790cb9c8 5ae1 49a4 a580 97049349df6b

نوشہرہ حدیقہ نور تشدد کیس

نوشہرہ : وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کے نوٹس لینے کے بعد صوبائی وزیر خیبر پختونخوا برائے قانونی پارلیمانی امور اور انسانی حقوق سلطان محمد خان نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، نوشہرہ ڈائریکٹر جنرل قانون اور انسانی حقوق ڈاکٹر اسد علی خان کی سر براہی میں تین رکنی کمیٹی کا حدیقہ نور کے گھر شاہ کوٹ چراٹ کا دورہ کیا، انسانی حقوق کی تین رکنی ٹیم کا پولیس لائن نوشہرہ کا ہنگامی دورہ، حدیقہ نور سمیت پولیس اہلکاروں اور افسران کے بیانات قلم بند کئے، تھانہ جلوزئی میں بھی ریکارڈ تحویل میں لے لیا،

حدیقہ نور پر تھانہ جلوزئی کے جس کمرے میں تشدد کیا گیا اس کی تصاویر اور فوٹیج بنائی، کمشن کے سوال کے جواب میں حدیقہ نور نے کہا کہ جن پولیس اور لیڈی پولیس اہلکار نے اس پر تشدد کیا وہ سامنے آنے پر ان کی شناخت کر سکتی ہے، حدیقہ نور کے بھائی ماجد شاہ نے کمشن کو شکایت کی کہ مجھ کو ایف آئی آر نہیں دی جا رہی ،حدیقہ نور کے میڈیکل کی کاپی بھی نہیں کی گئی، ایف آئی آر میں دفعات اور پولیس اہلکاروں کے نام نہ شامل کرنے پر تحفضات ہیں،22-اے کی درخواست کی کاپی بھی دے،

نوشہرہ کمشن نے ایس ایچ او سمیت پولیس اہلکاروں حدیقہ کے شوہر، دیور امجد اور سسر کے موبائل ڈیٹا سی ڈی آر کی مکمل کاپی طلب کر لی، نوشہرہ ڈائریکٹر جنرل قانون اور انسانی حقوق ڈاکٹر اسد علی خان کی سر براہی میں تین رکنی کمیٹی میں ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایم اینڈآر شامل کئے گئے ہیں،صوبائی وزیر سلطان محمد خان کا کہنا ہے کہ  حدیقہ نور کے کیس میں پورا انصاف ہو گا،نوشہرہ ڈائریکٹریٹ جنرل جلد مکمل اور جامع رپورٹ پیش کرے گئے،اس کیس میں حکومت پارٹی بنے گی اور نا انصافی اور ظلم کے خلاف ہمیشہ عوام کے لیے آواز اٹھاتے رہے گئے۔