پی ڈبلیو ڈی ختم

وفاقی کابینہ نے پی ڈبلیو ڈی ختم کرنے کی منظوری دے دی

ویب ڈیسک: وفاقی کابینہ نے پاکستان پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی)ختم کرنے کی باقاعدہ منظوری دیتے ہوئے وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے پاکستان انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی بنانے کا اعلان کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جہاں وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی سفارش پر پی ڈبلیو ڈی ختم کرنے کے لائحہ عمل کی منظوری دی گئی۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ پاک پی ڈبلیو ڈی کے عملے کی درجہ بندی کے بعد متعلقہ وزارتوں میں منتقلی ہوگی اور گولڈن ہینڈ شیک اسکیم عمل میں لائی جائے گی، ملک میں پاک پی ڈبلیو ڈی کی تمام املاک کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کی جائے گی۔
منظورشدہ لائحہ عمل کے مطابق وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے پاکستان انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی بنائی جائے گی جبکہ وفاقی حکومت کی زیر نگرانی صوبائی نوعیت کے تمام ترقیاتی منصوبوں کو متعلقہ صوبائی اداروں کے حوالے کیا جائے گا۔
کابینہ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پی ڈبلیو ڈی کو تفویض شدہ دیکھ بھال اور مرمت کے کام جاری رکھنے کے لیے ایسٹ اینڈ فیسیلیٹی مینجمنٹ کمپنی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
کابینہ نے ہدایت کی کہ ٹرانزیشن کا یہ عمل دو ہفتوں کے اندر اندر مکمل کیا جائے۔
وفاقی کابینہ کو وزیر خزانہ کی سربراہی میں حکومتی حجم کو کم کرنے کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کی اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، امورکشمیر و گلگت بلتستان، ریاستوں اور سرحدی امور، صنعت و پیداوار اور قومی صحت کی وزارتوں کے غیر ضروری ذیلی ادارے بند کرنے اور ضروری اداروں کی رائٹ سائزنگ کے حوالے سے بنیادی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
عمل 12جولائی تک مکمل ہو جائے گا، کمیٹی ان معلومات کی بنا پر متعلقہ وزارتوں کی مشاورت سے تجاویز مرتب کر کے کابینہ کو اگست کے پہلے ہفتے تک پیش کرے گی۔
19جولائی سے وفاقی حکومت کی دیگر وزارتوں سے اس نوعیت کی معلومات حاصل کر کے دیگر اداروں کو بند یا ضم کرنے کی سفارشات مرتب کی جائیں گی۔
کابینہ نے ملک میں قانونی طور پر رہائش پذیر 1.45 ملین افغان مہاجرین، جن کے پروف آف رجسٹریشن کارڈز کی معیاد 30 جون 2024 کو ختم ہو چکی ہے، ان کے پی او آر کارڈز کی مدت میں ایک سال یعنی 30 جون 2025 تک توسیع کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارتِ ہاسنگ اینڈ ورکس کی سفارش پر پشاور میں فیڈرل لاج نمبر II کی عمارت دفتری استعمال کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی۔
کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر ملک کے مختلف شہروں میں ایپیلیٹ ٹریبیونل ان لینڈ ریونیو کے بینچوں سے 7 اکانٹنٹ ممبران کو واپس ایف بی آر بھیجنے اور وزارت کی جانب سے نامزد 14 افسران کو ایپیلیٹ ٹریبیونل ان لینڈ ریونیو کے بینچوں پر تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت قومی صحت کی سفارش پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے معیار پر پورا نہ اترنے کی بنا پر بہاولپور میڈیکل کالج کی 19 اپریل 2024 سے تسلیم شدہ حیثیت ختم کرنے کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے کے-الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں حکومت پاکستان کی جانب سے جاوید قریشی کو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام ریاستی اداروں کے غیر فعال اور نا مکمل بورڈز آف ڈائریکٹرز میں دو ہفتوں کے اندر پیشہ ورانہ طور پر اچھی شہرت کے حامل افراد تعینات کر کے ان کو فعال بنایا جائے۔

مزید پڑھیں:  جرمنی میں افغان شہریوں کا پاکستانی قونصل خانے پر حملہ