طلسم خواب زلیخا و دام ، بردہ فروش

قول فصیل اسے ہی تو کہتے ہیں جو بوقت ضرورت نہ صرف یاد آئے بلکہ کام بھی آجائے ، سردار اسلم رئیسانی بھی ایسے یہ لوگوں میں شامل ہیں جنہوںنے ویسے تو لاتعداد بیانات دیئے ہیں مگر ان کا ایک قول ، قول فصیل ہی کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ قول اتنا مشکل ، ادق بھی نہیں کہ جس کی سمجھ آسانی سے نہ آسکے ، یعنی وہ جو مرزا غالب پر ایک ہم عصر نے الزام لگایا تھا کہ
اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے
مزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھے
کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے
مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے
تو ایسا الزام سردار اسلم رئیسانی پر نہیں لگایا جا سکتا اور وہ جو انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا نقلی ، تو غالباً ان کے اس قول صدید کی جودھوم مچی تو شاید یہی وجہ تھی کہ ایک باکمال شخص نے دو تین کمروں کے ایک دفتر میں ایک ”خود ساختہ” یونیورسٹی قائم کرکے ”آستانہ عالیہ” کی طرف پر دنیا بھر سے ایپلائی کرنے والے مریدین کو آن لائن ڈگریاں بطور سوغات بانٹنے کا دھندہ شروع کرکے کروڑوں ڈالر کے ”نذرانوں” سے استفادہ کیا ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی البتہ ایک مربوط اقدام ضرور تھا کیونکہ شنید ہے کہ اس قسم کی اسلم رئیسانی فیم ڈگریاں کسی زمانے میں ہمارے ہاں درہ آدم خیل میں بھی بنتی اور چند سو یا ہزار روپوں کے عوض بانٹی جاتی رہی ہیں ، بہرحال جو سردار رئیسانی اچانک یاد آگئے ہیں تو اس کا کارن بھی ایک مبینہ جعلی ڈگری ہی ہے ، جس کے بل پر دعوے کئے جارہے ہیں کہ مملکت ناپرسان میں ایک جج صاحب نے نہ صرف عرصہ درا زتک قانون کے شعبے میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں مقدمے لڑ کر اپنے موکلوں کو ”انصاف” دلوایا یعنی کوئی ہارا تو کوئی جیتا ہو گا کہ مقدمے بازی میں ہارجیت تو لگی رہتی ہے ، باقی موکلوں کی اپنی قسمت ہوتی ہے کہ مقدمے کا فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے یا پھر خلاف اور جب اس حوالے سے ہار جیت کے بعد لوگ اس کی ذمہ داری وکیل کے سرباندھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس حوالے سے ایک اور مشہور وکیل کا یہ فرمانا بھی بہت وائرل ہوچکا ہے کہ وکیل مقدمہ کبھی نہیں ہارتا ، بلکہ یہ تو موکل ہوتا ہے جو ہارتا ہے یاجیت جاتا ہے وکیل کاکام تو مقدمہ لڑنا ہوتا ہے اس لئے مقدمہ لڑتے ہوئے موکلوں کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وکیل کی فیس کم یا زیادہ ہونے سے مقدمے کے میرٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا وہی جیسے کہ تقسیم سے پہلے ایک قتل کے مقدمے کو لے کر قاتل کا والد ایک وکیل کے پاس گیا تو اس نے معقول فیس مانگی ، قاتل کاوالد فیس کی رقم سن کر تذبذب میں پڑ گیا اور پھر کسی کے مشورے پر شہر کے ایک بہت بڑے وکیل سے مشورہ کیا تو اس نے کئی گنا زیادہ فیس کا مطالبہ کیا وکیل چونکہ ایسے مقدمات کے حوالے سے بہت شہرت رکھتا تھا تو مطلوبہ فیس ادا کرکے قاتل کے والد نے مقدمہ اس کے حوالے کر دیا چند سماعتوں میں استغاثہ کی جانب سے مضبوط ثبوتوں کی وجہ سے قاتل کے خلاف عدالت نے پھانسی کا حکم دے دیا ، عدلت سے مایوس لوٹتے ہوئے قاتل کے والد کو دیکھ کر اس کم فیس والے وکیل نے ساتھ میں آنے والوں سے پوچھا کیا ہوا؟ تو اسے بتایا گیا کہ قاتل کو پھانسی کا حکم دے دیاگیا ہے کم فیس والے وکیل نے کہا یہی فیصلہ تو میں کم فیس میں دلوا دیتا اس میں کونسی مشکل تھی؟بقول اخترسیماب
ستائش رخ جاناں میں نطق و لب کھولیں
بھرا ہو پیٹ اگر ہم بھی فارسی بولیں
بات جس جج صاحب کی جعلی ڈگری کی چلی ہے اس کے حوالے سے مملکت ناپرسان میں نہ صرف اس جج صاحب کے بڑے چرچے ہیں بلکہ ان کے دیگر تین ساتھیوں کے حوالے سے بھی ایک درخواست دائر کرنے کی اطلاعات وائرل ہو رہی ہیں جن میں سے ایک کے خلاف ”گرین کارڈ” ہولڈر ہونے ، دوسرے کے بارے میں ایک ہائوسنگ سکیم میں حصہ دار ہونے اور تیسرے کی بیٹی پر قتل کے الزام میں محولہ جج صاحب کی جانب سے اثر و رسوخ استعمال کرکے اپنی صاحبزادی کو بچانے کیلئے مختلف حربے استعمال کرنے جسے الزامات لگائے جارہے ہیں ، شنید ہے کہ انہوں نے ایک اور خط لکھ کر بڑے ”قاضی” سے مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ از خود نوٹس لے کر ان درخواستوں کو ”ردی کی ٹوکری”میں پھینکنے کا حکم صادر فرمائیں ، سو دیکھتے ہیںکہانی کدھر جاتی ہے ! مگر وہ جو عزیزحامد مدنی نے کہا تھا کہ
طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
تو ہمیں امریکہ کے اس جج کی یاد آگئی ہے جو ابھی چند ماہ پہلے اپنے منصب سے خود ہی سبکدوش ہو گئے ہیں یاد رہے کہ بہت سے مغربی ممالک میں جج صاحبان اپنی مرضی سے ریٹائر ہوتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے لئے حد کی کوئی قید نہیںموصوف کی ریٹائرمنٹ کے وقت ان کو جس عقیدت و عزت کے ساتھ رخصت کیا گیا وہ مناظر دیدنی تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسائلستان کے ان ججوں کی طرح نہیں تھے جن کے ”کارنامے” نہ صرف ان کی دوران ملازمت ، بعد ازملازمت یعنی ریٹائر ہونے بلکہ ان کی دنیا سے رخصتی کے بعد بھی ان کے حوالے سے تبصرے ان کیلئے شرمندگی کا باعث ہوتے ہیں ، خیر تو محولہ امریکی جج صاحب کے لاتعداد فیصلے سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جوان کی عزت و توقیر کاباعث ہیں مگر ایک مقدمہ تو سن اور دیکھ کرلوگوں کی آنکھوں میں آنسو امڈ آتے ہیں ، ان کے سامنے ایک دس بارہ سال کے سیاہ فام بچے کو لایاگیا جس پر ایک گروسری سٹور سے ایک ڈبل روٹی چرانے کا الزام تھا جج صاحب نے بچے سے ڈبل روٹی چرانے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس کی ماں تین دن سے بھوکی تھی ، ان کے پاس پیسے نہیں تھے تو اسے مجبوراً چوری کرنا پڑی جج نے بچے کو دس ڈالر جرمانہ کیا اور اپنی جیب سے دس ڈالر نکال کر اس کا جرمانہ بھرنے کے ساتھ ساتھ عدالت میں موجود تمام لوگوں کو بھی دس دس ڈالرجرمانے کی سزا سناتے ہوئے یہ رقم اس بچے کو دینے کا حکم دیا اور کہا کہ جس معاشرے میں مظلوموں کو بھوکا رہنا پڑے اس کے تمام افراد کو جرمانہ کرنا چاہئے ۔ اس واقعے کے تناظر میں جب مسائلستان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو وہاں کے عدالتی نظام پر یہی تبصرہ کیا جا سکتا ہے یعنی بقول مظفر وارثی
شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے ، بدنام خرد ہوتی ہے