بجلی صارفین کیلئے رعایت؟

وزیر اعظم شہبازشریف نے 200یونٹ والے صارفین کو بجلی کے نرخ میں تین ماہ کے لئے رعایت کا اعلان کرتے ہوئے پروٹیکٹڈ، نان پروٹیکٹڈ صارفین بجلی کے لئے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے لیا ہے ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 200یونٹ تک صارفین کو تین ماہ ، جولائی ، اگست اور ستمبر کے لئے رعایت دی جارہی ہے ، ڈھائی کروڑ بجلی صارفین کو 4 روپے سے 7 روپے یونٹ فائدہ ہو گا جبکہ ان صارفین کو 50ارب کی سبسڈی د ی جارہی ہے جہاں تک بقول وزیر اعظم شہباز شریف ڈھائی کروڑ بجلی صارفین کو 50 ارب کی سبسڈی دینے کا تعلق ہے تو اس قسم کے دعوئوں کو درست قرار دینے میں کئی سوال ابھرتے ہیں ، سب سے اہم پہلو اس معاملے کا یہ ہے کہ جس طرح آئی ایم ایف کے دبائو پر (جس کی تصدیق خود حکومتی ذرائع بھی کرتے ہیں) ملک میں بجلی کی مختلف سلیب بنا کر (قدرتی گیس کے معاملے میں بھی یہی ظالمانہ طریقہ پہلے ہی اختیار کیا جا چکا ہے) اور صرف ایک یونٹ کے اضافے سے دو چار سو نہیں پورے پانچ ہزار روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے جوکسی بھی قانون کے تحت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور غریب عوام سے مجموعی طور پر اربوں روپے بٹور لئے جاتے ہیں ، اس حوالے سے سوشل میڈیا پر احتجاج کئے جانے کے بعد وزیر اعظم نے بھی اس زیادتی بلکہ ظلم کا نوٹس لیتے ہوئے غریب عوام کو اضافی یونٹ ڈال کر بھاری بھر کم بل بھجوانے والوں کے خلاف ایکشن لینا پڑا ، مگر گزشتہ مہینوں میں اس قسم کے اضافی بل بھیج کر جو اربوں روپوں کا ٹیکہ عوام کو لگایا گیا وہ رقم کہاں گئی ، ظاہر ہے ، ناجائز طور پر اکٹھی کی جانے والی اربوں روپوں میں سے اگربقول وزیر اعظم پچاس ارب کی سبسڈی دینے کے دعوئے کئے جارہے ہیں تو یہ سبسڈی نہیں بلکہ وہی ناجائز طور پر اکٹھی کی جانے والی عوام ہی کی رقم ہے جس کو اب سبسڈی کا نام دیا جارہا ہے ، بدقسمتی سے گزشتہ کئی برس سے مختلف منتخب یا نگران حکومتوں کا عوام پر بھاری بھر کم ٹیکس عاید کرکے نہ صرف حکومتوں کے شاہانہ اخراجات پورے کرنے بلکہ اپنے اللوں تللوں کو جاری رکھنے کا رویہ ایک جیسا ہی رہا ہے اور اگر ہم اس حوالے سے مبینہ لوٹ مار کے الزامات لگانے سے احتراز بھی کریں تب بھی عوام کی چمڑی اتارنے کے فلسفے پر گزشتہ تمام حکومتیں ہمیشہ ایک پیچ پر رہی ہیں جبکہ ان حکومتوں نے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ناجائز اخراجات سے ہاتھ کھینچنے کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی اور سوشل میڈیا پراس حوالے سے جو خبریں ، تصاویر وغیرہ وائرل ہوتی رہی ہیں بلکہ اب بھی ا کثر ایسی سرگرمیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے ، جن میں ایک ایک افسر کے پاس کئی کئی لگژری گاڑیاں ، دیگر مراعات جبکہ منتخب نمائندوں کے حوالے سے ملک و قوم کے غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ”عیش و عشرت” کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں جہاں تک ٹیکسوں کی بھر مار کا تعلق ہے تو عوام ہی ان کی زد میں آتے ہیں جو بالواسطہ اور بلا واسطہ اربوں ، کھربوں کے ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہیں ، مگر مراعات یافتہ طبقات نہ صرف ان ٹیکسوں سے اثر انداز نہیں ہوتے بلکہ الٹا بے پناہ مراعات سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے عوام ہی پر بوجھ بنے ہوئے ہیں ، عام غریب آدمی کو تو ایک ایک یونٹ بجلی کی نہ صرف مقررہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے بلکہ اس سلیب سسٹم کی وجہ سے دو سو یونٹ میں صرف ایک یونٹ اضافے کے بعد یہی ایک یونٹ اسے پانچ ہزار روپے کا پڑتا ہے جبکہ دوسری جانب ملک کے مراعات یافتہ طبقات(جن کی تعداد دو چار لاکھ ہی ہو سکتی ہے ) کو مال مفت دل بے رحم کے مصداق لاکھوں یونٹ بجلی مفت دیدی جاتی ہے ، یہ انصاف کے تقاضوں کے بالکل برعکس ہے اور دنیا بھر میں اس ظلم کی مثال اور کسی ملک میں نہیں ملتی ، وزیر اعظم کی یہ بات بالکل درست ہے کہ ہم نے 2023ء میں نواز شریف کی قیادت میں ریاست کو بچا کر سیاست کو دائو پر لگایا ، ریاست کو نہ بچایا ہوتا تو کہاں کی ریاست ، کہاں کا بجٹ ؟ تاہم اب یہ جو عوام پر ٹیکسوں کی بھر مار کی جارہی ہیں اس میں سے اگر مراعات یافتہ طبقات کوبھی حصہ دیا جائے یعنی ان کو مفت بجلی دینے کا یہ سلسلہ ختم کیا جائے تو یقینا اس سے غریب عوام کو ریلیف ملے گا ، انصاف اور عدل کا تقاضا یہ ہے کہ یہ سلیب سسٹم ختم کرکے ہر صارف کو اس کے استعمال شدہ یونٹس کے مطابق ہی بل ادا کرنے کا حق دیا جائے ، نہ کہ صرف ایک یونٹ کے اضافے سے پانچ ہزار اضافی(وہ بھی اگلے چھ مہینے تک) رقم ادا کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ آئی ایم ایف کی شرائط ملکی مفاد میں ہر گز نہیں ہیں بلکہ اس کے (اللہ نہ کرے) سنگین نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں جس کی وضاحت ایک فارسی مقولے ”تنگ آمد بجنگ آمد” سے کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں:  سیاسی و معاشی مسائل