جارج فلوئڈ اور زہرا

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جارج فلوئڈ کے وکیل نے اپنے مؤکل کیلئے منعقدہ ایک تعزیتی تقریب میں بیان دیا کہ نسل پرستی کی عالمی وبا نے فلوئڈ کی جان لے لی۔ جارج فلوئڈ ایک افریقی امریکی تھا جو میامی پولیس کے ایک سفید پوش اہلکار کے ہاتھوں ناحق قتل ہوا۔ فلوئڈ کا قتل گردن پر گھٹنا رکھنے کی تکنیک کا استعمال کر کے کیا گیا۔ اس تکنیک کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ اسرائیلی پولیس کی ایجاد کردہ ہے۔ جارج کی موت کے بعد پوری دنیا میں سر اُٹھاتے مظاہروں سے کم ازکم دل کو یہ تسلی ہوئی کہ اب بھی درددل رکھنے والے کچھ لوگ اس دنیا میں موجود ہیں مگر یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا مظاہرین کی یہ تعداد دنیا میں کوئی سماجی تبدیلی پیدا کرنے کیلئے کافی ہے۔ ان مظاہروں سے شاید قوانین میں تو کچھ تبدیلی لائی جا سکے مگر قانون میں تبدیلی صرف اور صرف ایک نقطۂ آغاز ہوتا ہے۔ حقیقی معنوں میں تبدیلی کیلئے عوام کو اذہان اور رویوں میں تبدیلی کے مشکل مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے جس کے بغیر سماج کی جڑوں کو کھوکلا کرتے تعصب اور استحصالی ذہنیت کے ناسوروں سے جان خلاصی ممکن نہیں ہو سکتی۔
اب آپ اس آٹھ سالہ گھریلو ملازمہ زہرہ شاہ کی بھی مثال لیجئے جسے صرف اس بات پر تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا کہ اس سے اپنے مالک کے چند قیمتی پرندوں کو پنجرے سے آزاد کر دینے کی غلطی سر زد ہوئی تھی۔ اس معصوم جان پر ڈھائے جانے والی مظالم کی تفصیلات پڑھ کے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یہ بے حد افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں معصوم بچوں کیساتھ مظالم کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ مجھے یہاں ابھی دو سال قبل ہی مقتول زینب کیلئے لکھے گئے ایک خط کی یاد آرہی ہے جس میں میں نے زینب سے اپنی ندامت کا اظہار کیا تھا اور اس سے معافی طلب کی تھی۔ میں نے اس خط میں لکھا تھا کہ اگرچہ میں نے تمہیں ذاتی طور پر کوئی تکلیف نہیں پہنچائی مگر اس کے باوجود میں شرمندہ ہوں کہ میں معاشرے میں ایک ایسی فضا قائم کرنے کیلئے کچھ نہ کر سکی جہاں تم جیسے بچے اپنا آپ محفوظ محسوس کریں اور اب یہ زہرہ شاہ کا کیس ہمارے سامنے ہے۔ یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ہمارا معاشرہ ایسے غیرانسانی اور گھناؤنے جرائم کا اس قدر عادی ہوگیا ہے کہ اب ایسے کسی جرم کے ارتکاب پر ہمیں صرف اور صرف خاموشی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایسی خاموشی سے مجھے 1978کا وہ یخ بستہ دن یاد آجاتا ہے جب اہلیان کراچی نے آٹھ سالہ ترنم عزیز کو انصاف دلانے کیلئے احتجاج کیا تھا۔ ترنم عزیز کو اغوا کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے اس نازک صورتحال سے نمٹنے کیلئے شہر کی ساری پولیس کو چوکنا کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ مارشل لاء کا زمانہ تھا اور اس وقت تک ایم کیوایم جیسی کوئی تنظیم، سیاسی جماعتیں یا طلبا یونین وجود نہیں رکھتی تھی۔ یہ احتجاج عوام کا قدرتی ردعمل تھا اور جنرل ضیاء الحق کوصورتحال سنبھالنے کیلئے رات کے اندھیرے میں ہنگامی بنیادوں پر کراچی پرواز بھرنا پڑی تھی۔
ہم نے اس وقت سے اب تک ترقی معکوس ہی کی ہے اور آج ہمارے سامنے طبقاتی نظام کی بیماری سر اُٹھائے کھڑی ہے۔ سیاست، مذہبی منافرت اور فوجی ادوار حکومت نے ہمارے عوام کے مجموعی سماجی شعور کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم یہاں جارج فلوئڈ کے موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ فلوئڈ کی موت نے امریکہ میں سیاہ فاموں کی اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کی یاد تازہ کر دی ہے۔ یہ اپنے شہری حقوق کیلئے لڑی جانے والی ایک یادگار جنگ تھی جس میں مارتھر لوتھر کنگ اور میلکولم جیسے رہنماؤں کی قیادت میں تمام سیاہ فاموں نے یکجان ہو کر سماجی مساوات کیلئے جدوجہد کی تھی۔ ان رہنماؤں نے اپنے پیروکاروں کو اولین درس یہی دیا کہ وہ اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلائیں کہ یہی ان کی اصل طاقت بنے گی۔ ان کا یہ ایمان تھا کہ سیاہ فام امریکی ایک دن ضرور کامیاب ہوں گے اور دہائیوں بعد بارک اوبامہ کا صدارتی انتخابات تک پہنچنا اور فتح یاب ہونا امریکہ میں نسلی برابری کی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل تھا۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس ایسی کسی تاریخی جدوجہد کی مثال موجود نہیں۔ البتہ میں جو ایک بات پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ پانچ دہائیوں قبل اس قدر منقسم نہیں تھا جتنا کہ آج ہے۔ ہمارے اس طبقاتی نظام سے ڈسے سماج میں مجرم ذہنیت کے حامل لوگوں کے ہاتھوں کمزور کے بچوں کا قتل عام بات بن چکی ہے۔ اور اگر یہ بچے قسمت کی مہربانی سے ریپ، اغوا اور قتل جیسے حادثات سے بچ بھی جائیں تو ان کا بچپن ظالم مالکوں اور نااہل اُستادوں کے ہاتھوں چھن جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بچوں سے مزدوری لینا اور متشدد طرزتعلیم کو باقاعدہ سماجی قبولیت حاصل ہے۔
بلاشبہ عوام کی جان ومال کی محافظ ہونے کے ناطے حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایسے رویوں کے خاتمے کیلئے مناسب اقدامات کرے۔ زہرہ شاہ قتل کیس کیخلاف آنے والے ردعمل کے پیچھے قانون میں تبدیلیاں لانے، عدالتی نظام کے تحت کیسوں کی مؤثر پیروی یقینی بنانے، ابلاغ عامہ کے ذریعے عوام میں شعور اُجاگر کرنے اور حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے جیسے مقاصد شامل ہیں۔ مگر ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ ایسے قوانین بن تو جاتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔
اب وقت آن پہنچا کہ اس طبقاتی فرق کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ قانون سازی تو ایک طرف مگر کیا ہمیں اس کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت نہیں جو آئے دن ان مظالم کا شکار بنتے ہیں۔ میں نے جب زہرہ کے قتل کے بارے میں اپنے بچوں کی روٹی کمانے کی خاطر تمام دن گھروں میں کام کرنے والی ایک غریب عورت سے بات کی تو اس کا جواب تھا: ''یہ تو ہوتا ہی رہتا ہے'' یہ جواب اس شدید مایوسی اور نظام سے نااُمیدی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کا یہ طبقہ بدرجہ اتم شکار ہو چکا ہے۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)