مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے

محدود حج کے فیصلے کے تحت سعودی شہری اور اقامہ ہولڈرز ہی فریضہ حج کی ادائیگی کرسکیں گے یعنی وہ غیر ملکی جو پہلے ہی سے وہاں رہائش پذیر ہیں وہ بھی محدود تعداد ہی میں حج کیلئے جاسکیں گے۔ ان کو بھی تمام تر احتیاطی تدابیر کے تحت ہی حج کی اجازت دی جائے گی۔ خادم حرمین الشرفین نے اس ضمن میں فرمان جاری کردیا ہے جس کا مقصد کورونا سے ماحول کو محفوظ بنانا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان میں حج درخواست گزاروں کو ان کی رقوم کی واپسی جلد ہی شروع کرنے کے حوالے سے وفاقی وزیر مذہبی امور نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال کے درخواست گزاروں کو اگلے سال ریلیف دیا جائے گا' تاہم کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک' اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آئندہ حج سیزن تک کتنے لوگ زندہ رہیں گے' ان میں ایسے بھی ہوں گے جو ضعف کی وجہ سے شاید اگلے سال جانے کے قابل ہی نہ رہیں۔ بہرحال اُمید پر دنیا قائم ہے اور اچھے گمان کا حکم دیاگیا ہے اس لئے اللہ کی مہربانی اور کرم سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں قربانی کے حوالے سے بھی البتہ کچھ مسائل آن کھڑے ہوئے ہیں اور چونکہ بعض وزراء اور دیگر متعلقہ لوگ ابھی سے جولائی اور اگست کے مہینوں میں صورتحال کو کٹھن اور سخت قرار دے رہے ہیں جو ظاہر ہے حج اور قربانی کے حوالے سے انہی مہینوں میں آرہی ہے اس لئے حکومتی سطح پر مویشی منڈیا سجانے کی بجائے جانوروں کی آن لائن خرید وفروخت پر غور کیا جا رہا ہے تاہم جب سے اس تجویز کی بازگشت سنائی دی ہے جید علمائے کرام نے اس کو رد کرتے ہوئے اس کیخلاف بیانات دئیے' ادھر آن لائن قربانیوں کی تجویز اور اس حوالے سے ایس او پیز کی مبینہ تیاری کی باتیں کی جا رہی ہیں تب سے عوام گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ آج کے اخبار مشرق میں پشاور میں آن لائن مویشی منڈی کے حوالے سے کسی ٹھیکیدار صاحب کا بیان سامنے آیا ہے کہ شہری جانور پسند کرکے رقم جمع کرادیں اور عید کے روز صاف گوشت وصول کرنے آجائیں۔ محکمہ لائیو سٹاک نے بھی عوام کو خبردار کیا ہے کہ شہری کم سے کم منڈیوں کا رخ کریں اور ہر جانور کو بلاضرورت اور غیرضروری طور پر ہاتھ نہ لگائیں۔ جہاں تک محکمہ لائیو سٹاک کی چتائونی کا تعلق ہے اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خدانخواستہ بعض جانوروں کو ہاتھ لگانے سے بھی ''بیماری'' لگنے کا خطرہ موجود ہے۔ اگر یہ شک درست ہے تو پھر محکمہ لائیو سٹاک کی اپنی ذمہ داری کیا رہ جاتی ہے اور کیا یہ اس محکمے کے متعلقہ افراد کی ذمہ داری نہیں کہ وہ صرف اور صرف صحت مند جانوروں ہی کو منڈیوں میں آنے دیں۔جہاں تک آن لائن جانوروں کی خریداری اور عید کے روز صاف گوشت وصول کرنے کے نظرئیے کا تعلق ہے تو ایسا وہاں ممکن ہے جہاں ایمانداری اور دیانتداری کے پیمانے خدا خوفی کی بنیاد پر قائم ہوں۔ حجاج کرام سے یہی معلوم ہوا ہے کہ حج کے موقع پر ذبح خانہ میں تمام عازمین حج کیلئے لاکھوں کی تعداد میں جانور قربان کرنے کاعمل اس قدر صاف شفاف ہوتا ہے کہ کسی کو کوئی شکایت نہیں ہوتی بلکہ لوگ اپنی مرضی کے مطابق جس قدر چاہیں گوشت اُٹھا لاتے ہیں مگر ہمارے ہاں تو عام دنوں میں بھی جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد ان کو وزنی بنانے کیلئے جو ترکیبیں کی جاتی ہیں اور تگڑم لڑائے جاتے ہیں ان کی باز گشت عام ہے اس لئے اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ایک شخص اپنی پسند کے جانور کیلئے مطلوبہ رقم ادا کرنے کے بعد واقعی اسی جانور کا گوشت ہی حاصل کر پائے گا۔قربانی کا تعلق دراصل اطمینان قلب سے ہے، خاندان کے چھوٹے بڑے جس طرح جانور کے گلے پر چھری پھیرنے سے لے کر اس کے گوشت کے ٹکڑے کرنے اور اسے تین حصوں میں بانٹ کر غرباء ومساکین' عزیزوں' رشتہ داروں کو ان کے حصے تقسیم کرنے کے بعد اپنا حصہ اپنے لئے رکھنے کے مختلف مراحل سے گزرتے ہیں وہی تو اصل خوشی اور قربانی کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ اسلام اورحضرت اسماعیل علیہ اسلام کے نقش قدر پر چلنے کی روایت کو زندہ کرنے کی بات ہے۔ دریں حالات حضرت علامہ اقبال سے رجوع کرنا تو بنتا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ
خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
یہ تو نہیں معلوم کہ سرکاری سطح پر آن لائن جانوروں کی خریداری کا ''فلسفہ'' کس حد تک کامیاب ہوتا ہے کیونکہ خصوصاً احناف کے ہاں اس کی نہ صرف مخالفت ہو رہی ہے بلکہ اسے اطمینان قلب کے بھی خلاف سمجھا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ اگر اس نظرئیے کو بھی زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر متبادل طریقے آزمائے جائیں گے یعنی عین ممکن ہے کہ دیہات میں جہاں لوگ اسی مقصد کیلئے جانوروں کی پرداخت کرکے عیدالاضحی کے موقع پر ان جانوروں کو فروخت کرکے دو چار پیسے کماتے ہیں وہ منڈیوں کا رخ ہی نہ کریں اور لوگ بھی دیہات میں جاکر اپنی پسند کے جانور خریدیں' یا پھر شہر کی گلیوں اور سڑکوں پر جانوروں کا مول تول ہوتا دکھائی دے اس لئے بہتر یہی ہے کہ منڈیاں آباد کی جائیں البتہ ایس او پیز کے اطلاق پر زور دے کر خرید وفروخت کے ہنگام عوام کی صحت کو یقینی بنایا جائے۔
مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے
ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں