جعلسازی کے بڑھتے واقعات

ملک بھر میں جعلی شناختی کارڈ جعلی پاسپورٹ اور جعلی بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے حوالے سے جتنی تحقیقات ہوں گی اور اس کا دائرہ کار جتنا وسیع کیا جائے گا اتنے ہی انکشافات سامنے آئیں گی اخباری اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں غیرقانونی طورپر53ہزارسے زائد کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جاری ہونے اور ان میں سے خیبرپختونخو امیں 595گاڑیاں مذکورہ شناختی کارڈ ز پر رجسٹرڈ ہونے کی نشاندہی کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ساڑھے سات ہزار سے زائد مشکوک اور جعلی شناختی کارڈز رکھنے والے افرادکے خلاف مقدمات تیار کرلئے گئے ہیںجس کے تحت ان کی موبائل فون سمز بلاک کرنے اور ان کی جائیدادوں اور کاروبار کی نشاندہی کرکے انہیں واپس بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔بار بار سامنے آنے والے جعلسازی کے واقعات سے ملکی وقار کو دھچکہ لگ رہا ہے اور سرکاری ادارے اس کو روکنے میں بری طرح ناکامی کا شکار نظرآتے ہیں جس کی بڑی وجہ ملی بھگت اور بدعنوانی کے علاوہ باہم روابط کا نا ہونا یا کمزور وغیرفعال روابط اور لاپرواہی کے ساتھ ذمہ داری کا واضح تعین نہ ہونا بھی ہے ان حالات میں جعلسازی کی روک تھام کے لئے نئے محکمے اور نظامت کی ضرورت بڑھ گئی ہے اس ذمہ داری کو مختلف محکموں میں دو ملائوں میں مرغی حرام کے مصداق بنانے کی بجائے ایک مربوط نظام پرمشتمل محکمہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ذمہ داری کاواضح تعین ہو اور محکمے ایک دوسرے کے پیچھے چھپنے کی بجائے واضح طور پر ذمہ داراور جواب دہ ہوں۔

مزید پڑھیں:  بہتی گنگا