اختلافات نہیں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ، پارٹی رہنمائ، سابق وزیر اعلیٰ، وزراء اور سپیکر کے اپنے بیانات کو دہرا کر بڑا الزام لگایا ہے کہ محولہ عہدیداریہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو پیسے دیتے رہے ہیں۔ صوبائی بجٹ میں تنظیموں کو ادائیگی کے لئے فنڈز رکھے جائیں گے تو دہشت گردی کے خلاف کیسے جنگ ہوگی؟ خیبرپختونخوا حکومت پچھلے 15 سال سے دہشتگردوں کی سہولت کار بنی ہوئی ہے۔دریں اثناء سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر عزم استحکام آپریشن مسترد کرتے ہوئے مداخلت سے پاک انتخابات کرانے ، کسی بھی نئے آپریشن سے قبل پچھلے تمام آپریشنز کا مکمل اور شفاف آڈٹ کرانے، صوبے کے اندر سکیورٹی کے تمام امور پولیس کے حوالے کرنے ، چیک پوسٹوں سے فوجی اہلکاروں کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا موقف ہے کہ موجودہ وقت میں سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کی خراب صورتحال اور دہشت گردی میں اضافہ ہے۔ صوبہ میں افراتفری ہے عوام اور تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں جبکہ صوبہ بھر میں حکومتی رٹ دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ مقررین نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں رات کے وقت عملی طور پر دہشت گردوں کی حکومت ہوتی ہے موجودہ حالات میں عوام کا مذاکرات اور آپریشن دونوں پر اعتماد نہیں رہا ہے کسی بھی حکمت عملی سے قبل پارلیمان، عوام، سیاسی جماعتوں اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے امن کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست اس ذمہ داری کو پوری کرنے میں ناکام ہے ۔سابق وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے صوبے میں امن وامان اور سیاسی جماعتوں کے صوبے میں امن وا مان کے حوالے سے موقف اور خیالات میں ہم آہنگی موجود ہے البتہ دہشت گردی کے خاتمے اور طریقہ کار کے حوالے سے خیالات میں بعد ہے اس امر کو ہر جانب سے تسلیم کیا جاتا ہے خود صوبائی حکومت بھی اس سے انکار نہیں کر سکتی کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں اور دہشت گردی کے واقعات تسلسل سے پیش آرہے ہیں جب اس حوالے سے تطہیری عمل میں کی بات ہوتی ہے تو اسے صوبائی حکومت اور بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنا کر تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے اور متضاد حل تجویز کی جاتی ہے جب دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے ا تفاق رائے موجود ہے تو پھر اس کے انسداد کے حوالے سے بھی اتفاق رائے پیدا کرنے میں چنداں مشکلات درپیش نہیں ہونی چاہئے وزیر اعظم نے مجوزہ آپریشن عزم استحکام کے حوالے سے کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کاعندیہ دیا تھا جس میں شرکت کے حوالے سے تحریک انصاف کے بانی کا جو حوصلہ افزا رد عمل سامنے آیاتھا اس کے بعد اس کے انعقاد میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے تھا مگر خود حکومت کی جانب سے اس حوالے سے ہنوز کسی ٹھوس پیشرفت کا نہ ہونا حکومتی دلچسپی پر سوالیہ نشان ہے ۔امر واقع یہ ہے کہ صوبے میں انسداد دہشت گردی کی مربوط مساعی کو مزید مربوط بنانے کی ضرورت ہے جس کے لئے صوبائی حکومت کا تعاون ضروری ہے جس سے پس و پیش کی کیفیت ہے ایسے میں پی پی پی کے جوانسال چیئرمین کا ماضی وحال کے آئینے میں محولہ بیان قابل غور ہو جاتا ہے انہوں نے جن عہدیداروں اور حکمرانوں پر نکتہ چینی کی ہے اگراس تناظر میں دیکھا جائے تو موجودہ وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب پربھی محولہ عناصر کو ”اپنے صوبے”سے دور رکھنے کی قیمت کی ادائیگی کے الزامات لگتے رہے ہیں انہوں نے تو ایک مرتبہ ان سے مفاہمانہ شکوہ کا بھی برملا ا ظہار کیا تھا جس پربڑی تنقید ہوئی تھی اسی فارمولے پر افغانستان میں نیٹو فورسز کے بھی کاربند ہونے کی اطلاعات تھیں البتہ بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو افغانستان سے بغیر کسی پیشگی شرائط اور طریقہ کار طے کرکے واپسی کی جو راہ کھولی گئی وہ بہرحال ایک ایسا داغ ہے جسے دھونے کے لئے دہشت گردوں کا سر کچلنے کے اقدامات کی ٹھوس اور عملی بنیادوں پر صوبائی حکومت کو تعاون کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے جس سے اس غلطی کا ازالہ ہوسکتا ہے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہترکرنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں جہاں خود وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا آبائی علاقہ سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار علاقہ بن جائے وہاں تحفظات کے اظہار کی گنجائش نہیں اور نہ ہی سی ٹی ڈی ٹی کو وفاق سے ملنے والے خطیر وسائل سے اس قابل بنایا گیا کہ وہ یہ ذمہ داری انجام دینے کے قابل ہو جب اپنے پاس استعداد اور صلاحیت نہ ہواور مرکزی سطح پرکسی مساعی کی مخالفت کی جائے توپھر اس کی وہ تشریح اور تشبیہ ہی ہوگی جس طرف بلاول بھٹو زرداری نے اشارہ کیا ہے جہاں تک سیاسی جماعتوں کے تحفظات کا تعلق ہے ان کو دور کرنے کا بہتر فورم کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد اور اس فورم پر وسیع البنیاد نمائندگی کو یقینی بنانا ہے تاکہ جملہ معاملات پرمکمل اتفاق رائے کی کیفیت ہو اور انسداد دہشت کا اختتامی باب لکھا جاسکے۔

مزید پڑھیں:  مرے کو مارے شاہ مدار