آٹھ شعروں کی غزل پر ٹیکس کاٹا جائے گا

کیا کیا جائے؟ بندہ بشر جو ہویا ، اگر کوئی پرانی کہانی ، کوئی داستان ، کوئی کہاوت یاد آجائے تو مجبوری کا نام شکریہ ،ایسی ہی ایک قدیم دور کی سینہ بہ سینہ چلتی ہوئی کہانی یاد آگئی ہے جوکسی ایسے ملک کے بارے میں ہے جسے اگر حالات کے تناظر میں ”ٹیکسستان”کا نام دیا جائے تو شاید غلط نہ ہو گا کیونکہ داستانوں کے اندر اس مملکت کا کوئی نام نہیں لکھا”۔ تو جناب قصہ مختصر کچھ یوں ہے کہ وہاں کے باشندے بادشاہ سلامت کی جانب سے مسلسل ٹیکسوں کی زد پررہتے تھے ، اس کے باوجود”خوش تھے مطمئن تھے ، سرنیوہاڑے اپنے کاموں سے غرض رکھتے تھے کیونکہ انہیں صدیوں سے یہی سبق یاد کرایا گیا تھا کہ ان کا کام مملکت کے معاملات میں مداخلت کرکے حکمرانوں کے لئے مسائل کھڑے کرنا نہیں ہے بلکہ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا ، ہی ان کا مقدر ٹھہرایا جا چکا ہے ، یہی وجہ تھی کہ بے چارے کئی نسلوں سے ”برہمنوں” کے انہی راگوں پر سردھنتے ہوئے چپ چاپ زندگی گزارتے رہنا وہ اپنا نصیب سمجھے بیٹھے تھے اس لئے جہاں تک عوام کا لانعام کا تعلق ہے وہ تو اپنے نصیبوں پر”فرحاں و شاداں” ہی تھے مگر نہ جانے بادشاہ سلامت کو ایک دن کیا سوجھی کہ اپنے وزیروں ، مشیروں سے پوچھ بیٹھے کہ اس بات کی خبر ہمیں کیسے ملے گی کہ رعایا ہم سے خوش بھی ہے کہ نہیں؟ کئی مشورے سامنے آنے کے بعد بالآخر ایک وزیر باتدبیر کا یہ ”قیمتی مشورہ” مان لیا گیا کہ کیوں نہ ان لوگوں پر جو صبح صبح شہر پناہ سے مرکزی دروازے کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے باہر جاتے ہیں اور شام سے پہلے پہلے واپس آتے ہیں ان پر شہر کے گرد گہری خندق کوپار کرنے کے لئے قائم پل پر چوکی سے گزرتے ہوئے ایک اور ٹیکس لگا دیا جائے ؟ مشورہ اچھا تھا ،بلکہ بہت ہی اچھا تھا اور تاریخ کے اوراق میں یقینا کہیں نہ کہیں کسی بابا وانگایاناسڑے ڈیم نے لکھ رکھا ہوگا کہ یہی وہ مشورہ تھا جس سے آنے والی صدیوں میں ایک ایسا عالمی ادارہ وجود میں آئے گا جس کا نام انگریزی کے حروف آئی ایم ایف کو ملا کر رکھا جائے گا ، خیر جانے دیں ، آئی ایم ایف کا ذکر چھیڑیں گے تو ہماری کہانی ادھوری رہ جائے گی ، تو جناب اس مشورے کے بعد اس پر عمل درآمد کا آغاز کردیا گیا اور دیگر ضروری ، غیر ضروری ، نمائشی ، غیر نمائشی ، کوش کن ، خوش کردار ، خوش گفتار یعنی قوس قزح کے سات رنگوں سے بھی بڑھ کر کئی نت نئے رنگوں اورنسلوںکے ٹیکسوں کی زنبیل سے ایک اور ٹیکس عوام پر نافذ کر دیاگیا اور شہر پناہ کے مرکزی دروازے سے ملحق پل پر گزرنے کے عوض ایک اور ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا گیا، عوام چونکہ صدیوں سے برہمنوں کی ان ہدایات پر خاموشی کے ساتھ سر دھنتی آرہی تھی بلکہ ضرورت پڑنے پر دھمال تک ڈالنے پر آمادہ ہوجایا کرتی تھی اور کچھ من چلے تو یہاں تک کہہ دیتے تھے کہ اگر فلاں فلاں چیز کی قیمت دس گنا بھی ہو جائے تو وہ پھر بھی خریدیں گے ، چونکہ ان دنوں لوگ گھوڑوں ، گدھوں ، خچروں اور گھوڑا و گدھا گاڑیوں کو استعمال میں لاتے تھے جبکہ پٹرول ، ڈیزل کا نام و نشان تک نہیں ہوتا تھا اس لئے ممکن ہے کہ یہ جومہنگی سے مہنگی تر ہونے کا بیانیہ انہوں نے بنایا ہوا تھا تو یہ گھوڑوں ، گدھوں کے راتب کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں ہو ، بہرحال انہوںنے خوشی خوشی اس دور کے آئی ایم ایف کا تجویز کردہ ٹیکس ادا کرنے پر کوئی ردعمل دینے کی کوشش کی نہ کوئی اعتراض کیا بلکہ اپنے ملک ٹیکسستان کی ترقی کے لئے اسے ضروری سمجھتے ہوئے خاموشی اور خوشی سے اسے قبول کیا مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں یعنی ”سنگ آمد و سخت آمد” والی صورتحال کا انہیں ابھی سامنا کرنا ہے ، بادشاہ نے پوچھا کہ عوام کی جانب سے کوئی ردعمل تونہیں آیا ، جواب نفی میں پاکر فیصلہ کیاگیا کہ اب ہر شخص کو پل پر سے آتے جاتے ٹیکس ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سر پرایک چپل کھانابھی پڑتا تھا ، چند روز تک تو خاموشی رہی مگر پھر عوام کے اندر اس حوالے سے چہ میگوئیاں زور پکڑنے لگیں بادشاہ تک اس دور کی ”سی آئی اے ”نے رپورٹ پہنچئی تو بادشاہ خوش ہوگیا کہ چلو عوام کوکسی بات پر تو تشویش لاحق ہوئی اور ان کی صفوں میں ”بے چینی” کی کیفیت نے جنم لے ہی لیا ، ہر کارے دواڑ دیئے گئے اور حکم دیا گیا کہ معلوم کرو عوام میں کیوں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے ، پتہ چلا کہ چپل سر پر کھانے کی وجہ سے کام پر جاتے اور واپس گھروںکوآتے ہوئے لمبی قطاریں کھڑی ہوتی تھیں اس لئے چپل رسید کرنے والوں کی تعداد بڑھائی جائے گویا انہوں نے اس دور کے کسی فیض کے نظریات میں پناہ لے کر لب کھول ہی دیئے تھے یعنی
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے
نظم کے درمیان سے کئی مصرعے ضرورت کے تحت نکال دیئے ہیں ، تاکہ ماضی الضمیر کی وضاحت میں آسانی ہو۔بہرحال ہم نے اس حوالے سے تھوڑی بہت تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس دور میں چونکہ امریکہ ابھی دریافت نہیں ہوا تھا اس لئے وہاں ٹیکسستان سے کوئی جا کر اس قسم کے خیالات کا اظہار بھی نہیں کر سکا تھا ، اور اگر اس دور کے کسی شاعرنے ایسی کوئی غزل کہی ہوتی تو تاریخ کے اوراق میں ضرور محفوظ ہوتی جیسی کہ ٹیکسستان سے ہجرت کرنے والے خالد عرفان نامی کسی شاعر نے پیش کی ہے کہ
بڑھ گیا خرچہ موبائل فون کا اور فیکس کا
حکم جاری ہو گیا ہے اب وفاقی ٹیکس کا
حسرت دیدار پر ، اشکوں کی طغیانی پہ ٹیکس
وہ جو نلکوں میں نہیں آتا ، اسی پانی پہ ٹیکس
شوہر مظلوم کی دل پھینک آزادی پہ ٹیکس
ایک شادی کی رعایت دوسری شادی پہ ٹیکس
طفل دوئم پر جب”این او سی”طلب فرمائیں گے
پہلے بچے کے بقایاجات مانگے جائیں گے
اور سب کو ہے معافی صرف بدحالوں پہ ٹیکس
شاعروں پہ، منشیوں پہ اور قوالوں پہ ٹیکس
اتنے پیسوں میں کہاں سے گھر میں آٹا جائے گا
آٹھ شعروں کی غزل پر ٹیکس کاٹا جائے گا

مزید پڑھیں:  سیاسی و معاشی مسائل