ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی

خیبر پختونخواہ میں حالیہ دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے ایک دوست نے بڑی بے بسی کے عالم میں کہا کہ یوں لگتا ہے ہم نے آنکھیں بند کر لی ہیں اور حقائق معلوم کیے بغیر ایک عرصہ سے ایسے افسوسناک واقعات کو روز کا معمول سمجھ لیا ہے ۔ ہم یہ جانتے ہی نہیں کہ ہمیں کہاں ہانکا جا رہا اور ہمارا مُلک کتنے بڑے ریاستی ، سماجی اور سیاسی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے ۔ یہاں تو یہ صورتحال ہے، ورثا اپنے مقتولین کی لاشیںسڑکوں پہ رکھ کر پوچھتے ہیں کہ ہمارے ان پیاروں کو کس نے مارا ہے ۔ گزشتہ کئی ادوار سے حکومتی عمل دخل واجبی سا دکھائی دیتا ہے کہ دہشت گرد مسلسل اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔ دوست کی ان باتوں سے مجھے یاد آیا کہ چند سال پہلے مذہبی منافرت سے متاثرہ خاندان کے ایک بزرگ سے ان کے بیٹے اور بھائی کی موت پر تعزیت کرنے گیا ۔ بزرگ نے بھی بے بس ہو کر کہا کہ مرحوم ہونے والوں کا دکھ زیادہ ہے لیکن اس خلش نے بے چین کیا ہوا ہے کہ آخر ان کا قاتل کون ہے ۔ ان المناک واقعات ، عدم استحکام اور کمزور معیشت کے باوجود ہم لوگ محض سیاسی شخصیات کی پوجا پاٹ، گالم گلوچ اور ان کی اچھائی بّرائی کے حوالے سے اُلجھے ہوئے ہیں بلکہ ایک لڑائی میں اُلجھا دئیے گئے ہیں ۔
المیہ یہ ہے کہ اس صورتحال پہ روزانہ بلا سوچے سمجھے دانشوری دکھانے والوں کو بھی اتنی اہمیت دی جاتی ہے کہ سب افلاطون بنے پھرتے ہیں مگر اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ہوگا ؟تعصبات ، تنگ نظری اور نفرت نے پوری قوم کو اتنا کمزور اور تقسیم کیا ہوا ہے کہ ماضی میں جب بلوچستان کی ہزارہ برادری ایسے سانحات سے دوچار ہوئی تو اسے گروہی معاملہ قرار دیا گیا، مذہبی تقریبات اور مقامات پر دہشت گردی ہوئی تو اسے مسلکی فرقہ واریت کا نام دیا گیا ، خیبر پختونخوا میں تو آپریشن بھی ہوئے اور معاہدے بھی مگر طالبان کا اثر ختم نہ ہو سکا ۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور اس کے قریبی اضلاع میں دہشت گردی کے لگا تار واقعات ، بہت سے علاقوں پر طالبان کے قبضہ اور صوبہ بھر میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال کو مد نطر رکھتے ہوئے حکومت نے ایک عرصہ بعد ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کے مطابق عزم استحکام پاکستان کے نام سے ایک نئے آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اب اس حوالے سے بھی سیاسی بیان بازی شروع ہو گئی ہے ، بہت سی سیاسی جماعتیں جو پہلے طالبان کی موجودگی اور دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کیے ہوئے تھیں مگر اب سیاسی مخالفت کے باعث حکومت کی جانب سے اس آپریشن کی تائید نہیں کر رہے ۔ یہ مانا کہ ماضی میں دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن ہوئے، مقامی لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی اور کئی علاقوں میں امن بھی قائم ہوا لیکن دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہ ہو سکا ۔ اس لیے اب دوبارہ آپریشن کا نام سنتے ہی متاثرہ علاقہ کے لوگوں میں جہاں خوف کی لہر دوڑ گئی وہاں کچھ شکوک نے بھی جنم لیا ہے کہ آخر یہ مسّلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیوں نہیں ہوتا ، افغانی طالبان اگر امریکہ کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں تو پھر حکومت اپنے مقامی طالبان کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں کر تی ۔ ہاں پہلے کئی مذاکرات ہو بھی چکے ہیں اور اس کی ناکامی پہ بھی لوگ معترض ہیں کہ بات چیت کے بعد بھی مسّلہ جوں کا توں رہا ۔ مذاکرات کے طریقہ کار اور اس میں شامل لوگوں پہ بھی اعتراضات ہوئے ، جن کی وجہ سے کامیابی نہ ہو سکی ۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ اگرایک علاقہ یا کوئی مخصوص سوچ رکھنے والے طالبان سے بات ہو رہی ہوتی تو دوسری طرف کسی اور علاقہ کے طالبان سے جنگ جاری رہتی ۔ گویا کوئی فریق بھی سنجیدہ نہ تھا۔
عسکری قیادت نے کور کمانڈرز کانفرنس میں پائیدار استحکام اور معاشی خوشحالی کیلئے آپریشن عزمِ استحکام کو دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے کیلئے وقت کا اہم تقاضا قرار دیا ہے ۔ اس وقت مُلک میں تیز رفتار معاشی بحالی اور سرمایہ کاری کے لیے ساز گار ماحول اور امن کی بہت ضرورت ہے، جس کو یقینی بنانے کے لیے دہشت گردی جیسی رکاوٹ کو ہر صورت ختم کرنا ہو گا ۔ تاہم ملک بھر میں سیاسی، سماجی، صحافتی اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جارہاہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ جو اہل دانش اور محب وطن لوگ نیک نیتی پر مبنی سنجیدہ خدشات رکھتے ہیں تو ان کے موقف کو نہ صرف سنا جائے بلکہ اُنہیں اعتماد میں بھی لیا جائے ۔ وزیر اعظم نے سیاسی جماعتوں کے تمام تحفظات کو دور کرنے اور قومی اعتماد حاصل کرنے کی خاطر کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کا درست فیصلہ کیا ہے اور تحریک انصاف کی قیادت نے بھی افہام و تفہیم کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنے پر آمادگی ظاہر کرکے اہم قومی امور پر مفاہمت کے امکان کو روشن کیا ہے۔ اس پیش رفت کو کامیاب بنانا لازمی ہے بلکہ مقتدر حلقوں اور سیاسی قیادت کی یہ قومی ذمہ داری بنتی ہے ۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ سب سے بڑھ کر ہے ۔ اس ضمن میں شرح و آئین اپنی جگہ مگر قاتل کا تو کچھ کرنا چاہیے ۔

مزید پڑھیں:  قابل تقلید اقدام