2 210

ابھی رورو کے جہاز اس کا ڈبو دیتا ہوں

کہنے کو تو سند باد جہازی الف لیلوی داستانوں کا تصوراتی کردار ہے لیکن اس کے نام پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے اس کا تعلق اس دور کے ہندوستان سے تھا جب 'برصغیر ہند' کو ہند کہنے کی بجائے سندھ کہا جاتا تھا۔ موہنجو ڈارو اور ہڑپا کی تہذیبیں دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہیں اور ان کو قدیم سندھ کی تہذیبوں کے حوالے سے جانا اور مانا جاتا ہے۔
گزر گئی گزران، کیا جھونپڑی کیا میدان
کے مصداق پرانی باتیں پرانی ہوکر دفن ہوگئیں، اگر ہم آج کی بات کریں تو آج بھی انگریزی بولنے والے ہندوستان کو انڈیا اس لئے کہتے ہیں کہ اس سرزمین پر 'انڈس ریور' یا دریائے سندھ بہتا ہے۔ لگتا ہے کہ سند باد کا تعلق اس ہی دور کے ہندوستان سے تھا، اگر نہیں بھی تھا تب بھی طلسم ہوشربا جیسی الف لیلوی داستانوں کے اس تصوراتی کردار پر ہمیں روشنی ڈالنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ اس کے نام کیساتھ جہازی کا لاحقہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ عمر بھر جہاز رانی کرتا رہا اور آج ہم سند باد جہازی کو اسلئے بھی یاد کر رہے ہیں کہ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاز رانی کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ سمندری جہاز رانی کی قدامت کا اندازہ ہمیں صرف سند باد جہازی کے مہماتی بحری سفر ناموں سے نہیں ہوتا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی سے بھی ہمیں کشتی رانی یا جہاز رانی کی قدامت کا پتہ چلتا ہے۔ واسکوڈے گاما اور کولمبس بھی اپنے وقت کے عظیم جہاز ران گزرے ہیں جنہوں نے سمندری راستوں کی نئی منزلیں اور نئے اُفق تلاش کرکے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ جہاز رانی کو ملاحت کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور ملاحت کا یہ لفظ کشتی کے ملاح سے مستعار ہے جسے مانجھی بھی کہا جاسکتا ہے کھیون ہار بھی اور ناخدا بھی
کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے
جہاز رانی کی ابتدا کشتی رانی ہی سے ہوئی ہوگی جس کی مثال پیش کرتے وقت ہم حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کا تذکرہ کر چکے ہیں۔ کشتی رانی نے بادبانی جہاز رانی کو رواج دیا جو ارتقاء کی منازل طے کرتے ہوئے دخانی جہاز رانی کی ایجاد کا مؤجب بنا اور پھر اتنے بڑے بڑے جہاز سطح سمندر کی سطح پر تیرنے لگے جن کی مثال پیش کرتے وقت ہم ٹائی ٹینک جیسے سطح سمندر پر تیرنے والے پرتعیش اور ہمہ جہت جہاز کا نام گنوا سکتے ہیں لیکن جب سے سمندری یا بحری جہازوں کے علاوہ دوردراز کے سفر کیلئے ہوائی جہاز استعمال ہونے لگے تو جہاز رانی کے شعبہ میں سمندری یا بحری جہاز رانی کے علاوہ ہوائی جہاز رانی کی اصطلاح بھی استعمال ہونے لگی۔ انسان فطری طور پر خشکی پر رہنے والی یا بود وباش اختیار کرنے والی مخلوقات میں سے ایک ہے۔ کرۂ ارض پر خشکی صرف گنتی کے براعظموں، جزیروں یا جزیرہ نماؤں پر مشتمل ہے، ماضی میں جب کبھی بھی انسان کو سمندر پار کے سفر پر روانہ ہونا ہوتا تو اسے سمندری راستے ہی اختیا کرنے پڑتے، اس دوران وہ خشکی پر رہنے والے اپنے سنگیوں ساتھیوں سے کٹ کر رہ جاتا۔ آج بھی سمندری یا ہوائی سفر پر روانہ ہونے والے عارضی طور پر سہی اس دنیا سے کٹ کر رہ جاتے ہیں جس دنیا میں ہم اور آپ سب سماجی جانور کی حیثیت سے ایک دوسرے کی غمی خوشیاں بانٹ رہے ہوتے ہیں۔ جہاز رانی کے شعبہ سے وابستہ افراد سند باد جہازی کی طرح نت نئی دنیا کی تلاش میں کتنے کوہ قاف عبور کرتے ہیں کتنی جادونگریاں پاٹ رہے ہوتے ہیں اور ان پر کیا گزر رہی ہوتی ہے اس کا صرف انہیں ہی علم ہوتا ہے۔ جس وقت ٹائی ٹینک ڈوب رہا تھا اس وقت اس میں محوسفر لوگوں پر کیسی قیامت ٹوٹی اس کا منظر اس موضوع پر بننے والی لاجواب فلم دیکھنے والوں کو بھلائے نہ بھولتا ہوگا۔ ابھی چند دن پہلے ہماری قومی جہاز راں کمپنی کا مسافر طیارہ اسلام آباد کے گنجان آباد علاقہ پر گرا تو اس کی جان کاری ہمیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت گھر بیٹھے ہی ہوگئی۔ اس جہاز کا پائلٹ مے ڈے مے ڈے کہہ کر مدد کیلئے پکارتا رہا لیکن زمین والے اس جہاز کے مسافروں کی نہ کوئی مدد کر سکے اور نہ اس کے گر کر تباہ ہوجانے کی ایک مدت بعد تک اتنا بھی جان سکے کہ اس دوران تباہ ہونے والے جہاز کے مسافروں پر کیا گزری۔ جہاز رانی سمندری ہو، ہوائی یا صحرائی آج کا دن ہمیں جس بات کا احساس دینے کیلئے منایا جاتا ہے وہ جہاز ران طبقہ یا اس پیشے سے منسلک لوگ جب تک محوسفر ہوتے ہیں وہ ہنستی بستی یا روتی بسورتی دنیا کے لوگوں سے منقطع ہوکر اس وقت تک واپس نہیں آتے جب تک وہ اپنا سفر پورا کرکے خشکی پر اتر نہیں جاتے، 2010ء میں اس دن کو منانے کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے تسلسل میں آج ہم دنیا کے 1.5ملین جہاز رانوں کو خراج تحسین پیش کرکے اپنے پڑھنے والوں پر ان کی انفرادیت اور اہمیت کو اُجاگر کر رہے ہیں، خلاء نوردی بھی جہاز رانی کی ترقی یافتہ شکل ہے اور وہ جو آپ تباہی پھیلانے کیلئے بنائے گئے بحری بیڑوں کے متعلق سنتے ہیں وہ بھی اس ہی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے متعلق امن پسند دل جلے کہتے رہتے ہیں
گر زمانے کی عداوت ہے یہی مجھ سے تو میں
ابھی رو رو کے جہاز اس کا ڈبو دیتا ہوں