شمع روتی ہے سرہانے مرے

آج جون کے مہینے کی 23تاریخ ہے اور اقوام متحدہ نے آج کا دن عالمی سطح پر دو اہم موضوعات کیلئے مختص کیا ہوا ہے، جن میں سے پہلا موضوع ہے اقوام متحدہ کے تحت خدمات عامہ کا عالمی دن، جبکہ دوسرے موضوع کا عنوان ہے بیواؤں کا عالمی دن۔ اگر حق راستی کہی جائے تو ان دونوں موضوعات میں بہت حد تک ہم آہنگی یا مطابقت پائی جاتی ہے۔ دونوں کا مقصد خدمت خلق اور درددل ہے اور دونوں میردرد کے اس نظریہ کی پیروی کرنے کی تقلید یا تلقین کرنے پر زور دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ
درددل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
جہاں تک اقوام متحدہ کے خدمات عامہ کے عالمی دن کا تعلق ہے اس کا اجرائ2003 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے منظور کی جانے والی ایک قرارداد کی تعمیل میں ہوا، جبکہ ہر سال 23جون کو بیواؤں کے عالمی دن کو منانے کی منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2010 کو دی۔ اقوام متحدہ کا خدمات عامہ کا دن منانے کا مقصد لوگوں اور سرکاری وغیرسرکاری اداروں میں خدمات عامہ کی اہمیت کو اُجاگر کرنا اور ان کو حضرت سعدی شیرازی کا یہ قول یاد دلانا ہے کہ
ہر کہ خدمت کرد، او مخدوم شد
ہر کہ خود را دید محروم شد
یعنی جو فرد خدمت خلق کو اپنا شعار بناتا ہے اس کی زندگی میں ایسا دن بھی آتا ہے جب لوگ اس کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے صلہ میں اسے مخدوم بنا دیتے ہیں، یعنی وہ اپنی خدمتوں کا قرض چکاتے ہوئے خدمات عامہ کو اپنی زندگی کا شیوہ بنانے والوں کی خدمت کرنے لگتے ہیں،
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے کہ آج کا دن بیواؤں کا عالمی دن بھی ہے، اس دن کے منانے کا مقصد بھی بیواؤں کی بے چارگی اور ان کی لاچاری کو اُجاگر کرکے خدمات عامہ کا شیوہ اپنانے والوں کو اس بات کا احساس دلانا ہے کہ ایسی خواتین جن کے سر سے ان کے شریک سفر کا سایہ اُٹھ چکا یا ان کا سرتاج ان کو اس دکھوں اور غموں کی بھری پڑی دنیا میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا ہے، وہ ہماری ہمدردیوں، توجہ اور امداد کی مستحق ہیں، کسی شادی شدہ خاتون کا شوہر اس کا جیون ساتھی یا شریک حیات کہلاتا ہے اور جب شومئی قسمت سے جس کسی کا شریک حیات یا زندگی بھر کا ساتھی کسی نہ کسی وجہ سے کسی قسمت ماری خاتون کے زندگی بھر کا ساتھ چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو اس خاتون پر کیا گزرتی ہے اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جس پر ایسا ستم گزرا ہو۔ ان کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے اور وہ بدترین غربت اور لاچاری کے چنگل میں پھنس کر زندگی گزارنے لگتی ہیں، ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں کم وبیش 115ملین بیوائیں غربت کی زندگی گزار رہی ہیں اور 81ملین بیوائیں جسمانی استحصال کا شکار ہیں، ان بیواؤں میں سے زیادہ تر بیوائیں اپنے بال بچوں کا بوجھ سر پر اُٹھائے زندگی کا کڑا امتحان دے رہی ہیں، بہت سی مائیں اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے کسی کے گھر کے برتن مانجھ کر یا جھاڑو پونچا کرکے زندگی کی زہر کے تلخ گھونٹ حلق سے اُتار رہی ہیں اور بہت سی ایسی ہیں جن کے بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہوکر اپنی ماؤں کی آنکھوں کے آنسو پونچھنے کی اپنی سی کوشش میں مگن ہیں، اپنی ننھی سی عمر میں وہ اپنا اور اپنے گھر کے بے بس ولاچار افراد کا پیٹ پالنے کی کوشش میں مگن ہیں، ننھے ننھے ناتواں ہاتھوں سے اپنی معصوم صلاحیتں بیچ کر ڈانٹ ڈپٹ سہہ کر روزی روٹی پیدا کرتے ہیں اور ہم نے چیتھڑے پہنے ایسے بچوں کو بھی دیکھا ہے جو کچرے کے ڈھیر میں اپنے حصہ کی روزی روٹی تلاش کر رہے ہیں، نہ ان کے چہرے پر ماسک ہے اور نہ انہیںاس بات کا احساس ہے کہ 'کرونا' نام کی کسی عالم گیر وباء کیلئے وہ تر نوالہ بن کر موت کو گلے لگا سکتے ہیں، عام لوگوں کی خدمت کرنے کے دعویداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد بود وباش کرنے والے لوگوں میں ایسی خواتین کی حالت زار سے باخبر رہیں جن کے سر سے ان کے شوہر کا سایہ اُٹھ گیا، جو نہ صرف خود بلکہ اپنے زیرکفالت بچوں کے ہمراہ اکیلی رہ گئی ہیں انسانوں کے اس جنگل میں
اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا
سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا
ہمارے دین اسلام میں ایک بیوہ خاتون عدت کی مدت پوری کرنے کے بعد اپنی زندگی کا سہارا ڈھونڈ کر اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے لیکن کچھ دھرم ایسے بھی ہیں جہاں بیوہ کو اپنے مرنے والے شوہر کے ہمراہ ستی ہونا پڑتا تھا،
تو آگ میں عورت زندہ بھی جلی برسوں
سانچے میں ہر اک غم کے چپ چاپ جلی برسوں
بھارت کے دوراُفتادہ دیہاتوں میں ایسا ہونا اب بھی ممکن ہے لیکن وہاں بیوہ ہونے والی خواتین کو زندگی بھر مخصوص لباس پہننے کا پابند اب بھی کیا جاتا ہے، حضور خاتم النبینۖ خود در یتیم تھے، اس لئے تعلیمات دین اسلام میں یتیموں اور بیواؤں کی دستگیری پر بہت زوردیا گیا ہے اور آج کا دن انہی تعلیمات کی روشنی کو عام کرنے کا دن ہے اور
روشنی جب سے مجھے چھوڑ گئی
شمع روتی ہے سرہانے مرے