بالآخر پشاور کی بھی سنی گئی!

صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کے فروغ کے لئے صوبائی دارالحکومت پشاور میں بین الاقوامی معیار کا سائبر سکیورٹی ادارہ قائم کرنے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی ہدایات کے تحت ایک اجلاس میں فیصلے کو اگر”بالآخر پشاور کی بھی سنی گئی” کے الفاظ سے تعبیر کیا جائے تو اس میں کوئی امر مانع نہیں ہوسکتا ، بدقسمتی سے ماضی میں کئی حکومتوں کے ادوار میں اس قسم کے جو بھی منصوبے سامنے آئے ان کے لئے پشاور کے نام قرعہ کبھی نہیں نکلا ، بلکہ اس دور کے برسر اقتدار اہم حکمرانوں نے ایسے تمام منصوبوں کو اپنے آبائی اضلاع میں شروع کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے ہمیشہ پشاور کو جو صوبائی دارالحکومت ہونے کے ناتے اہمیت کا حامل ہے نظر انداز کیا ، اس حوالے سے انہی کالموں میں 18دسمبر 2023ء کو ہم نے اس دور کے نگران وزیر اعلیٰ کی جانب سے آئی ٹی کے شعبے میں ایبٹ آباد اور ہری پور میں کوانٹم ویلی کے نام سے منصوبے پر یہی گزارش کی تھی کہ دو اہم صوبوں کو ضلع ہزارہ ہی میں قائم کرنے سے صوبے کے دیگر اضلاع میں مایوسی پھیلے گی ہم نے ہی گزارش کی تھی کہ ان میں سے ایک بے شک ایبٹ آباد یا ہری پور جبکہ دوسرا پشاور میں قائم کیاجائے تاکہ دیگر قریبی اضلاع کے طالب علم بھی آسانی سے اس سے مستفید ہوسکیں ، بہرحال اب جبکہ سائبر سیکورٹی کے ادارے کا قیام پشاور میں کیا جارہا ہے تو اس سے دیگر اضلاع کے جو ہر قابل کو بھی بھرپور استفادہ کرنے کا موقع ملے گا۔

مزید پڑھیں:  سیاسی پارٹی پر پابندی