سوشل میڈیا میں جینا

دنیا کے گلوبل ویلج ہو جانے میں تو کوئی شک نہیں رہا کہ ہر کیفیت کو ایک ہی وقت میں دنیا بھر کے انسان ایک ساتھ محسوس کرسکتے ہیں، اس پر مستزاد سوشل میڈیا کسی حجرے کا تاثر دے رہا ہے جیسے ماضی میں ہمارے حجرے اپنی آب وتاب کیساتھ آباد تھے تو ان حجروں میں کیا کیا کچھ نہ ڈسکس ہوا کرتا تھا اور کیسی کیسی آراء سامنے نہیںآتی تھیں۔ سوشل میڈیا کا یہ حجرہ بھی کسی بھی موضوع کو نہیں چھوڑتا اور کسی بھی موضوع کے کسی بھی پہلو کو پوشیدہ نہیں رکھتا، بس کسی واقعے کا ظہور ہی کافی ہے پھر لیجئے اس پر تبصروں کے وہ وہ شیڈز آپ کو دکھائی دیںگے کہ جو آپ کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آسکتے ہوں۔ بعض تبصرے تو آپ کو گمراہ بھی کر دیتے ہیں، بعض شدید غصہ دلا دیتے ہیں اور بعض بالکل آپ کی سوچ کی نمائندگی کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح سوشل میڈیا جھوٹی خبروںکا ایک خبرستان بھی ہے۔ ہم سادہ بھی کتے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں، کان کو ہاتھ لگا کرتصدیق نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا سے پنپنے والے اس نئے سماج نے انسان کو ایک نئی سماجی زندگی میں لاپھینکا ہے چونکہ سوشل میڈیا کا بیشتر استعمال فون کے ذریعے ہوتا ہے اور فون اب ہر کسی کی ضرورت بن چکا ہے۔ چاہتے نہ چاہتے بھی ہمیں فون رکھنا پڑتا ہے، جہاں کاروباری لوگ اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں وہیں طالب علموں کیلئے بھی یہ وقت کیساتھ ساتھ ناگزیر ہوتا جارہا ہے، یہاں تک کہ گھریلو خواتین بھی اس کے بغیر گزارا نہیںکرپا رہیں۔ سو فون کیساتھ انٹرنیٹ کی سہولت ہمیں سوشل میڈیا کی کھڑکی کی طرف جھانک لینے پر اُکسا ہی لیتی ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا تو ہے ہی سات رنگوں کی دنیا، جہاں جس کا جو دیکھنے کو دل کرے وہ میسر ہے۔ سوشل میڈیا کا ایک اور بہت خطرناک پہلو یہ ہے کہ بندہ جو کچھ سوشل میڈیا پر کہہ رہا ہوتا ہے دراصل اپنی ذات کو expose کر رہا ہوتا ہے۔ لوگ بڑی آسانی سے کسی کے کامنٹس کو پڑھ کر کم ازکم اس کی نیچر کا اندازہ کر لیتا ہے اور کسی کے پروفائل کو دیکھ کر تو اس کا قماش تک کو جانا جاسکتا ہے، اکثر لوگ اس معاملے میں احتیاط نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا ایک دنیا ہے اور ہم نے خدا جانے اس نئی دنیا میں مذید کتنا جینا ہے۔ کون جانے آنے والے وقتوں میں کیا کیا نئی چیزیں سامنے آنے والی ہیں، سو ہمیں اس سوشل میڈیا سے مرتب کردہ اس نئے سماج کو سیکھنا ہوگا تاکہ نہ تو خود کیلئے اور نہ ہی کسی اور کیلئے ذہنی کوفت کا سبب بن سکیں۔ اس کورونا ہی کو لے لیں، ہم ہر قسم کی شاکنگ پوسٹ کو آگے شیئر کر دیتے ہیں، کوئی تحقیق نہیں کرتے کہ جو بات ہم شیئر کررہے ہیں اس میں حقیقت کتنی ہے، کسی کو اس کا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ اگر میری شیئر کردہ پوسٹ کو ہزاروں لائیکس بھی مل جائیں تو کیا فائدہ ہوگا۔ یہ سوشل میڈیا تو ایک میلہ ہے جیسے میلے میں مداری، سرکس، ٹھیلے والے، چاٹ والے، جیب کترے، ٹھگ وغیرہ جیسے بھانت بھانت کے لوگ اور تماشے ہوتے ہیں لیکن میلہ دیکھنے والے سب چیزوں کا نظارہ اور مزہ لیتے ہیں لیکن اپنی جیب کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔ بھلے سے ہم سوشل میڈیا کے میلے کی اسی رنگارنگی کو انجوائے کریں لیکن زندگی بہرحال اس میڈیا کے باہر ہی ہے جو واقعی حقیقی زندگی ہے جس میں زندہ ہیں اور اسی حقیقی زندگی ہی سے ہم نے لینا بھی ہے اور دینا بھی۔ خاص طور پر ہماری جوان نسل کو تو بہت احتیاط کرنی ہے کہ یہی جوانی اپنے مستقبل کو سنوارنے کا وقت ہے۔ کتاب سے دوری بھلا کسی کو کیسے کامیاب کرسکتی ہے۔ جوانی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا خمار اتنا ہے کہ سمجھ ہی نہیں آتی اور وقت گزر جاتا ہے لیکن اسی جوانی کا تقاضا یہ ہے کہ اسی میں مستقبل کے راستوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ ایک غلط فیصلہ انسان کو اس کی منزل سے دور کر دیتا ہے،یہ سوشل میڈیا اپنے اندر اتنے رنگ رکھتا ہے کہ انسان اس کی بھول بھلیوں میں گم سا ہو جاتا ہے اور وقت کی سوئیوں کی رفتار کا کوئی پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کب گزر گیا۔ سو میری اپنی جوان نسل سے گزارش ہے کہ جوانی کا لطف بھی لیں لیکن اپنی منزلو ں کو بھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔