محدود حج کی اجازت کا موزوں فیصلہ

سعودی وزارت حج وعمرہ کی جانب سے بالآخر رواں سال حج کے حوالے سے واضح اعلان کرنے سے مغالطہ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ سعودی حکومت نے کورونا کی وباء کی وجہ سے فیصلہ کیا ہے کہ مختلف ملکوں کے عاز مین حج کو محدود تعداد میں حج میں شریک کیا جائے گا، یہ وہ افراد ہوں گے جو سعودی عرب ہی میں مقیم ہوں گے، باہر سے کسی کو بھی حج کے اجتماع میں شریک ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد حفاظتی تدابیر کیساتھ حج کی ادائیگی ہے جو بڑے پیمانے پر عاز مین حج کی شرکت کی صورت میں ممکن نہ ہوتی کیونکہ حج کے مقامات محدود ہیں، حجاج کو خانہ کعبہ کا طواف، صفا اور مروہ کی سعی کرنا ہوتی ہے جبکہ ذی الحجہ کی آٹھ تاریخ کو منیٰ میں رات گزار کر پھر اگلے دن نو ذی الحجہ کو میدان عرفات میں وقوف کرنا ہوتا ہے، وہاں سے مغرب کے بعد مزدلفہ کیلئے نکلتے ہیں، رات مزدلفہ میں گزار کرشیطان کو کنکریاں مارنے، قربانی اور سر کے بال منڈوانے جیسے شعائیر ایسے کام ہیں جنہیں عالمی ادارہ صحت اور ماہرین کی سفارشات اور مقرر کردہ ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے انجام نہیں دئیے جاسکتے۔ اس ساری صورتحال میں عاز مین حج کی تعداد کو محدود کرنے کا فیصلہ علماء اور سعودی حکام کا دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جاری حالات میں اس سے بہتر فیصلہ ممکن نہ تھا، جہاں تک وباء سے حج کی ادائیگی نہ ہونے کا تعلق ہے ماضی میں357ہجری میں الماشری نامی بیماری کی وجہ سے مکہ میں بڑے پیمانے پر اموات ہوئیں اور عاز مین حج کیلئے نہ پہنچ سکے جبکہ1831ء میں بھارت سے شروع ہونے والی وباء کے باعث اور1814ء میں ہیضے کی وباء کے باعث حج ممکن نہ ہوسکا۔ علاوہ ازیں چالیس مواقع ایسے بھی آئے کہ خانہ کعبہ بند رہا اور حج کے فریضے کی ادائیگی ممکن نہ ہوسکی۔ اس وقت کورونا کی وباء کے باعث عالمی سطح پر جو اموات ہوئیں اور خود سعودی عرب اس سے جس طرح متاثر ہوا اس کے پیش نظر اس امر کا خدشہ تھا کہ شاید حج منسوخ کردیا جائے، ایسے میں سعودی حکومت کا تازہ فیصلہ اطمینان کا باعث امر ہے۔ طواف کے موقوف اور مسجد نبویۖ کی بندش کے باعث مسلمانان عالم جس پریشانی اور کرب کا شکار تھے ایسے میں طرح طرح کے خیالات اور تبصروں کے باعث بھی مسلمانان عالم میں پھیلی بے چینی فطری امر تھا، اگرچہ کورونا کی وباء نے مغرب کا غرور سے تنا سر نیچے کردیا اور دنیا کی مانیٹری اور معاشی نظام کو قدرت کے ایک چھوٹے اور ادنیٰ جر ثومے نے سرنگوں کر دیا، ان کی ساری تدبیریں اکارت گئیں اور پوری دنیا متاثر ہوئی، اس کے باوجود مسلمانوں کو کسی نہ کسی طرح اس وباء میں طاغوتی عناصر کی طرف سے بطور خاص تضحیک وتنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس طرح کی فضا میں مسلمان اپنے مقدس مقامات کی بندش کے باعث جس کرب کا شکار تھے اب وہ اس سے نکل آئے ہیں، حج کی عدم منسوخی اور حج کی ادائیگی کا اعلان مسلمانان عالم کیلئے دلی اطمینان کا باعث امر اور خوشخبری ہے۔ ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر آزمائش کے وقت صبروتحمل اور اپنے پرور دگار لاشریک پر مکمل بھروسہ رکھنا چاہیے اور یہی مسلمانوں کو دنیا کے دیگر مذاہب کے اقوام سے ممتاز کرتا ہے۔ کورونا کی وباء کے دوران غیرمسلم ممالک میں سالوں سے بند مساجد کھولنا اور باآواز بلند اذان دینے کی اجازت، دنیا کے دیگر اقوام کا مسلمانوں کے عقیدے پر اعتقاد کی طرف رجحان اور عملی طور پر مسلمانوں کو عبادت میں مصروف دیکھ کر اس میں شرکت اور مسلمانوں کی نماز پڑھتے ہوئے ان کے جیسے ارکان نماز کی ادائیگی کی کوشش اور اس پراطمینان قلب کا اظہار اور مسلمانوں کے عقیدہ توحید کی طرف مائل ہونے کے جذبات، دنیا میں مسلمانوں کے شدت پسند امیج کا اچانک اس طرح کے اچھے اور مثبت تاثرات میں تبدیل ہونا قدرت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ ہمیں بطور مسلمان اس موقع پر اپنے اصل کی طرف رجوع اور اپنے دین ومذہب کے حقیقی اور عملی چہرے کو دوسروں کے سامنے لانے پر پوری طرح توجہ کی ضرورت ہے، اس کیلئے یہ ایک بہتر موقع ہے جس سے اجتماعی طور فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے۔دنیا بھر کی طرح پاکستان سے بھی عاز مین حج کی عدم شرکت کے فیصلے کے بعد وزارت مذہبی امور کو جلد سے جلدحج کیلئے جمع کرائے گئے رقوم کی واپسی کا فوری اور سہل طریقہ کار وضع کر کے اس پر بلا تاخیر عملدرآمد شروع کرانا چاہئے، جو لوگ اس سال رقم جمع کرنے کے باوجود حج پر نہ جاسکے وہ ضرورتمندوں کی دستگیری کر کے اس فریضے کی ادائیگی کی ممکنہ برکات میں شریک ہوسکیں گے اورعنداللہ ماجور ہوں گے۔