اضافی بل بھیجنے کی روک تھام

وزیر اعظم کے سخت نوٹس اور ہدایات کے بعدوفاقی وزیر داخلہ محسن قوی نے پروٹیکٹیڈ صارفین کی اوور بلنگ کی بڑھتی ہوئی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پروٹیکٹیڈ صارفین کے خلاف اوور بلنگ کرنے والے افسروں اور عملے کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔اگرچہ بظاہر اس درجے اور نوعیت کامعاملہ نہیں کہ اس پر وزیر اعظم احکامات دیں اور وزیر داخلہ بلاتاخیر عملی اقدامات کی متعلقہ محکمے کو ہدایات جاری کریں لیکن جولوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں وہی اس مسئلے کی نوعیت کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ سال میں ایک مرتبہ حساب کتاب برابرکرنے کے لئے جان بوجھ کر اضافی یونٹ ڈال کر اضافی بل بھیجتے ہیں اور بعد میں درجہ بدرجہ اس اضافے کو آئندہ ماہ میں منقسم طریقے سے برابر کرتے ہیں اس سے ان کی ضرورت تو پوری ہوجاتی ہے اس طرح کی اوور بلنگ زیادہ تر سرکاری اداروں خصوصاً بلدیہ ، ایری گیشن اور اس طرح کے دیگر محکموں کے ٹیوب ویلز اور ان کے دیگر بڑے مصارف کی حامل تنصیبات اور بالعموم سرکاری دفاتر مختلف کمپنیوں اور عوام سبھی کے لئے ان کی یہی پالیسی رہی ہے ایسے میں سب سے زیادہ متاثر ہ طبقہ ان صارفین کی ہوتی ہے جن کے بجلی کابل دوسو یونٹ سے کم ہوتا ہے لیکن ان کو دوسو ایک یونٹ کا اضافی بل یعنی صرف ایک یونٹ کے اضافے سے تقریباً 24سو روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرناپڑتا ہے نیز آئندہ چھ ماہ تک وہ رعایتی کے درجے سے نکل جاتے ہیں یہاں ایک انتہا درجے کی بددیانتی ہے جو عام گھریلو صارفین کے ساتھ ہوتی ہے جن کو ایک جانب بدترین لوڈ شیڈنگ بھگتنی پڑتی ہے تو دوسری جانب ناجائز اور اضافی رقم کا مجبوراً بھتہ بھی دینا پڑتا ہے اس ”بھتہ خوری” کا نوٹس اور اس کے انسداد کے احکامات ملک کے لاکھوں بلکہ کروڑوں صارفین کے لئے بڑا ریلیف ہے بشرطیکہ اس پر سنجیدگی سے عملدرآمد کا ماحول یقینی بنایا جائے اور ایف آئی اے اپنی ذمہ داری پوری کرے زیادہ مشکل نہیں کہ جو صارف سال بھرسو یونٹ سے بھی کم اور ڈیڑھ سو یونٹ یا کچھ زیادہ بجلی صرف کرنے کا ریکارڈ رکھتا ہے اس کے بل میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ ہو بہتر ہوگا کہ ایف آئی اے اس حوالے سے ایک مرکز شکایات کااجراء کرے اور صارفین سے واٹس ایپ پر میٹر پر یونٹ کی تفصیل لے صارفین میٹر ریڈنگ کے دن میٹر کی ریڈنگ تصویر اور ویڈیو کے ذریعے محفوظ کرکے شکایت کی صورت میں اس کو بطور ثبوت پیش کرسکتے ہیں۔