کووڈ19 اور بیرون ملک پاکستانی

بلاشبہ کووڈ19 نے ہماری زندگیوں اور ذرائع آمدن کو کئی طرح سے متاثر کیا ہے۔ اس وبا کے سبب ہزاروں لوگ اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں اور ہزاروں اپنے اعزا واقربا کو اس بیماری کے چنگل میں پھنس کر زندگی وموت کی جنگ لڑتے بے بسی سے تک رہے ہیں۔ اگرچہ اس صوتحال سے گزرتے کسی بھی شخص کی تکلیف کو کم تر نہیں گردانا جا سکتا البتہ جس اذیت سے ہمارے بیرون ملک پاکستانی اور بالخصوص مشرق وسطیٰ میں پھنسا مزدور طبقہ گزر رہا ہے ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ کسی کا اپنے پیاروں کی موجودگی میں کسی تکلیف سے گزرنا بھی کرب ناک ہے البتہ پردیس میں اپنوں سے دور، اکیلے کسی ایسی مشکل کا سامنا دوہری تکلیف کا سبب بن جاتا ہے۔
ان ممالک میں ملازمت سے متعلقہ قوانین میں کئی طرح کا امتیاز برتا جاتا ہے۔ یہاں سرمایہ کار کا درجہ حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہنرمند یا عام مزدور جو یہاں کام کر رہے ہیں کلی طور پر اپنے کفیل کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ وہ اپنے نام سے یہاں کوئی کاروبار بھی شروع نہیں کر سکتے اور اس کیلئے بھی انہیں کفیل کا نام استعمال کرنا لازم ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے کاروبار کو کسی قسم کا قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا اور کفیل کبھی بھی ایسے کاروبار کو ہتھیا سکتا ہے۔ کفیل کی جانب سے کاروبار پر قبضہ کر لینے کی صورت میں عدالت بھی متاثرہ شخص کو ہی قصوروار ٹھہراتی ہے۔ سرمایہ کاروں پر بھی یہ پابندی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کا بڑا حصہ مقامی افراد میں سے رکھیں جبکہ بیشتر کام تارکین وطن ہی کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جن میں ہمارے مشرق وسطیٰ میں بسنے والے تارکین کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس سب کے باوجود یہی ہمارا وہ طبقہ ہے جن کے بھیجے گئے زرمبادلہ پر ہماری دگرگوں معیشت کی سانسیں رواں رہتی ہیں۔ مالی سال 2019-20 کے پہلے نو ماہ میں مرکزی بینک کی طرف سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق زرمبادلہ کی صورت میں پاکستان بھیجی گئی رقوم کا حجم 16.99ارب ڈالر رہا۔ یہ رقم پچھلے مالی سال کی نسبت نو گنا زیادہ تھی۔ زرمبادلہ کا بیشتر حصہ ہمیں سعودی عرب اور امارات سے وصول ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال سعودیہ میں کام کرنے والے تارکین وطن 5.9ارب ڈالر اور امارات میں کام کرنیوالے افراد کی جانب سے تقریباً 4.3ارب ڈالر پاکستان کی شامل ہوتے ہیں۔ مگر پاکستان کے ان محسنین کو کووڈ19 کے سبب پردیس میں اس قدر نازک حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہمارے ہاں اب بھی ان کی قربانیوں کا مان نہیں رکھا جاتا اور ان کی مشکلات پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ وہ بھوک اور وبا کے خوف میں رہتے اپنی زندگی نہایت کسم پرسی کی حالت میں جی رہے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ ایسے ہیں جن کی قانونی مدت ملازمت اختتام پذیر ہو چکی ہے اور کچھ ایسے ہیں جو خروج کی مہر لگوائے اب تک واپسی کے منتظر ہیں۔ انہیں صحت کی سہولیات تک رسائی میسر نہیں اور کسی قسم کا انشورنس تحفظ بھی حاصل نہیں۔ مزید براں وہاں موجود وہ پاکستانی جن کی مدت ملازمت ختم ہو چکی ہے یا جو خروج حاصل کر چکے ہیں ان کی واپسی کا بندوبست بھی فوری طور پر کیا جانا چاہئے۔ اس حوالے سے اگر پی آئی اے کی خدمات محدود ہوں تو نجی ایئر لائنوں کی بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ اس نازک صورتحال میں دل شکن تارکین وطن کو لوٹتے وقت ہوائی اڈوں پر اس غیرانسانی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے جیسا انہیں ماضی میں کرنا پڑتا تھا۔ اس حوالے سے ہمارے دفترخارجہ پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان تارکین وطن کو بہتر ماحول اور سہولیات کی فراہمی کیلئے سفارتی سطح پر کوششیں کرے اور وہاں موجود اپنے سفارت خانوں کو مزید متحرک بنائے۔ پاکستان اور میزبان ممالک کے سامنے ایک مشکل صورتحال در پیش ہے، اگر انہوں نے برقت اقدامات نہ کئے تو ایک بڑی تباہی ہماری منتظر ہے۔ پاکستان کو بطور ایک غیور قوم خود سے یہ سوال پوچھنا چاہئے کہ کیا ہمیں اپنے ان ہمدردوں اور محسنوںکی مدد کیلئے قدم بڑھانا چاہئے یا ہمیں خودغرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں یونہی ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے۔ اس سوال کا جواب ہم پر یہ آشکار کرے گا کہ آیا ہم ایک شکر گزار اور احسان مند قوم ہیں یا پھر بس ایک مفاد پرست، خودغرض افراد کا ٹولہ۔
(بشکریہ دی نیوز، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)