اندرونی معاملے کی بیرونی جہت

پاکستان ڈھائی برس سے”مسئلہ عمران”کے بھنور میں پھنس کر رہ گیا ہے۔عمران خان نے آزادی اور اقتدارعلیٰ کا ایسا راگ چھیڑ دیا ہے کہ تین سال ہونے کو ہیں عوام کی بڑی تعداد آج تک اس پر رقص کناں ہے۔یہ پاکستانیوں کے اندر آزادی ،حریت ،خودمختاری اور خودی کی اجتماعی خواہش کامظہر ہے۔عمران خان کی مقبولیت حدو دقیود سے اسی وقت باہر نکل پڑی تھی جب انہوں نے ایک ہجوم ِ بیکراں میں سائفر لہرایاکر قوم سے اپیل کی تھی کہ میں رہوںیانہ رہوں اپنے آزادمنش لوگوں کا ساتھ دینا۔تب سے قوم اس دھن پر رقصاں ہے۔یوں لگ رہا ہے کہ لوگوں کی سوئی خودمختار ی اور حقیقی آزادی کے نقطے پر اٹک کر رہ گئی ہے۔آزادی سے اس قدر پیار کرنے والی قوم کا قومی نشاں کشکول کو بنائے رکھنا اور اس کے لیڈروں کا ڈالروں کیلئے در در پھرنا کسی المیے سے کم نہیں۔لوگ اب چونکہ سمجھدار ہوگئے ہیں اور انہیں جدید ذرائع ابلاغ نے حساب کتاب کرنا سکھا دیا ہے اس لئے وہ یہ نتیجہ اخذ کرچکے ہیں کہ فطری طور پراس تیرہ بختی میں سب سے زیادہ حصہ اسی کا ہے جس نے سب سے زیادہ بالواسطہ اور بلاواسطہ حکومت کی ہے۔ملک کے اندر تو مسئلہ عمران اتنا گہرا اور شدید ہے کہ ہر تدبیر اْلٹی پڑ چکی ہے۔سب سے دلچسپ قصہ تو شیروں اور تیروں جیسے معتبر نشانوں کے مقابلے میں چمٹوں ،باجوں، بینگنوں، آلوئوں اورجوتوں کی فتح ہے۔آپ نے قوم کو کنفیوز کرنے کی کوشش کی جواب میں قوم نے آپ کو چکرا کر رکھ دیا اور یوں آخری چار ہ کار کے طور پر فارم سینتالیس کے نیزوں ،بھالوں اور برچھوں سے لیس ہو کر اور کھْل کْھلا کر میدان میں آنا پڑا۔جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے مسئلہ عمران کی ایک بیرونی جہت بھی طاقت پکڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔پہلے تو عالمی میڈیا نے دی اکانومسٹ اور گارڈین کی صورت میں اپنے صفحات عمران خان کی تحریروں کیلئے وقف کر دئیے اور ان کی آن لائن ریڈر شپ اور سبسکرپشن کے ریکارڈ ٹوٹ کر رہ گئے۔ اس کے بعدامریکی کانگریس نے بھاری اکثریت سے ایک ایسی قرارداد منظور کی جس نے پاکستان کے حالیہ انتخابات کی ساکھ کو صفر کر کے رکھ دیا۔ابھی اس قرارداد کی گونج فضائوں میں ہی موجود تھی کہ جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ورکنگ گروپ برائے جبری حراست نے اپنی رپورٹ میں عمران خان کی گرفتاری اور مقدمات کی ساکھ کوصفر کر کے رکھ دیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مناسب ہوگا کہ عمران خان کوفوری طور پر رہا کیا جائے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق انہیں معاوضے کا حق دیا جائے۔ورکنگ گروپ نے ان کی گرفتاری اور مقدمات کے قانونی ہونے پر بھی سوالات اْٹھائے۔اس معاملے پر حکومت پاکستان سے وضاحت طلب کی مگر جواب میں خاموشی کا سامنا کرنا پڑا۔ابھی یہ معاملہ زیر بحث ہی تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوئٹرس کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ وہ عمران خان کے حوالے سے معاملات اور صورت حال میں مثبت تبدیلی چاہتے ہیں۔یوں عمران خان کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر اظہا رناپسندیدگی کے دوواضح ثبوت سامنے آئے۔عالمی راہنمائوں کی اس سارے عمل پر ناپسندیدگی کی اطلاعات بھی وقتاََ فوقتاََ سامنے آتی ہیں مگر سفارتی آداب ان کے کھلے بندوں اظہار کی راہ میں آڑے آتے ہیں۔مثلاََ چین کایہ کہنا ہی کافی ہے کہ آپ اپنے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کریں۔چین کا گفتگو کا لہجہ اور انداز ڈپلومیسی کی اس تعبیر پر صادق آتا ہے کہ ڈپلومیسی سخت ترین بات کو نرم لہجے میں کرنے کا نام ہوتا ہے۔یہ محاورہ چینیوں کیلئے مستعمل ہے۔جو اپنی تلخی کو چہرے کے تاثرات میں ڈھلنے نہیں دیتے۔سعودی عرب اور امارات جیسے ملکوں سے خالی ہاتھ لوٹایا جانا بھی پاکستان کے موجودہ حالات پر بین الاقوامی ناپسندیدگی کے اظہار کا ہی ایک انداز ہے۔لے دے کر امریکہ کی موجودہ انتظامیہ ہی اب بھی پاکستان کے تمام حالات کو اندرونی مسئلہ قرار دے رہی ہے۔مسئلہ عمران خان کی بیرونی جہت پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا ایک ہی جواب ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔اقتدار کے مختصر عرصے میں انہوں نے اقوام متحدہ میں معرکة الآرا تقریر کرکے عالمی مقبولیت کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔یہ تقریر آج بھی اقوام متحدہ کی سب سے زیادہ سنی جانی والی تقریروں میں سب سے اوپر ہے۔آج بھی وہ عالمی سطح پر مقبول راہنمائوں میں نمایاں ہیں۔ملک کے اندر بھی ان کا یہی مقام ہے۔ان کا بین الاقوامی تعارف اور پس منظر ان کی گرفتاری اور ان کے ساتھ ہونے والے فاول پلے کو بیرونی مسئلہ بنانے کیلئے کافی ہے۔دوسرے یہ کہ ان کے پیروکاروں اور چاہنے والی پاکستانیوں کی بیرونی دنیا میں بڑی تعداد ہے۔مغرب کے آسودہ ماحول سے لطف اندوز ہونے والے یہ پاکستانی اب صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کے آبائی وطن اور جنم بھومی میں قانون کی حکمرانی کا وہی میعار ہے جو ان کے نئے ملکوں میں قائم ہے۔ریاست ان کے عزیزواقارب کے سروں پر اسی طرح مہربان چھائوں بن کر سایہ فگن ہو جیسا کہ ان کے نئے وطن میں ہے۔اس لئے عمران خان جب قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں تو اس میں بیرون ملک آباد پاکستانیوں کا ایک امید کا دیا جلتا دکھائی دیتا ہے۔اس لئے تارکین وطن عمران خان کے تصورِ پاکستان کے ساتھ جڑ کر رہ گئے ہیں۔مغربی دنیا میں چھوٹے ملکوں کو جمہوریت کے ترازوپر ہمہ وقت تولنے والے بہت سے ادارے کام کرتے ہیں۔یہاں انتخابات میں ہم نے مغرب کی پارلیمانی جمہوریت کا جس طرح جنازہ نکالا ہے اور بڑی دھوم سے نکالا ہے اس پر مغرب میں نوحہ خوانی تو ہوتی رہے گی۔اس پہلو سے مغرب کو عمران خان سے ہمدردی ہو یا نہ ہو مگر انہیں اس بات سے دلچسپی ہوگی کہ جمہوریت کہلانے والے ملک میں ان کے دئیے ہوئے نظام کا میعار کیا رہتا ہے؟۔ہم جمہوریت کی قبا کو فارم پینتالیس کی صورت میں تار تار بھی کریں اور پھر فارم سینتالیس کی صورت نیا جامہ تیا ر کرکے اسے جمہوریت کہنے پر اصرار بھی جاری رکھیں تو ا س پر”دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے”کا مصرعہ تو صادق آتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیاسے اتنے بھولپن اور سادگی کی توقع بھی رکھیں وہ ٹی شرٹ کو واسکٹ میں بدلتے بھی دیکھیں اور پھر اس بات کو قبول بھی کرلیں کہ اس واضح تبدیلی کے بعد بھی اسے ٹی شرٹ ہی کہا اور سمجھا جائے۔(عالمی اور علاقائی حالات پر کالم نگار کے تجزیے آپ ان کے یوٹیوب چینل” ”GardaabTV پر بھی سن سکتے ہیں)

مزید پڑھیں:  بالآخر پشاور کی بھی سنی گئی!