کارکردگی وناراضگی

وزیراعظم عمران خان کا وزراء مشیروں اور معاونین خصوصی کو کارکردگی بہتر بنانے کیلئے چھ ماہ کا مزید وقت دینے کا عمل حکومت سازی کے وقت سے جاری ہے، بعض وزراء کو ہٹایا بھی گیا لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت کی کارکردگی میں بہتری نہیں آسکی۔ افسوسناک امرتو یہ ہے کہ امریکی رپورٹ کے مطابق بد عنوانی میں کمی بھی نہیں لائی جاسکی، وزراء کی کارکردگی بہتر نہ ہونے اور مشکلات کے حوالے سے توجیہات کی گنجائش ضرور ہے لیکن وفاقی کابینہ میں ایسے عناصر کی بھی کمی نہیں جو ناچ نجانے آنگن ٹیڑھا کے مصداق ٹھہرتے ہیں، مستزاد غیرذمہ دارانہ اور مضحکہ خیز بیانات تو پی ٹی آئی کلچر کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری کے جس انٹرویو کو انا کا مسئلہ بنایا گیا ہے درحقیقت ایسا کچھ نہیں، حکومتی صفوں میں اختلافات اور چپقلش ہر حکومت میں ہوتے رہے ہیں مگر گندے کپڑے گلی میں دھونے کا عمل باعث خجالت امر ہے۔ انٹر ویو پر خاموشی اختیار کرنے یا وفاقی وزیر سے جواب طلبی پر اکتفا کرنے کی بجائے اس کے انٹرویو کو موضوع بحث بنالینا مناسب نہ تھا، علاوہ ازیں بھی بلیاں تھیلے سے باہر جھانک رہی ہیں اور تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں نے تیور دکھانے شروع کئے ہیں۔ تحریک انصاف کی صفوں میں اتحادیوں کے تیور بدلنے پر جب مکمل اتفاق کی ضرورت ہے پارٹی میں نظریاتیElectablsمیں فاصلے بڑھتے نظر آرہے ہیں اور کابینہ کے اجلاس میں ایک وفاقی وزیر نے اس گروپنگ پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا جس کی نظر براہ راست وزیراعظم کی کرسی پر ہے لیکن تحریک انصاف میں یہ عمل ایں خیال است ومحال است وجنون کے مصداق ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں اولاً پی ٹی آئی اور عمران خان لازم وملزوم ہیں، پی ٹی آئی کہنا یا عمران خان کانام لینا ایک ہی برابر ہے۔ دوم یہ کہ وزیراعظم عمران خان کو اپنی جماعت اور جملہ مقتدرین کی مکمل حمایت حاصل ہے اسلئے وزیراعظم کی کرسی مضبوط ومستحکم ہے البتہ تحریک انصاف بکھرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جس پر توجہ دینے اور جماعتی کمزوریوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک حکومتی کارکردگی اور عوامل کا تعلق ہے اس وقت حکومت کو کورونا کے باعث درپیش مشکلات اور معاشی حالات کی صورت میں دوہرا چیلنج درپیش ہے، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں عدم اضافہ اور عوام کیلئے ریلیف کا نہ ہونا حکومت کے حوالے سے اچھے تاثرات کا باعث نہیں، بعض وفاقی وزراء اور پنجاب میں حکومت کی کارکردگی پر سوالات کا جواب دینا بھی مشکل نظر آرہا ہے، مستزاد تحریک انصاف کے اپنے متحرک نوجوانوں کا اب وہ جذبہ نظر نہیں آتا جس کی وجہ بھی حکومتی کارکردگی ہی ہے کیونکہ تحریک انصاف کے جوشیلے عناصر بدعنوانی کے خاتمے، احتساب، اچھی حکمرانی کی مثال قائم کرنے اور تحریک انصاف کے منشور کی پاسداری کی جو توقعات لگائے بیٹھے تھے وہ آہستہ آہستہ مایوسی اور بد دلی کا شکار ہونے لگے ہیں جو پارٹی قیادت اور حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بہت جلد ان کمزوریوں اور کوتاہیوں پر قابو نہ پاسکی، ان کے وزراء نے سنجیدہ رویہ اختیار نہ کیا اور حکومتی کارکردگی میں جلد بہتری نہ آئی تو وہ عناصر جو تحریک انصاف کے نظریاتی نہیں بلکہ وقتی ساتھی بنے ہیں ان کا اپنی فطرت پر واپسی عجب نہ ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کو پارٹی کے مختلف الخیال عناصر کو متحد رکھنا، اختلافات میں شدت نہ آنے دینا،اتحادیوں کو ساتھ ملائے رکھنا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کی توقعات اور اپنے وعدوں پر پورا اُترنا ہوگا تبھی تنے ہوئے رسے پر چل کر منزل مقصود کا حصول ممکن ہوگا، دوسری کوئی صورت اور سہارا نظر نہیں آتا۔