پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی پر وزارت توانائی کو نوٹس جاری

اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی پر حکومتی کاروائی کے خلاف درخواست پر وزارت توانائی کو نوٹس جاری، وزارت توانائی ،اوگرا، فیول کرائسسز کمیٹی اور ایف آئی اے کو 25 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیا.
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مطمئن کریں ایگزیکٹو کے اختیارات میں کیوں مداخلت کریں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فریقین کے دلائل کے بعد نوٹس جاری کئے، آئل کمپنی نے ایف آئی اے کی جانب سے کئے گئے نوٹس کو چیلنج کر رکھا ہے۔ آئل کمپنی کی ایف آئی اے کو فوری کاروائی سے روکنے کی استدعا مسترد، آئل کمپنی کی حکم امتناع کی درخواست پر بھی نوٹس جاری،وکیل درخواست گزار
کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پر انکوائری ایکٹ کے تحت کمیشن قائم نہیں کیا، چیف جسٹس
نے کہا کہ ضروری نہیں کہ حکومت تحقیقات کے لیے انکوائری ایکٹ کے تحت کمیشن کی قائم کرے، حکومت کی کچھ ذمہ داریاں ہیں اور وہ عوام کو جوابدہ ہیں۔

فیول سپلائی میں خلل ہے تو ایگزیکٹو کو انکوائری کرا نے کا اختیار ہے، آئندہ سماعت پر مطمئن کریں کہ عدالت ایگزیکٹو کے اختیارات میں کیوں مداخلت کرے؟