اضافی اخراجات اور محصولات

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر پاکستان اپنے ٹیکس محصولات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتا تو عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف سے مالی امداد کے پیکجز کا حصول جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی ٹیکس آمدنی میں اضافہ نہیں کرتے ہیں تو یہ ہمارا آخری فنڈ پروگرام نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگوں کو پہنچنے والا درد محسوس کر سکتے ہیں۔عوام پر اور خصوصاً تنخواہ دار افراد پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی ایک وجہ ان کی وصولی ہے تنخواہ دار افراد سے ٹیکس وصولی کا مرغوب شعبہ ہے جبکہ عام افراد سیلز ٹیکس کی مد میں ہرچیزپر ٹیکس تو دے ہی رہی ہوتی ہے بجلی ،قدرتی گیس اور ٹیلی فون کے بلوں سمیت دیگر طریقوں سے وہ بھی بڑی حد تک بالواسطہ ٹیکس نیٹ میں ہیں البتہ تاجر طبقہ اور بااثر افراد کے ساتھ ساتھ رئیل سٹیٹ کے شعبے اور دیگر کاروباری لین دین میں غیر دستاویزی طریقے اختیار کرکے ٹیکس چوری کی روک تھام نہ وہونے سے ٹیکسوں کی وصولی میں اضافہ نہیں ہو پاتااور یہ شعبے بدستور عدم تعاون اور حکومتی اقدامات کو مختلف طور طریقے اختیار کرکے ناکام بنانے پرتلے ہوئے ہیں ستم بالائے ستم یہ کہ کاروباری طبقہ چارٹرڈ اکائونٹس فرمز کو تو ٹیکس سے زائد رقم دے کر بھی ٹیکس بچانے بلکہ ٹیکس چوری پرعملی طور پر آمادہ ہے اور یہ ذہنیت ٹیکس کلچر کے فروغ کے لئے زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے اس کلچر کے خاتمے کے لئے حکومت اور ایف بی آر کو مشترکہ مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے افراد کو ٹیکس دینے پر قائل کیا جا سکے ۔وطن عزیز میں ٹیکس کو ایک بوجھ تصورکیا جاتا ہے یہ ایک ذہنی کیفیت ضرور ہے لیکن دوسری جانب ٹیکس دہندگی کے لئے جو ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے اس میں محصولات وصول کرنے والے اداروں اورحکومت دونوں کی اپنی پالیسیاں اور عوام سے دوری اپنی جگہ سب سے بڑی وجہ ہے جب لوگ ٹیکس دینے کے باوجود بجلی قدرتی گیس پانی اور یہاں تک کہ معیاری انٹرنیٹ اور شہری سہولیات کی فراہمی ہی میں حکومت کو ناکام پاتے ہیں تو وہ خود بخود منفی سوچ اپنانے لگتے ہیں اور جب تک اس طرح کی سوچ تبدیل نہیں ہو گی حکومتی اقدامات اور شہری سہولیات کی فراہمی سے عوام مطمئن نہیں ہوں گے اور ان کو یہ یقین نہ آئے گا کہ ان کے ادا کردہ ٹیکس ان کی فلاح و بہبود پر خرچ ہور ہی ہے اور حکومتی اقدامات سنجیدگی سے عوام کو سہولتوں کی فراہمی اور مشکلات میں کمی لانے کا باعث ہیں تب تک وہ خوش دلی اور دلجمعی سے ٹیکسوں کی ادائیگی کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے عوامی سوچ کا دھارابھی کچھ غلط نہیں کیونکہ یہاں عوام سے وصول شدہ رقم کے جس طرح سے بے دریغ استعمال کے مناظر سامنے آتے ہیں اس سے منفی جذبات ہی کو تقویت ملتی ہے حکومت کی جانب سے کفایت شعاری مہم کے باوجود جوحکومتی اعداد و شمار سامنے آتے ہیں وہ حوصلہ شکن ہیں۔پارلیمنٹ نے جہاں وفاقی حکومت کو رواں مالی سال کے لیے 17 کھرب روپے سے زائد اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اختیار دیاہے، اس کے ساتھ ہی سابقہ اخراجات میں اضافے اور دوبارہ تخصیص کے لیے 94 کھرب روپے کی منظوری بھی مجبوراً کر دی گئی ہے جو پچھلے سال کی رقم سے تقریبا پانچ گنا زیادہ ہے۔ایک معروف انگریزی معاصر کی رپورٹ کے مطابق تین انتظامیہ کی جانب سے کفایت شعاری اور سخت مالیاتی کنٹرول کے دعوں کے باوجود بڑے پیمانے پر زائد اخراجات ہوئے، جو پی ڈی ایم، نگران اور موجودہ حکومتی اتحاد نے معاشی استحکام کی کوششوں کے لیے شروع کی۔ان میں سے زیادہ تر سپلیمنٹری گرانٹس کو فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں سے چارج شدہ اخراجات کے طور پر بیان کیا گیا، جسے صرف اس کی معلومات کے لیے پارلیمنٹ میں پیش اور بغیر ووٹنگ کے منظور شدہ کے طور پر لیا جاتا ہے، سادہ الفاظ میں پارلیمنٹ ان گرانٹس کو مسترد نہیں کر سکتی کیونکہ رقم پہلے ہی خرچ ہو چکی ہے۔ یہ حکومتی عمل پر سوالیہ نشان لگاتا ہے جس کی وجہ سے بجٹ کے تخمینے اور اخراجات ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف ایف بی آر کے میں بدعنوانی کے خلاف کریک ڈان، میرٹ پر مبنی کلچر متعارف کرانے اور ادارے میں اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہیں تاہم وقت بتائے گا کہ ان کی حکمت عملی کتنی کامیاب ثابت ہوتی ہے ایف بی آر عام طور پر ماضی کی بیشتر حکومتوں کے لیے ایک مشکل کام ثابت ہوا ہے، اس میں اصلاحات کی کوششوں کی جیسے یہ کامیابی کی امیدہونے لگتی ہے اسے ہمیشہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات سب پر واضح ہے کہ پاکستان کی معاشی استحکام کا انحصار حکومتی پالیسیوں کے مطابق محصولات حاصل کرنے کی صلاحیت پر ہے اور ناکامی کی گنجائش اب باقی نہیں رہی۔ جاری معاشی بحران کے ساتھ، مستعد ٹیکس اتھارٹی کی ضرورت اسلام آباد کے لیے ایک وجودی ضرورت بن گئی ہے۔ایف بی آرکی آپریشنل صلاحیتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے، بجٹ میں بیان کردہ مالیاتی پالیسیوں نے اسے ایک اور بڑے چیلنج کے لیے کھڑا کر دیا ہے۔ ایف بی آر ٹیکس کی ہدایات پر پہلے سے زیادہ مستعدی سے عمل درآمد شروع کر سکتا ہے، لیکن جب مختلف”محفوظ”طبقے ایک بار پھر اپنی ٹیکس ڈرائیوز کے خلاف احتجاج شروع کر دیں گے تو حکومت کیا ردِ عمل ظاہر کرے گی؟صرف یہی نہیں، تنخواہ دار طبقے، جن پر قابو پانا عموماً بہت آسان ہوتا ہے ان کے تیور بھی بدلے ہوئے ہیں ان دنوں مختلف سماجی فورمز پر ہونے والی بحثیں ان سوالوں کی طرف بڑھ رہی ہیں کہ انہیں اتنا ٹیکس کیوں ادا کرنا چاہئے قانونی حیثیت کے بحران سے لڑنے والی حکومت کے لیے یہ ایک خطرناک علامت اور چیلنج ہے کہ وہ کس طرح ان معاملات پر قابوپا لیتی ہے۔

مزید پڑھیں:  ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی