یاد ماضی

اُستاد شاگرد کا رشتہ بھی کتنا عجیب ہے، اس میں محبت بھی ہے اور روحانیت بھی۔ ساتھ گزرے ہوئے دن کبھی لوٹ کر تو نہیں آتے لیکن جب کبھی کسی اُستاد یا شاگرد سے ملاقات ہوتی ہے تو بہت سی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ سکول وکالج میں گزارا ہوا وقت کتنا خوشگوار ہوتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی حماقتیں، پیار بھری شرارتیں، اساتذہ کی نافرمانیاں، آپس کے لڑائی جھگڑے، یہ سب کچھ بعد میں کتنا اچھا لگتا ہے۔ آپ نے اکثر دو ہم جماعتوں کو آپس میں عرصے بعد ملتے دیکھا ہوگا وہ پرانی یادوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو کا یہ انداز ہوتا ہے۔
یار وہ مولوی صاحب جو ہمیں اسلامیات پڑھایا کرتے تھے کیا شاندار انسان تھے۔ ٹیسٹ لینے کے بعد پرچے بغیر پڑھے چیک کیا کرتے تھے۔ آپ بھلے سے پرچے میں کچھ بھی لکھ دیں وہ کسی کو فیل نہیں کرتے تھے۔ کہتے ہیں احمد علی امریکہ چلا گیا تھا لیکن اب واپس آگیا ہے۔ اس میں مزاح تو کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اساتذہ اور دوستوں سب کو ہنسایا کرتا تھا۔ باسکٹ بال کا بہترین کھلاڑی تھا۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد اس نے ایڈورڈز کالج میں داخلہ لے لیا تھا۔ تعلیم سے تو اسے خدا واسطے کا بیر تھا بس ہنسی مذاق اس کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ کالج میں کسی دوست نے مشورہ دیا کہ صدارتی انتخاب لڑو بس یہ تیار ہوگیا۔ تقریر کرنے کھڑا ہوا تو سوچنے لگا کہ کیا کہوں میں نے تو کبھی سیاست میں حصہ بھی نہیں لیا، کونسی ایسی بات کروں جو لڑکوں کو متاثر کرسکے لیکن ذہن میں کچھ ہوتا تو زبان پر آتا۔ اس نے سوچا چلو لڑکوں کو ہنساتے ہیں۔ ایک چیخ ماری اور تقریر شروع کردی۔ ایسی عجیب وغریب شکلیں بنائیں اور لڑکوں کو ایسے لطیفے سنائے کہ وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے۔ بس ایک تقریر کام کرگئی الیکشن میں بڑی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ دراصل لڑکوں کو اس کی شخصیت پسند آگئی تھی انہوں نے سوچا کہ اتنا اونچا لمبا تڑنگا زندہ دل لڑکا ہی ہماری صدارت کے قابل ہے۔چند دن پہلے ہمیں راستے میں ایک پرانا شاگرد بڑی محبت سے ملا۔ کہنے لگا میں آپ کا سپیریر سائنس کالج میں سال اول کا شاگرد تھا، آج کل ایم ایس سی کر رہا ہوں۔ پھر ہمیں غالب کا یہ شعر سنا کر کہنے لگا کہ سر کچھ یاد آیا؟
یہ مسائل تصوف، یہ تیرا بیان غالب!
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
ہم نے اپنے ناتواں ذہن پر بہت زور ڈالا لیکن کچھ بھی یاد نہ آیا۔ تو کہنے لگا کہ اس شعر کے پڑھنے پر آپ نے مجھے ایک کتاب بطور انعام دی تھی جو اب بھی میرے پاس موجود ہے۔ امام ابن تیمیہ کے بارے میں تھی۔ اس کے یاد دلانے سے ہمیں پھر بہت سی باتیں یاد آنے لگیں۔ ہم کبھی کبھار کلاس میں کوئی کتاب لے جاتے اور لڑکوں سے مختلف سوالات پوچھتے۔ اگر کوئی لڑکا ذہانت کا مظاہرہ کرتا اور ہمارے سوالات کا جواب بطور احسن دیتا تو اسے پھر وہ کتاب بطور انعام دیدی جاتی لیکن کتاب حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا اور ہم خود بھی لڑکوں کو کہتے کہ اگر آسان سے سوال پر بھی انعام دیدیا جائے تو پھر انعام کی قدر وقیمت ختم ہو جاتی ہے۔ کالج میں امن وامان کی فضا قائم تھی لڑکے بھی شوق سے آتے بہت کم غیرحاضریاں ہوتیں، کلاسوں کے دوران کالج میں مکمل طور پر خاموشی ہوتی۔ ایک دن ایک شرارتی لڑکا ہمیں کہنے لگا کہ سر آپ چھٹی نہیں کرتے کیا پڑھانے کے علاوہ آپ کا اور کوئی کام کاج نہیں ہے؟ ہم جب بھی کلاس میں آتے ہیں آپ موجود ہوتے ہیں۔ ہم نے اس کی بات سن کر کہا کہ بیٹا اللہ پاک نے ہمیں پڑھانے کا ایک موقع دے رکھا ہے، یہ ایک انعام ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس انعام کی کتنی قدر کرتے ہیں؟ یہ تو ایک موقع ہے جو ہمیں ملا ہوا ہے تو ہم کیوں چھٹی کریں۔ ہفتے کے دن پہلے گھنٹے میں ہم بزم ادب کی کلاس لیا کرتے تھے۔ جس میں طلبہ تقاریر کرتے، بیت بازی کے مقابلے ہوتے، جنرل نالج کے مقابلے ہوتے، لطائف سنائے جاتے، نعتیں پڑھی جاتیں، طلبہ کی خوداعتمادی میں اضافہ ہوتا۔ وہ بڑے شوق سے بزم ادب کی کلاس میں حاضر ہوتے۔ جب سپیریر سائنس کالج سے ہمارا تبادلہ ہوگیا اور کچھ عرصے بعد وہاں جانا ہوا تو ایک بوڑھا مالی ہمارے پاس آکر بڑی محبت سے ملا۔ پھر آنکھوں میں آنسو بھر کر کہنے لگا، جب آپ کی کلاس میں بچے نعتیں پڑھتے تو میں کلاس کے دروازے کے قریب کھڑا ہو کر وہ نعتیں سنا کرتا تھا۔ بچوں کی معصوم آواز میں نعت سننے کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔ اس کی باتیں سن کر ہم سوچنے لگے کہ وقت کا کیا ہے یہ تو پر لگا کر اُڑتا رہتا ہے۔ وقت گزر جاتا ہے بس یادیں رہ جاتی ہیں لیکن اگر کچھ اچھا کیا ہو تو پیچھے مڑ کر دیکھنے سے خوشی ہوتی ہے۔ گزرے ہوئے اچھے لمحات یاد آتے ہیں تو دل سکون واطمینان سے بھر جاتا ہے۔ کسی نے بالکل صحیح کہا ہے کہ آپ زندگی کے سفر میں چھوٹے چھوٹے پودے لگاتے چلے جائیں جب کبھی آپ مڑ کے پیچھے دیکھیں گے تو آپ کی نظر ایک خوبصورت باغ پر پڑے گی اور یہی انسان کی اصل دولت ہے۔