سرکاری محکموں کو چنگی ٹھیکیدار کا رول نہ دیا جائے

خیبر پختونخوا کے آئندہ دو مالی سالوں کے بجٹ کے بھی خسارے کے امکانات ابھی سے ظاہر کئے جانے لگے ہیں جس سے قطع نظر اس سال کے میزانیہ میں جن محکموں کے ذمے رقم اکٹھی کرنے کی ذمہ داری لگائی گئی ہے وہ خاصا قابل توجہ اسلئے ہے کہ جن محکموں کے ذمے عوام کی خدمت وتحفظ اور اپنے فرائض کی احسن ادائیگی اچھی حکمرانی کیلئے ضروری ہے ان محکموں کو بھی فنڈز اکٹھی کرنے پر لگایا گیا ہے جو بظاہر عوام ہی سے وصول ہونا ہے۔ جن محکموں کو مالی ہدف پورا کرنا ہوگا اس کے حصول کیلئے پھر وہ حیلے بہانے ہی تلاش کریں گے اور عوام کو بلاوجہ ہراساں کرنے سے باز نہیں آئیں گے اور یوں پہلے سے حالات کے مارے عوام مزید پس کر رہ جائیں گے۔ جن محکموں کے پاس کسی نہ کسی طرح ٹیکس اکٹھی کرنے اور آمدن کے ذرائع موجود ہیں وہ اپنی جگہ درست ان کا ہدف پورا کرنا نہ کرنا اپنی جگہ الگ مسئلہ ہے لیکن جن دیگر محکموں کو بغیرآمدن اور ٹھوس وجہ کے آمدن کے حصول کا ہدف دیا گیا ہے یہ قابل قبول امر نہیں۔ معمول میں ان مدات میں کم یا زیادہ رقم اکٹھی ہونے کے برابر کے امکانات ہوتے ہیں لیکن اگر ان کو پابند کیا جائے تو پھر ہتھکنڈے استعمال کرنے اور عوام کو ہراساں کرنے کا راستہ کھلنا یقینی ہے۔ جو 16محکمے بغیر ٹیکس کے آمدن اکٹھی کریں گے ان میں محکمہ انتظامیہ کے ذمہ سروس ٹربیونل، پبلک سروس کمیشن، اینٹی کرپشن، ٹرانسپورٹ کی نیلامی اور سٹیٹ آفیس، محکمہ داخلہ کے ذمہ اسلحہ لائسنس فیس، سیکورٹی کمپنیوں اور جیل خانہ جات، پولیس کے ذمہ ٹریفک جرمانے، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر اداروں کو سیکورٹی کی فراہمی، محکمہ آبپاشی کے ذمہ آبیانہ، محکمہ محنت کے ذمہ لیبر کورٹس، دکانوں اور دیگر مقامات پر جرمانے، محکمہ خزانہ کے ذمہ لوکل فنڈ آڈٹ، خوراک کے ذمہ گنے کے ڈویلپمنٹ کاسیس، صنعت وحرفت اور تکنیکی تعلیم، سی اینڈ ڈبلیو، بلدیات، جنگلات، ماحولیات وجنگلی حیات، معدنیات، کھیل، سیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ اور امور نوجوانان، ابتدائی وثانوی واعلیٰ تعلیم اور قانون مختلف مدوں میں فیس اور جرمانے اکٹھے کر کے ہدف حاصل کریں گے۔ ان سولہ محکموں کی متوقع آمدنی اور مختلف مدات میں آمدن اکٹھی کرنے کی گنجائش سے انکار ممکن نہیں لیکن ان محکموں کو چنگی کا ٹھیکیدار بنانا قابل قبول امر نہیں۔ حزب اختلاف کو اسمبلی میں اس مسئلے پر سخت مؤقف اختیار کرنے اور چنگی ٹھیکہ کی طرح ہدف دینے کی بجائے ان کو اس طرح کا سرکاری محکمہ رہنے دیا جائے جو جتنا آمدن حاصل کرسکیں اس پر صاد کیا جائے۔ محکموں کو آمدن اکٹھی کرنے کا ہدف دینے کی بجائے ان کو عوامی تحفظ وخدمات کے مثالی ادارے بنائے جائیں، ہر محکمے کو تجارتی ومالیاتی عینک سے دیکھنے کا سلسلہ چل نکلے تو حکومتی کم اور سوداگر کا کردار بڑھ جائے گا اور عوام کا اس نظام سے نفرت کا عنصر مزید بڑھ جائے گا۔
ایم کیو ایم کا طشت ازبام چہرہ
ایم کیو ایم لندن کے سابق رہنما محمد انور کا ان کی جماعت کی جانب سے بھارت سے پیسہ لینے کا معاملہ حقیقت قرار دینا ان تمام الزامات پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے جو ایم کیو ایم پر لگتے رہے ہیں۔ بھارت سے تعلقات کے حوالے سے صرف مجھے الزام دینا سراسر غلط ہے، 90 کی دہائی کی ابتدا میں ندیم نصرت نے بھارتی سفارت کار سے میری ملاقات کرائی، بھارتی سفارتکار سے پارٹی کے حکم پر وسطی لندن میں ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت سے پیسے لے کر ہمیشہ پارٹی قیادت کو دئیے، بھارت سے لی گئی رقم کا ایک روپیہ بھی زندگی بھر اپنی ذات پر خرچ نہیں کیا۔ بھارتی حکومت اور 'را' سے رقم لینے کا اعتراف نئی بات نہیں ایم کیو ایم کے مذکورہ رہنما کے اعتراف جرم کے بعد تو اتماء حجت کی مزید گنجائش نہیں رہی۔ کراچی میں قتل وغارت گری، ٹارگٹ کلنگ وبھتہ خوری، بوری بند لاشوں کی سیاست خوف وہراس کی فضا، ہڑتالیں اور احتجاج وقتل عام سبھی کچھ ہماری حکومت کے علم میں اور سامنے ہے اور ملک کے عوام کو بھی اس کا بخوبی علم ہے۔ حساس ادارے باربار اس صورتحال سے آگاہ بھی کر چکے ہیں لیکن افسوس سیاست اور مصلحت کی پٹی بندھے ہمارے حکمرانوں نے اقتدار کو طول دینے کی خاطر اس قسم کے عناصر سے بھی صرف نظر کرنے سے اجتناب نہ کیا۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے حساس اداروں نے بھی کہیں نہ کہیں ان عناصر کے حوالے سے مصلحت پسندی کا مظاہرہ ضرور کیا اور حکمرانوں کی مرضی ومنشاء کا خیال رکھ کر اپنے حلف اور ملک کی سلامتی کے تحفظ کی ذمہ داری میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے جس کی ان سے ہرگز توقع نہ تھی۔ ایم کیو ایم کی حقیقت پوری طرح طشت ازبام ہو چکی، خود اس کی صفوں میں شامل عناصر اور منحرفین کی گواہی کے بعد اب اس جماعت کے نام اور اس کی سیاست میں کردار کے حوالے سے نظرثانی ہونی چاہئے۔ ایم کیو ایم کی صفوں میں موجود معتدل اور اپنے آباؤاجداد کی قربانیوں کی قدر کرنے والوں کو اب اس پرچم تلے سیاست کرنے کی بجائے اس سے بیزاری کا اظہار کر کے الگ پلیٹ فارم بنانا چاہئے اور ماضی کی غلطیوں وکوتاہیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ملکی اداروں کو بھی اب مصلحت کی ردا اوڑھنے کی بجائے ملکی سلامتی کے حقیقی کردار کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مزید وقت صرف نہیں کرنا چاہئے۔ وطن عزیز میں بھارت سمیت دیگر کسی بھی دوسرے ملک کے اشاروں پر چلنے والوں کیلئے اب کوئی جگہ باقی نہ رہنے دیا جائے۔