اسرائیل جنگ بندی معاہدے

اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے باوجود کشت و خون کا خواہاں

اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے باوجود کشت و خون کا خواہاں ہے، معاہدہ اپنی جگہ لیکن اپنے جنگی مقاصد کا حصول مقدم ہے، نیتن یاہو
ویب ڈیسک: جنگ بندی معاہدے کے باوجود جنگی مقاصد کے حصول کیلئِے جنگ جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے میں اسرائیل کو اپنےجنگی مقاصد پورے کرنےکی اجازت بھی ہونی چاہیے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ معاہدے کے تحت حماس کو مصری سرحد سے اسلحہ سمگلنگ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور معاہدے میں لکھا جائے کہ مسلح عسکریت پسند شمالی غزہ واپس نہیں آئیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنا آیا جب حماس اپنے اس مطالبے سے پیچھے ہٹ گیا ہے کہ صیہونی معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے مستقل جنگ بندی کا عہد کرے گا۔
دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق نومنتخب برطانوی وزیراعظم سر کئیر سٹارمر نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس سے تیلی فونک رابطہ کیا۔
انہوں نے غزہ اور لبنان میں موجودہ صورتحال پر دونوں رہنماوں سے تبادلہ خیال کیا۔ دنیا بھر کے دیگر رہنماوں کی جانب سے بھی جنگ بندی کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن نیتن یاہو جنگ جاری رکھنے پر بضد ہے.
امریکہ کی جانب سے بھی اب حمایت کی بجائے جنگ بندی پر زور دیا جا رہا ہے تاہم اسرائیلی ضد اپنی جگہ قائم ہے. دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ نے بھی چارج سنبھالتے ہوئے سب سے پہلا کام نیتن یاہو کو فون کر کے کیا اور اس دورانجنگ بندی کے معاہدے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا.

مزید پڑھیں:  پنجاب سے تعلق رکھنے والے بہن بھائی سٹیفا نہر میں ڈوب گئے