نئے پنشن قوانین

فوج کونئے پنشن قوانین کیلئے 1سال کی مہلت دی ہے، وزیر خزانہ

ویب ڈیسک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ فوج کو نئے پنشن قوانین کیلئے ایک سال کی مہلت دی گئی ہے انہیں اپنا پورا سروس اسٹرکچر تبدیل کرنے پڑے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہواجس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت خزانہ علی پرویز ملک موجود تھے۔
اجلاس میں آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات پر بریفنگ دی گئی، ان کے ساتھ وزات خزانہ کی مکمل ٹیم اجلاس میں موجود رہی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ مالی سال تمام میکرو اکنامک اعشاریے مثبت ہوئے، گزشتہ مالی سال مہنگائی میں کمی آئی، 2023 میں جب آئی ایم ایف پروگرام معطل ہوا تو مشکلات بڑھیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایف سی نے پی ٹی سی ایل کو 40 کروڑ ڈالر کا قرض دیا، اب درآمدات پر کوئی پابندی نہیں ہے، اب کوئی پریشر نہیں ہے کہ کسی چیز کو مصنوعی طریقے سے دبائیں، فاریکس کی مارکیٹ میں استحکام آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی انکم ٹیکس پر صوبائی وزرائے خزانہ کا مشکور ہوں، ہمیں سب کو فائلر بنانا ہے اور سب کو ٹیکس نیٹ میں لے کر آنا ہے، آئی ایم ایف اصل آمدن پر ٹیکس چاہتا ہے جو کہ درست مطالبہ ہے، ایف بی آر پر عوام کا اعتماد بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اخراجات میں قرض اور سود کی ادائیگی بڑا خرچہ ہے، ترقیاتی بجٹ کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو فروغ دیا جائے گا۔
پنشن بل پر انہوں نے کہا کہ پنشن قومی خزانے پر بڑا بوجھ ہے ہر سال پنشن کی مد میں ایک ہزار ارب روپے ادا کیے جارہے ہیں اسے کم کرنے کی ضرورت ہے، بجٹ میں پنشن کے لیے اصلاحات لائی گئی ہیں، پنشن کی مد میں نئی اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں جس کے تحت نئی ملازمین کو رضاکارانہ پنشن اسکیم دی جائے گی۔
فوج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فوج کا اسٹرکچر مختلف ہے انہیں اپنا پورا سروس اسٹرکچر تبدیل کرنے پڑے گا جس کے لیے انہیں پنشن کے نئے قوانین پر جانے کے لیے ایک سال کی مہلت دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:  اقوام متحدہ نے غزہ کو مقتل گاہ قرار دیا ،اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش