4 106

بر مزار ما غریباں

ہمارے دل کو جو بندہ اچھا لگے ہم اسے ”بیبا” بندہ کہتے ہیں۔ اگر حسن اتفاق سے وہ کوئی صنف نازک ہو تو ”بیبا” کہنے کی بجائے ہم اسے ”بی بو” کہہ سکتے ہیں۔ حاکم پشاور تیمور شاہ بھی اسے ”بی بو” ہی کہہ کر پکارتے تھے۔ اس کی ایک وجہ تو ”بی بو” کا اپنا نام ”بی بی جان” تھا اور دوسری بڑی وجہ اس کی عادات واطوار ذہانت وفراست اور حسن بے مثال تھا جس نے ایک درباری کنیز ہونے کے باوجود حاکم پشاور کا دل جیت رکھا تھا۔ لونڈی کنیز یا باندی جب قصرشاہی میںکسی بادشاہ یا شہزادے سلیم کا دل جیت لیتی ہے تو وہ انارکلی بن کر اپنے آپ کو اس آگ میں بھسم کر دینے کیلئے تیار سمجھتی ہے جس آگ پرکوئی پروانہ جل مرتا ہے۔
یوں تو جل بجھنے میں دونوں ہیں برابر
وہ کہاں شمع میں، جو آگ ہے پروانے میں
بی بی جان یا حاکم پشاور کی ‘بی بو’ کیساتھ بھی یہی کچھ ہوا، چونکہ بی بی جان اپنی راہ میں آنے والی بہت سی رکاوٹیں عبور کرکے اور بہت سی صفیں چیر کر تیمور شاہ کی مصاحب خاص بن چکی تھی اس لئے اس کی اس ترقی کو نہ دیکھ سکنے والے اس کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کیلئے کسی مناسب موقع کی تلاش میں رہنے لگے۔ اگر کوئی کافر ادا حسینہ کسی شادی شدہ مرد کے دل میں گھر کر لے تو سب سے پہلے اس کی راہ میں آنے والی دیوار اس شادی شدہ مرد کی شریک حیات ہوتی ہے جو ناگن بن کر پہلے پہل اس کو اپنے ناگ سے دور رکھنے کیلئے پھنکارتی ہے، اگر وہ اس کی اس پھنکار سے سہم کر عشق کے بھوت کا جوا نہ اُتار پھینکے تو پھر اسے بری طرح ڈس لینے میں کوئی کسر روا نہیں رکھتی۔ بی بی جان کیساتھ بھی ایسا ہی ہوا، اس کی راہ میں صرف حاکم پشاور شاہ تیمور کی ملکہ عالیہ ہی ناگن بن کر اس کو ڈسنے کیلئے نہیں بیٹھی تھی بلکہ بہت سے سانپ اور سنپولئے اس کو ڈسنے کیلئے بے چین رہتے تھے۔ اس کا برا منانے والوں میں بہت سے لائی لگ بھی تھے، جو بی بی جان یا تیمور شاہ کی ‘بی بو’ کو بیجو یا بیزو بمعنی بندریا کہہ کر پکارتے اور موقع پاتے ہی ملکہ عالیہ کے کان بھرتے رہتے، ملکہ عالیہ نے بی بی جان المعروف ‘بی بو’ کو اپنے پاس بلا کر اچھی خاصی ڈانٹ پلا دی لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ
جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
جب پیار کیا تو ڈرنا کیا کے مصداق بی بی جان اپنی ہر ادائے دلبرانہ سے حاکم پشاور کو رام کرنے سے باز نہ آئی تو ایک دن ملکہ عالیہ نے بی بی جان المعروف بی بو کو اپنے ہاں بلا کر اچھا خاصا بے عزت کر ڈالا ”اپنی اوقات دیکھو تمہاری حیثیت کیا ہے، بادشاہ سے پیار اور محبت کی پینگیں بڑھانے کی، جی میں کچھ بھی نہیں، شاہ کے دربار کی لونڈی ہوں، آپ کے پیروں کی خاک ہوں، مگر شاہ تیمور تجھے بی بو کہہ کر پکارتے ہیں، یہ میری خوش بختی ہے ملکہ عالیہ، تم بی بو نہیں، ‘بیجو’ ہو۔ جی جی، درست فرمایا آپ نے آپ کو حق حاصل ہے جو آپ کہنا چاہیں کہہ ڈالیں، آپ کی ہر بات سر آنکھوں پر کہ آپ ملکہ عالیہ ہیں میرے شاہ کی اور میں ٹھہری ایک کنیز، ملکہ عالیہ نے بی بی جان کی زبان سے یہ تعظیمی کلمات سن کر دربار میں کھڑی ایک کنیز کو اشارہ کیا اور وہ ریشمی کپڑے کے نیچے چھپا زہر کا پیالہ لاکر بی بی جان کی جانب بڑھانے لگی، اگر تم سچ مچ حاکم پشاور سے پیار کرتی ہے تو اپنا پیار سچا ثابت کرنے کیلئے پی لو یہ زہر کا پیالہ، جو حکم ملکہ عالیہ، بی بی جان نے اتنا کہہ کر دیوار پر لگی تیمور شاہ کی قدآور تصویر کی جانب دیکھا اور زہر کا پیالہ منہ سے لگا کر ایک ہی سانس میں پی گئی اور پھر ڈگمگاتے قدموں سے دربارشاہی میں پہنچ کر رقص بسمل کرتی شاہ تیمور کے قدموں میں گر کر جان، جان آفریں کے حوالے کرگئی۔ حاکم پشاور تیمور شاہ پر نہ بجلی گری نہ وہ اپنی بی بو کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ یہ سب بادشاہوں کو زیب نہیں دیتا تھا، اگر ایسا ہوتا تو شہزادہ سلیم اس وقت چلو بھر پانی میں ڈوب مرتا جب مغل اعظم نے جیتی جاگتی انارکلی کو دیوار میں چننے کا حکم صادر کیا تھا، البتہ حاکم پشاور تیمور شاہ نے وفاؤں کے تقاضے نبھاتے ہوئے بی بی جان کا عالیشان مقبرہ ضرور تعمیرکروایا جسے بی بی جان کے حاسدین مقبرہ بی بی جان کی بجائے بیجو یا بیزو (بندریا) کی قبر کہنے لگے جو آج بھی وزیرباغ پشاور کے قریب موجود زبان حال سے اپنی تباہ حالی کا رونا رورو کر پشاور کے ورثہ کو محفوظ کرنے کے دعویداروں کی قلعی کھول رہا ہے
شہر پشاور تجھ میں کھنڈر نما شکستہ
اک مقبرہ اُلفت ماتم کناں کھڑا ہے
افسوس ہے کہ جانتا، کوئی نہیں ہے اتنا
اُلفت کی داستاں کا، یہ ایک سلسلہ ہے
نالاں نہیں ہے کچھ بھی، نہ اس کو ہے شکایت
بیجو کی قبر کا جو طعنہ اسے ملا ہے
شاہدرہ لاہور میں شہزادہ سلیم کی بیسویں بیوی زیب النساء نورجہاں کی لوح مرقد پر جو شعر کندہ ہے اس کا مرقع ہے مقبرہ بی بی جان جو زبان تباہ حال سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے
برمزار ما غریباں، نے چراغ نے گلے
نے پر پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے