کورونا کی روزبروز خطرناک ہوتی صورتحال

ملک میں کورونا ہلاکتوں میں تیزی آگئی ہے اور پاکستان تیز ترین شرح اموات والے چار ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ یومیہ ڈیڑھ سو اموات ریکارڈ ہو رہی ہیں اور جو اموات ریکارڈ نہیں ہو پاتیں اس کا اندازہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان زیادہ مریضوں والے ممالک میں چودہویں نمبر پر آگیا ہے، طبی عملے کے چارہزار آٹھ سو پچپن افراد کا متاثر ہونا، کورونا سے پنسٹھ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی شہادت اور بہت بڑے پیمانے پر طبی عملے کا وائرس کا شکار ہونا خاص طور پر قابل تشویش امر ہے۔ خیبر پختونخوا میں جس تیزی سے وباء کے پھیلاؤ کے باعث آئے روز مختلف علاقے لاک ڈاؤن کئے جا رہے ہیں اس حکمت عملی سے تو اختلاف نہیں کیا جا سکتا البتہ پولیس اور انتظامیہ کو اچانک علاقے بند کرتے ہوئے ان علاقے کے مکینوں کو لاؤڈ سپیکر اور دیگر ذرائع سے مطلع کرنے کی ضرورت ہے، اشیائے صرف کی بہم رسانی کے عمل کا متاثر ہونا تو فطری امر ہے البتہ اسے اس طرح متاثر ہونے نہ دیا جائے کہ عوام کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ حکومت کا لاک ڈاؤن پر مجبور ہونا اس لئے بھی فطری امر ہے کہ عوام کی حددرجہ عدم احتیاط کے باعث کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور شرح اموات میں اب اتنی تیزی آگئی ہے کہ خدا نخواستہ ہمارے صحت کا نظام مکمل طور پر جواب دے جائے۔ وزیراعظم کے مشیر صحت کا عوام کی توجہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر کی جانب مبذول کروانا کافی نہیں، یہ درست ہے کہ عوام کو انفرادی، خاندانی اور سماجی سطح پر اس وباء سے بچنے کی سعی کرنی چاہئے عوام کو یہ بار بار سمجھایا جاچکا ہے اور ہر فون کال پر یہ پیغام سنایا جا رہا ہے، اصل بات اس عمل کو مؤثر بنانے کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں یکساں پالیسی وضع کرنے میں تاخیر کا ہی مظاہرہ نہیں کیا گیا بلکہ تضادات اور مختلف مؤقف اختیار کرنے کی وجہ سے ابتداء ہی سے معاملات پیچیدہ رخ اختیار کر گئے۔ علاوہ ازیں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیاں اور لاک ڈاؤن کھل جانے کے بعد جس عدم احتیاط کا مظاہرہ کیا گیا اس کے نتائج اب ہم بھگت رہے ہیں۔ حکومتی اقدامات کی تاخیر کا یہ عالم ہے کہ عوام کو جو باتیں بہت پہلے بتا دینی چاہئے تھیں وہ ایک ایک کر کے اب بتائی جارہی ہیں، کورونا کیسز میں اضافہ اور شرح اموات کے باعث ہمارا ملک خطرناک ممالک کی فہرست میں آچکا ہے۔ صورتحال یہی رہی تو خدا نخواستہ پاکستان خطرناک ترین ممالک میں سرفہرست ہوگا اور حالات مزید قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ اس وقت سمارٹ لاک ڈاؤن کی جو پالیسی اختیار کی گئی ہے اسے بعد ازخرابی بسیار ہی سمجھا جائے کیونکہ اگر پہلے ہی اس طرح کے اقدامات کو مؤثر بنایا جاتا تو اس کی نوبت شاید نہ آتی اور ملک میں بیماری کے پھیلاؤ اور شرح اموات میں کمی شروع ہوچکی ہوتی۔ اس وباء کی روک تھام کیلئے احسن سنجیدہ اقدامات اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت تھی اس کا ہنوز فقدان ہے، اب بھی مرکزی اور صوبائی سطح پر ایسی ٹاسک فورس موجود نہیں جو مربوط حکمت عملی طے کر کے اس کی پابندی کرانے کی ذمہ دار ہو۔ علاوہ ازیں حکومت اسے طبی بنیادوں پر اور طبی ماہرین کی مشاورت واعانت سے حل کرنے کی بجائے انتظامی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کیلئے کوشاں ہے جو مناسب نہیں اور نہ ہی تجربے اور مشاہدے سے کارگر ثابت ہورہی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محکمہ صحت اور طبی ماہرین کا معاملہ ہے اور اس حوالے سے ان کی طرف سے ہدایات وبیانات اور حکمت عملی آنی چاہئے، تمام تر جتن کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ہماری آبادی کا نصف حصہ بھی ماسک پہننے کیلئے تیار نہیں، مساجد ہوں یا بازار اور سڑکیں بغیر ماسک کے شہریوں کو ٹوکنے والا کوئی نہیں، سماجی میل جول اور دوری اختیار کرنے کیلئے تو کم ہی لوگ تیار ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معمولات میں فرق نہ آئے اور کورونا کی وباء سے نکلنا بھی ممکن ہو یہ دونوں کام اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ ایک دوسرے کے متضاد امور کے برابر جاری رہنے کا نتیجہ کبھی بھی مثبت برآمد نہیں ہوتا۔ حکومت نے ٹائیگر فورس کا بھی اعلان کیا تھا مگر ٹائیگر کہیں نظر نہیں آئے، حکومتی اقدامات ناقص حکمت عملی اپنی جگہ حقیقت ہے لیکن بالآخر عوام کا تعاون اور عوام کی جانب سے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ہی کارآمد نسخہ ہے جس کی طرف جب تک سنجیدگی سے اور مکمل طور پر توجہ نہیں دی جائے گی صورتحال میں بہتری آنے میں اتنی ہی تاخیر ہوگی۔