اسرائیلی فضائی حملےمیں29فلسطینی شہید

اسرائیلی فضائی حملےمیں29فلسطینی شہید ، درجنوں زخمی

ویب ڈیسک: غزہ مِیں پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملےمیں29فلسطینی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ جنگ بندی مذاکرات پر سوالات اٹھنے لگے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ میں صیہونی افواج کی جانب سے ایک سکول کے قریب پناہ گزین کیمپ پر ایئر سٹرائیک کی گئی۔ اس ظلم و بربریت سے جام شہادت نوش کرنے والے معصوم اور نہتے فلسطینیوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنوبی غزہ میں خان یونس شہر کے مشرق میں اباسان الکبیرہ قصبے میں العودہ سکول کے قریب قائم پناہ گزین کیمپ کو اسرائیلی فضائیہ نے نشانہ بنایا۔ اس اسرائیلی فضائی حملےمیں29فلسطینی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صیہونی حملے میں زخمی ہونے والے افراد میں زیادہ تر کی حالت تشویش ناک ہے، جس کے باعث شہداء کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
یاد رہے کہ جس سکول کو نشانہ بنایا گیا وہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام تھا اور اس سکول میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہاں زخمیوں کے علاج کیلئے ایک جزوقتی طبی سنٹر بھی بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب حماس نے اسرائیلی حملے کے بعد خبردار کیا ہے کہ شہریوں پر اس بہیمانہ و ظالمانہ حملوں سے جنگ بندی مذاکرات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے جنگ بندی مذاکرات ایک بار پھر نقطہ آغاز پر آ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ تازہ اسرائیلی فضائی حملےمیں29فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔
اس حملے کے بعد اسماعیل ہنیہ نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ثالثی کرنے والوں سے اس حوالے سے فون پر بات چیت کی ہے جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی فوج کو مذاکرات کے ممکنہ خاتمے کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا۔
اسرائیل کے اس حملے سے مذاکرات کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے حماس کی جانب سے بتایا گیا کہ نیتن یاہو غزہ میں جنگ بندی مذاکرات میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ جنگ بندی ہو بلکہ ان کی جانب سے ہر بار جنگ جاری رکھنے کا ہی بیان دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر حماس نے ثالث ممالک سے نیتن یاہو کے جرائم کو روکنے کے لیے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے چند روز قبل کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے کے تحت اسرائیل کو جنگ کے اہداف حاصل ہونے تک جنگ جاری رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
حماس نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ جنگ بندی کیلئے لچک اور مثبت سوچ کے ساتھ آگےبڑھتے ہیں تو نیتن یاہو مذاکرات میں مزید رکاوٹیں ڈال دیتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ جنگ رکے، وہ غزہ میں کارروائیوں کو مزید ہوا دے رہا ہے۔

مزید پڑھیں:  ملک و قوم کی بقا کیلئے عوامی اتحاد حکومت کے گھٹنے ٹیک دیگی، مفتی محمد تقی