آزاد فلسطین کا نعرہ لگانے

آزاد فلسطین کا نعرہ لگانے پر طالبعلم یو اے ای سے ڈی پورٹ

فلسطین کی حمایت میں نکلنے والی متعدد ریلیوں پر جہاں یورپی ممالک میں پابندی لگا دی گئی ہے وہیں آزاد فلسطین کا نعرہ لگانے پر طالبعلم یو اے ای سے ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
ویب ڈیسک: یورپی ممالک میں جہاں آزاد فلسطین کا نعرہ لگانے پر کسی حد تک پابندی لگا دی گئی ہے اب ان کی دیکھا دیکھی اسی نعرہ پر طالبعلم یو اے ای سے ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
نیویارک یونیورسٹی ابوظہبی کی گریجویشن تقریب میں روایتی فلسطینی سیاہ و سفید سکارف پہنے اور تقریب میں آزاد فلسطین کا نعرہ لگانے پر طالب علم مشکل میں پھنس گیا۔ شاید اس کا خیال تھا کہ یہ مسلم ملک ہے اس لئے یہاں منفی ردعمل نہیں آئیگا لیکن معاملہ اس کے الٹ نکلا۔
طالب علم نے جب اس تقریب کے بعد اپنا ڈپلومہ حاصل کرنے کے لیے اسٹیج عبور کیا تو اس کے کچھ ہی دن بعد مبینہ طور پر اسے متحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
ابوظہبی کی سابق طالبہ جیکولین ہینیک نے اس حوالے سے بتایا کہ یونیورسٹی نے گریجویشن سے قبل ایک ای میل بھیجی تھی جس میں سکارف سمیت تمام ثقافتی لباس پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈی پورٹ طالبعلم نے حکم کو نظر انداز کیا اور آزاد فلسطین کے نعرے لگائے۔ آزادی اظہار اور تعلیمی آزادی کی کوششوں کے حامی امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز کے مطابق اس طالبعلم کو ملک بدری سے قبل سٹیج پر پولیس نے تحویل میں لے لیا تھا۔
ذرائع کے مطابق یونیورسٹی، طالب علموں، عملے کو سرکاری سیکیورٹی حراست میں لینے اور پوچھ گچھ سے بچانے میں ناکام رہی اور ایک گریجویٹ طالبعلم کی ملک بدری رکوانے میں بھی ناکام رہی ہے۔

مزید پڑھیں:  ٹانک میں یوم عاشور کا مرکزی ماتمی جلوس پر امن طورپر اختتام پذیر