بندش فعالیت کے یہ اسلوب؟

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تصدیق شدہ کرونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ پچاسی ہزار اور چونتیس تک جاپہنچی ہے، جس میں اموات تین ہزار چھ سو نوے واقعہ ہوئیں، اسی طرح صحت یاب ہونے والوں کی تعداد تہتر ہزار چار سو اکہتر تصدیق کی جا رہی ہے، یہ ہیں سرکاری تصدیق شدہ اعداد وشمار، اس کے علاوہ بھی کرونا کے دیگر مریض ہیں جنہوں نے ہسپتالوں سے رجوع نہیں کیا، ان کی کتنی تعداد ہے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیںکہا جاسکتا البتہ ایک بات جو بہت اہم ہے ایسے جتنے افراد جو کرونا کا شکار ہوئے اور انہوں نے ہسپتال کا رخ نہیں کیا، ان کے بارے میں سو فیصد تندرست ہو جانے کی اطلاعات ہیں البتہ کرونا کے حوالے سے سرکاری طور پر جو رپورٹ جاری کی جاتی ہے وہ سب مریض ہسپتالوں میں زیرعلاج رہے، اس بارے میں جب سروے کیا گیا تو یہ انکشاف ہوا کہ گھروں میں رہ کر زیادہ تر مریضوں نے دیسی نسخے استعمال کئے اور انہی سے افاقہ بھی ہوا، تاہم کچھ مریضوں نے اسپتالوں کا رخ کرنے کی بجائے نجی طور پر گھروں میں قرنطینہ رہ کر ڈاکٹروں سے علاج کرایا وہ بھی صحت یاب ہوئے، اموات کا بھاری بھر کم ریکارڈ ہسپتالوں میں زیرعلاج مریضوںکا ہے، فی زمانہ سوشل میڈیا کا ہے جو خبر دوردراز علاقوں میں ایک دو دن بعد پہنچا کرتی تھی اب وہ چند لمحوں میں پوری دنیا میں رسائی حاصل کر لیتی ہے اورکرونا وائرس کی وباء سے بھی زیادہ تیز تر دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے، دنیا بھر کے اخبار اُٹھا لیں کسی بھی ملک کے کسی بھی قسم کے میڈیا سے ایسی وحشت ناک کر ونا کے بارے میں اطلاعات نہیں مل رہی ہیں جیسا کہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ نے دھوم مچا رکھی ہے، ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے کہ پاکستان میں کرونا کے علاوہ کچھ کرنے سوچنے اور دیگر مصروفیات کیلئے کچھ نہیں ہے۔ اس میں کس کا قصور ہے، حکومت کے اشارے پاکستانی میڈیا کی طرف اُٹھ رہے ہیں حالانکہ وہ حکومتی پالیسی کے مطابق ہی کام کر رہے ہیں، جب ایسی وحشت یا وباء پھیلے تو پہلے حکومت وقت کا کام ہوتا ہے کہ وہ عوام کو حوصلہ دے اور ایسی وباء سے نبردآزما ہونے کیلئے قوم کو عملی طور پر تیار کرے اور اس کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کرے، لیکن یہاں تو عمران خان نیازی سے لیکر ڈاکٹر یاسمین راشد تک سب ایک زبان بول رہے ہیں اور ان کا سارا زور اس بات پر ہے کہ کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے، اموات کا ڈھیر لگ رہا ہے مگر جس بڑی تعداد میں لوگ صحت یاب ہو رہے ہیں ان کی گنتی دھیمے انداز میں بیان کر دی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کو اس وباء میں مبتلا ہونے والوں اور وباء سے مرنے والوں کے بارے میں آگہی تو خوب ہو رہی ہے لیکن صحت یاب ہونے والوں کے بارے میں سکوت نظر آرہا ہے، اس کے علاوہ حکومت کی اس بارے میںکوئی واضح پالیسی بھی نظر نہیںآرہی ہے، کبھی بندش فعالیت میں سختی برتنے کا ڈنکا پیٹ دیا جاتا ہے تو کبھی اس میں نرمی کا اقدام کر دیا جاتا ہے، کبھی سماجی میل میلاپ کی خلاف ورزی کا الزام براہ راست عوام پر دھر دیا جاتا ہے، کبھی موسمی حالات کی بناء پر اس کے مزید پھیلنے کا خوف پھیلایا جاتا ہے، کبھی احتیاطی تدابیر میں غفلت پر عوام کو جاہل ہونے کا تمغہ عطا ہوتا ہے، جس انداز میں بات ہو رہی ہے یا عمل ہو رہا ہے وہ عوام کے دماغ کو خلفشار میں مبتلا کئے ہوئے ہے، مثلاً پشاور کے ایک معروف علا قہ انم صنم چوک سے سیدھی سڑک جو اعجازآباد کو جاتی ہے یہاں بندش فعالیت کی گئی ہے لوگوں کو گھروں میں محدود کر دیا گیا ہے، اس کے متوازی جتنی سڑکیں ہیں وہ سب کھلی چھوڑ دی گئیں ہیں، علاوہ ازیں پشاور کی درجنوں مساجد میں شاید کوئی ایک آدھ مسجد ہوگی جہاں فعالیت بندش کی پابندی کی جا رہی ہو، اس کے باوجود کسی نمازی کے بارے میں اطلاع نہیں ہے کہ کندھے سے کندھا ملا کر نماز پڑھنے سے وہ کرونا کا شکار ہوا ہے، لاک ڈاؤن کے بارے میں وزیراعظم کبھی کہتے ہیں کہ وہ سخت ترین لاک ڈاؤن چاہتے ہیں، آج فرما رہے ہیں کہ اگر صوبے ان سے مشورہ کرتے تو ایسا نہ ہوتا ویسا نہ ہوتا، ان کے ایسے بیانات سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جو نہیں چاہتے وہ کوئی اور کر دیتا ہے۔ بہرحال وزیراعظم کیا چاہتے ہیں یا کیا نہیں چاہتے ایک بات مسلمہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں یہ خوف بیٹھ گیا ہے کہ کرونا میں مبتلاء ہونے والے کے زندہ بچ جانے کے امکان نہیں رہ پاتے جس میں حکومتی کردار کا بڑا دخل ہے حتی کہ یہ بھی ہو رہا ہے کہ ٹیلی فون کے ذریعے سماجی رابطہ کرنے والے کا مطلوبہ رابطہ بعد میں ہوتا ہے پہلے اس کو ٹیلی فون لائن پر پہلے سے ریکارڈ شدہ آواز کی شنوائی کے کرب سے گزرنا پڑتا ہے جس میںکوئی حوصلہ افزاء پہلو تو دور کی بات ہے البتہ موت کا پیغام مل جاتا ہے کیونکہ اس کے مطابق کرونا وائرس جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔