شادی ہالز کو کھولنے یا نہ کھولنے کا حتمی فیصلہ این سی سی کے اجلاس میں وفاق کی مشاورت سے کیا جائے گا – وزیر اعلی محمود خان

پشاور: وزیر اعلی محمود خان سے شادی ہالز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ،صوبائی وزراء سلطان خان، اکبر ایوب اور شوکت یوسفزئی بھی ملاقات میں موجود.

موجودہ صورتحال میں شادی ہالز کی صنعت سے وابستہ لوگوں کو درپیش مشکلات پر بات چیت،وفد کی مخصوص اوقات کار کے تحت شادی ہالز کو مشروط طور پر کھولنے کی استدعا.

شادی ہالز کی صنعت کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں غریب لوگوں کا روزگار وابستہ ہے،شادی ہالز کی بندش کی وجہ سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں لوگ معاشی مشکلات سے دو چار ہیں وفد کی استدعا.

شادی ہالز کو ممکنہ طور پر کھولنے کے سلسلے میں ایس او پیز تیار کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ.

وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ ایس او پیز تیار ہونے کے بعد شادی ہالز کو کھولنے کا معاملہ نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی کے اگلے اجلاس میں اٹھاوں گا،شادی ہالز کو کھولنے یا نہ کھولنے کا حتمی فیصلہ این سی سی کے اجلاس میں وفاق کی مشاورت سے کیا جائے گا،کورونا کی وجہ سے شادی ہالز سمیت تمام شعبے بری طرح متاثر ہوئی ہیں،صوبائی حکومت تمام شعبوں کو ریلیف دینے کے لئے اپنی وسائل سے بڑھ کر اقدامات کر رہی ہے.

ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے صوبائی بجٹ میں شادی ہالز کو ٹیکسوں میں خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے، شادی ہالز کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کا معاملہ وزیر اعظم کے ساتھ اٹھاوں گا،حکومت کے تمام اقدامات کا مقصد لوگوں کی جانوں کو محفوظ بنانا ہے، اس وقت حکومت کو بیک وقت دو چیلنجز کا سامنا ہے،لوگوں کو کورونا کے ساتھ ساتھ بھوک اور افلاس سے بچانا ہے،ہم وزیراعظم کے وژن کے مطابق ان دونوں صورتوں میں توازن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں.