بہتی گنگا

معاشی طور پر بدحال اور مقروض ملک میں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں اشرافیہ بدستور مصروف ہے صدرپاکستان کے قافلے کے لئے مختص بجٹ میں چار سوگنااضافہ کردیاگیا ہے وزیراعظم کے شاہانہ اخراجات اور اراکین قومی اسمبلی و سینٹ سمیت ان اداروں کے ملازمین کے مراعات میں بھی معقول سے زیادہ اضافہ کر دیاگیا ہے خیبر پختونخوا اسمبلی میں تھوک کے حساب سے بھرتیوں کے حوالے سے میڈیا میں حال میں تفصیلات آئی تھیں تازہ خبر کے مطابق وزیر اعلی سیکرٹریٹ پشاور کے اخراجات میں گزشتہ سال کی نسبت امسال 59 کروڑ65لاکھ روپے کا اضافہ متوقع ہے جبکہ گورنر سیکرٹریٹ کے اخراجات میں 9کروڑ 19 لاکھ روپے کا اضافہ متوقع ہے۔ صوبائی حکومت نے دونوں سیکرٹریٹس کیلئے اضافی بجٹ منظور کیا ہے ۔ محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کی دستاویز کے مطابق مالی سال 2023-24میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کا خرچ 70کروڑ85لاکھ 56ہزار روپے رہا جبکہ مالی سال 2024-25میں وزیر اعلی سیکرٹریٹ کیلئے ایک ارب 30کروڑ50لاکھ 91ہزار روپے رکھے گئے ہیں جو گزشتہ برس کی نسبت 59کروڑ65لاکھ 35ہزار روپے اضافی ہیں بجٹ میں اضافہ کی وجہ صوابدیدی فنڈ میں 25گنا اضافہ اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہے گزشتہ برس وزیر اعلیٰ صوابدیدی فنڈ میں ایک کروڑ 82لاکھ 19ہزار روپے خرچ کئے گئے تھے رواں برس اس مد میں 50کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔اس کی جوبھی توجہیہ پیش کی جائے قابل قبول اس لئے نہیں کہ صرف یہی نہیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بجٹ سے کہیں اضافی اخراجات کرکے بعد میں اس کی منظوری لینے کا سلسلہ الگ ہے اس کی تفصیلات بھی آج ہی کے ہمارے اخبار میں موجود ہے ایک جانب عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے جاں بلب ہیں اور دوسری جانب حکومت قرضوں پہ قرضہ لئے جارہی ہے اور صرف موجودہ حکومت کے مختصر مدت میں قرضوں میں بھاری اضافہ ہوامگراس کے باوجود اس ملک و قوم اور یہاں کے عوام کا کسی کو بھی احساس نہیں ان کے اللے تللوں میںکوئی کمی نہیں آئی یہی وہ حالات ہوتے ہیں جو عوامی غیض و غضب کو دعوت دیتے ہیں اور عوام شاہوں کے محلات کارخ کرتے ہیں کچھ تو خوف خدا کریں خدارا۔

مزید پڑھیں:  پشاور کا نوحہ