ہاتھی کے پاؤں

اس محاورے کی حقیقت اب عام عوام پر بھی ،جو عاوروں کی زبان سے نا بلد ہوتے ہیں، آسانی سے آشکار ہوتی جا رہی ہے اور انہیں یہ سمجھنے میں آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے اصل معنی کیا ہیں ،مہنگائی کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آنے کا سبب یہی ہے کہ یہ یوٹیلیٹی بلز میں اضافے کے بعد کے معنی کھل چکے ہیں، بجلی کے نرخوں میں حالیہ ہوشرباء اضافے کے بعد اس کے اثرات فوری طور پر زندگی کی ہر ضرورت پر پڑنے لگے ہیں ،تازہ ترین حکومتی اقدام سے بجلی کی نرخوں میں اضافے کا جو شیڈول ذرائع ابلاغ پر سامنے آیا ہے اس کی صرف گن سن پا کر ہی ابھی سے مارکیٹ میں اشیائے صرف اور دیگر شعبوں میں اضافی کی صورت عمل پذیر ہو گیا ہے، حالانکہ آئی ایم ایف کی مہربانی سے سرکار نے بجلی کی قیمت میں جو اضافہ گزشتہ روز کیا ہے اس کا اطلاق اگست میں موصول ہونے والے بلوں پر کیا جائے گا، مگر مارکیٹ اکانومی کا فلسفہ ہی یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں جو اضافہ ادا کرنا ہے اس کی وصولی ابھی سے کی جائے تاکہ تاجروں ،دکانداروں اور دیگر متعلقہ لوگوں پر اس کے جو اثرات مرتب ہوں گے ان کو ابھی سے عام آدمی کے گلے ڈال کر معاملہ برابر کر دیا جائے ،یوں تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ دالوں، سبزیوں، آٹا ،روٹیوں، دودھ، دہی وغیرہ وغیرہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگ پڑی ہیں، اوپر سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں جو اضافہ ہونے جا رہا ہے اس سے صورتحال مزید گھمبیر ہو رہی ہے، ایک بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے حکومت کی درخواست کو ٹھکرا کر ان حلقوں کے خدشات کو درست قرار دیا ہے جو عوام کے اندر پیدا ہونے والی مسلسل بے چینی کے نتائج کو” خطرناک رجحان” سے تشبیہ دے رہے ہیں، ان کا مناسب حل عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی بجائے مراعات یافتہ طبقات کو مراعات میں کمی لانے کی سوچ سے وابستہ ہے۔ مگر بلی کے گلے میں گھنٹی کون اور کیسے باندھے یہ سوال اہم بھی ہے اور قابل توجہ بھی۔