قانونی موشگافیاں اورنگوں کی مرصع سازی

ہردو جانب جیت کے دعوؤں کے ہنگام سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کی اس بات پر غور کرنا تو بنتا ہے کہ اگر سارے جیت گئے تو کیا آئین ہار گیا؟ اسی طرح سینئر قانون دانوں کی آراء بھی اہمیت رکھتی ہے، کامران مرتضیٰ نے معاملہ مزید پیچیدہ ہونے کی بات کی ہے تو علی ظفر نے کہا ہے کہ ریفرنس میں قانونی غلطیاں تھیں، جبکہ سرکاری وکیل فروغ نسیم نے اگر جیت کی ہی بات کرنی ہے تو میں جیت گیا ہوں۔ عبوری فیصلہ آنے کے بعد اگرچہ وکلاء نے مٹھائیاں بانٹنے سے یہ تاثر دیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف حکومتی ریفرنس میں ان کی فتح ہوئی ہے، اس پر تو ماہرین نفسیات کی جانب سے آدھا گلاس پانی کے حوالے سے مختلف لوگوں کی جانب سے دو آراء اختیار کرنے یعنی بعض کی جانب سے اسے آدھا بھرا ہوا اور بعض کی جانب سے اسے آدھا خالی قرار دینے کے روئیے کو بالترتیب رجائیت اور قنوطیت سے تعبیر کرنے کے نظرئیے کو کسی بھی طور رد نہیں کیا جاسکتا، بالکل یہی صورتحال اس عبوری فیصلے کے بارے میں بھی دکھائی دیتی ہے کہ دونوں فریق اسے اپنے مؤقف کی جیت قرار دے رہے ہیں۔ عبوری فیصلے پر تبصرے اور کسی نتیجے تک پہنچنے کو ہم ریڈیو پر اپنی ملازمت کے دوران خصوصی طور پر ڈرامے کی تربیت کے دوران مکالموں کے حوالے سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ایک ہی ڈائیلاگ کے الفاظ کو ڈرامائی انداز میں مختلف معنی پہنائے جا سکتے ہیں، مثلاً ان الفاظ پر ذرا غور کریں کہ ''روکو مت جانے دو'' بظاہر یہ سادہ سے الفاظ پر مشتمل ایک چھوٹا سا مکالمہ ہے مگر اب انہیں ڈرامائی تاثر کے حوالے سے دو طریقوں سے ادا کر کے مختلف معنی دئیے جا سکتے ہیں، یعنی اگر ''روکو۔ مت جانے دو'' میں لفظ روکو کے بعد وقفہ دیا جائے تو معنی کچھ اور جبکہ ''روکو مت۔ جانے دو'' کہا جائے تو الفاظ وہی مگر معنی بالکل اُلٹ ہو جاتے ہیں، یوں یہ جو ریفرنس کا عبوری فیصلہ آیا ہے اسے بھی دونوں (فریق) وکلا اپنے اپنے معنی پہنا رہے ہیں۔ مثلاً جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے طرف دار ایک سینئر وکیل منیر ملک نے کہا ہے کہ بنچ کے تمام ججوں نے صدارتی ریفرنس کو غیرقانونی قراردیا ہے ایک اور سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے اگرچہ عبوری حکم پر سوال اُٹھا دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو وضاحت کرنا ہوگی کہ ریفرنس بدنیتی پر کیسے مشتمل تھا۔ اس پر تو خواجہ حیدر علی آتش کا وہ شعر بڑی حد تک صادق آتا ہے کہ
بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا
یوں دیکھا جائے تو قانونی موشگافیاں ظاہری طور پر دلائل کے بل بوتے پر معاملے کو کیا سے کیا بنا دیتے ہیں اور اگر قانون دان اے کے بروہی اور شریف الدین پیرزادہ کی طرح ''قانونی جادوگر'' ہو تو وہ محض ایک نقطے سے بازی پلٹ دیتا ہے یعنی بقول عبدالحمید عدم
ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا
اس ساری صورتحال پر شیکسپئر کا مشہور ڈرامہ ''مرچنٹ آفس وینس'' یاد آگیا ہے جس میں ایک کردار شائیلاک ہوتا ہے، وہ انتہائی خودغرض، لالچی، سازشی، چالاک اور سفاکانہ حد تک ظالم ہوتا ہے، وہ ایک شخص کو قرض دیتے ہوئے یہ شرط عاید کرتا ہے کہ اگر اس نے مطلوبہ قرض اتنی مدت کے اندر ادا نہیں کیا تو شائیلاک اپنی مرضی کے مطابق قرض دار کے بدن سے ایک خاص مقدار میں گوشت کاٹنے کا حقدار ہوگا۔ بدقسمتی سے قرض کی ادائیگی نہ ہوسکنے کی بناء پر شائیلاک قرض دارکو عدالت میں کھینچ لے جاتا ہے، عدالت میں قرض دار کیخلاف ڈگری ہو جاتی ہے اور شائیلاک قرض دار کے دل کا گوشت کاٹنے کا طلبگار ہوتا ہے تاہم یہاں قرض دار کا وکیل ایک اہم قانونی نقطہ سامنے لاتا ہے اور عدالت سے کہتا ہے کہ اس کا کلائنٹ شائیلاک کے مطالبے پر راضی ہے مگر تحریری معاہدے میں کہیں نہیں لکھا کہ بدن کے کسی بھی حصے میں گوشت کاٹنے کے دوران خون بہایا جائے گا یعنی شائیلاک بے شک گوشت کاٹے مگر اس کے نتیجے میں خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہنا چاہئے، اسی طرح مطلوبہ مقدار سے ایک اونس کم یا زیادہ کاٹنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ یوں شائیلاک اپنے ہی جال میں پھنس جاتا ہے، یوں موجودہ ریفرنس میں بھی دھند تب چھٹے گی جب تفصیلی فیصلہ تحریری طور پر سامنے آئے گا۔ اگرچہ اس دوران میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے حوالے سے منی ٹریل کی وضاحت ابھی آنی ہے اور اس مقصد کیلئے معاملات کو ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم صادر کیا گیا ہے جو مخصوص مدت میں تمام تر تفصیلات سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کا پابند ہوگا، تو دراصل بعض حلقے اس پر بھی سوال اُٹھا رہے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا پر بعض میڈیا نمائندے یہ بیانیہ سامنے لیکر آئے ہیں کہ انہیں چند روز سے یہ خبریں بھی مل رہی تھیں کہ حکومت کہہ رہی تھی کہ ریفرنس کو بے شک مسترد کیا جائے تاہم جج صاحب پر ایسی تلوار لٹکائی جائے جس سے ان کو ''سکون'' نہ مل سکے، یہی وجہ ہے کہ ان کی اہلیہ اور بچوں پر منی ٹریل کی تلوار لٹکا دی گئی ہے چونکہ ایف بی آر میں بھی ریکارڈ ایک خاص مدت کے بعد تلف کر دیا جاتا ہے اور یہاں معاملہ کئی برس پرانا ہے جس سے معاملات ''درست ہونے'' کے امکانات ممکن نہیں رہیں گے، تاہم اس سے جج صاحب کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنے کا کہ ریفرنس کے استرداد سے ان کی پوزیشن واضح ہو گئی ہے، نظیر صدیقی نے شاید ایسی ہی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا
ہے فیصلہ خود باعث توہین عدالت
کچھ کہہ کے میں توہین عدالت نہیں کرتا