ٹیکس لگنےکےبعدادویات مارکیٹ سےغائب

ٹیکس لگنےکےبعدادویات مارکیٹ سےغائب ،عوام خوار

ٹیکس لگنےکےبعدادویات مارکیٹ سےغائب ہو گئیں، عوام جان بچانے والی ادویات کے حصول کیلئے خوار ہونے لگے، شوگر، عارضہ قلب اور گردوں کے امراض کی میڈیسن مارکیٹ سے ہی غائب۔
ویب ڈیسک: ٹیکس لگنےکےبعدادویات مارکیٹ سےغائب ہونے پر ضلع نوشہرہ میں عوام دہائیاں دینے لگے۔ ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ موجودہ ظالمانہ بجٹ سے ادویات پر پہلے بجٹ کے مقابلے میں تین گنا ذیادہ ٹیکس لگا دیئَے گئے۔
ٹیکس لگنے سے فارمیسی طبقہ کے ساتھ ساتھ شہری بھی متاثر ہونے لگے، ادویات پر ون پرسنٹ ایڈوانس ٹیکس سے بڑھا کر 2 اعشاریہ 05 کردیا۔ اس کے علاوہ بعض ادویات پر جی ایس ٹی بھی 17 اعشاریہ 18 فیصد کردی گئی۔
ایسے میں فارماسسٹ سمیت عوام کا کہنا تھا کہ ادویات کی اضافی قیمتیوں سے تو پہلے عوام پریشان تھے، اب کاروبار بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔ صرف یہی نہیں شوگر، دل سمیت دیگر جان بچانے والی ادویات کی نہ صرف قیمتیں بڑھ گئیں بلکہ مارکیٹ میں بھی نہیں مل رہیں۔
حکومت نے عوام کو ادویات کی مد میں ریلیف دینے کی بجائے ان کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔ پہلے سے موجود مہنگائی کے باوجود عوام کو اب علاج معالجہ کی سہولت سے ہی محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ غریب شہری اور فارماسسٹ موجودہ ٹیکسوں سے پریشان حال ہیں۔
فارماسسٹس اور شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ تمام تر ادویات پر ٹیکس ختم کیا جائے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔
یاد رہے کہ حالیہ بجٹ کے بعد بجلی کے بلوں سمیت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں جہاں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے وہیں ادویات پر بھی ٹیکس لگا کر ان کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دی گئی ہیں جس سے براہ راست غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہو رہا ہے.

مزید پڑھیں:  آپریشن عزم استحکام کیخلاف قرارداد منظور، وفاق صوبے کو اعتماد میں‌لے