الیکشن کمیشن اور لاہور ہائیکورٹ

الیکشن کمیشن اور لاہور ہائیکورٹ کو ٹریبونلز بارے بامعنی مذاکرات کی ہدایت

ویب ڈیسک: الیکشن کمیشن اور لاہور ہائیکورٹ کو ٹریبونلز بارے بامعنی مذاکرات کرنے کی ہدایت سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے 8 الیکشن ٹریبونل کی تشکیل کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔
سپرپم کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور لاہور ہائی کورٹ دفتر قابل احترام اور آئینی ادارے ہیں۔ دونوں بامعنی مشاورت کریں تو معاملہ حل ہو سکتا ہے۔
اٹارنی جنرل نے بھی حکم نامے سے اتفاق کیا کہ بامعنی مشاورت ہونی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے 2 جولائی کو اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو متفقہ طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
عدالت کیس کو زیر التوا رکھ رہی ہے، یہ مناسب ہوگا کہ دونوں آئینی اداروں کے درمیان بامعنی مشاورت ہو۔
سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے جاری حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا 26 اپریل کا خط، نوٹیفکیشن اور لاہور ہائیکورٹ کا 29 مئی کا فیصلہ اور 12 جون کا نوٹیفکیشن آئندہ تاریخ تک معطل کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے حلف اٹھانے کے بعد جتنا جلدی ممکن ہو سکے دونوں آئینی اداروں کے مابین بامعنی مشاورت کی جائے جس کے فوری بعد سماعت کیلئے کیس مقرر کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن کے ٹریبونلز کے حوالے سے دونوں‌اداروں کے مابین معاملات الجھ گئے تھے اور اس حوالے سے کیس سپریم کورٹ میں پہنچ گیا تھا.

مزید پڑھیں:  پارلیمان مفلوج، حکومت ربڑ سٹیمپ کا کردار ادا کر رہی ہے، ایمل ولی خان