الزام ہے کہ وہ ان لاپتا افراد کی رہائی کے بدلے بھاری رقوم طلب کررہے ہیں جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے مزید کہا کہ پولیس کے خلاف ان واقعات کی شکایات بڑھ رہی ہیں اور آئے روز پولیس اور سی ٹی ڈی حکام کے خلاف ایسے الزامات لگ رہے ہیں، عدالت کے پاس اس کے سوا دوسرا کوئی چارہ نہیں کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا کو عدالت طلب کیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کی موجودگی میں واقعات رونما ہورہے ہیں، لہٰذا بتایا جائے ان کا اس سلسلے میں کیا کردار رہا ہے اور اب تک ان واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟
پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو 22 جولائی کو طلب کرلیا۔

مزید پڑھیں:  پی ٹی آئی کے 91اراکین قومی اسمبلی کی فہرست آج جمع کرائے جانے کا امکان