امتحانی نظام طشت ازبام

انجینئرنگ یونیورسٹیز میں داخلوں کے لئے ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈایو لیوشن ایجنسی ایٹا کے زیر اہتمام ہونے والے انٹری ٹیسٹ کے نتائج بھی دوسرے امتحانی نتائج کی طرح مایوس کن آنا ہمارے تعلیمی و تدریسی نظام اور طلبہ کے استعداد پرسوالیہ نشان ہے المیہ یہ ہے کہ امتحان میں نوے سے ننانوے فیصد نمبر حاصل کرنے والے بھی انٹری ٹیسٹ میں اوسط درجے کے طالب علموں کے برابر یا پھران سے بھی کم نمبر لیتے ہیں جس سے پرچوں کی مارکنگ اور نظام امتحانات پر انگشت نمائی بلاوجہ نہیں بلکہ ملی بھگت اور امتحانات میں ناجائز ذرائع کے استعمال کا عقدہ کھلتا ہے تھوک کے حساب سے نمبر لینے والے ٹیسٹ میں شامل طلبہ میں سے اکثر نے50 فیصد نمبرز بھی حاصل نہ کرسکے انجینئر نگ یونیورسٹی پشاور میں انٹری ٹیسٹ کیلئے 3ہزا ر 895 امید واروں نے ٹیسٹ میں حصہ لیاتھا لیکن ان میں سے 3ہزار370 امید وار50 فیصد نمبرز حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے جو امید وار ایٹا ٹیسٹ بھی پاس نہ کر سکے ہیں ان میں سے بعض امیدواروں نے میٹرک ا ور ایف اے اور ایف ایس سی میں ٹاپ پوزیشن لی تھی ان نتائج پر ہر جانب سے تنقیدفطری امر ہے۔صوبے میں تعلیم کے معیار اور آئے روز مسابقت کی فضاء میں اضافے سے جو خلیج بنتی جارہی ہے وہ اساتذہ امتحانی عملہ اور بورڈز کے حکام کے ساتھ ساتھ خود حکومت کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے جس پرتوجہ نہ دی گئی تو صوبے کے بورڈوں میں کامیاب ہونے والے اہل طالب علم بھی متاثر ہوں گے اور صوبے کے تعلیمی استعداد کی کوئی وقعت نہ رہے گی۔

مزید پڑھیں:  سچ اور جھوٹ کے درمیان