اللہ کی ذات پر بھروسہ

کہتے ہیں دنیا اُمید پر قائم ہے، یہ اُمید ہی ہوتی ہے جس کے بھروسے پر انسان آگے بڑھ کر دنیا کے مسائل سے مردانہ وار مقابلہ کرتا ہے، مایوسی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ کفر کی طرف لے جانے والی ہے، یقینا اللہ کریم کی شان بہت بڑی ہے وہ مہربان ذات ہے جو ہمیشہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے جو کچھ ہمیں پیش آتا ہے یہ ہمارے اپنے ہی اعمال کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ آج کے حالات کے تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ اور اچھے دنوں کی اُمید پر ہی ہم زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہیں ہر روز دل دکھا دینے والی خبروں سے واسطہ پڑتا ہے کرونا وائرس کا زور ٹوٹنے میں نہیں آرہا یہ مسلسل پھیل رہا ہے۔ اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کل پشاور کے مزید پانچ علاقے سیل کر دئیے گئے حیات آباد فیز 6اور7، منڈی حسن خیل، بشیرآباد اور پلوسئی میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں کھلی ہیں جہاں سے خریداری کی جاسکتی ہے اب تک پشاور میں 14علاقے مکمل طور پر سیل ہیں جہاں پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی ہیں اور شہریوں کو ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کی تلقین کی جارہی ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود لوگوں کی طرف سے تعاون دیکھنے میں نہیں آرہا، پولیس کیساتھ بحث مباحثوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، کل ایک صاحب پولیس کی رکاوٹ توڑ کر گاڑی نکالنا چاہتے تھے، پولیس اہلکار انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ یہ سب کچھ آپ لوگوں کیلئے کیا جارہا ہے آپ کی جان قیمتی ہے آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں تاکہ اس موذی وبا سے نجات حاصل کی جاسکے، لیکن انہوں نے اس رکاوٹ کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور مختلف قسم کے کارڈز پولیس آفیسر کو دکھا کر کہنے لگے کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں، آپ مجھے مت روکئے اسے جواباً یہی کہا گیا کہ آپ جس کے بھی بیٹے ہو ہم آپ کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، یہ رکاوٹیں سب کیلئے ہیں۔ یہ سارا منظر دیکھ کر ذہن میں خیال آیا کہ ہم سب پولیس پر اعتراض تو بہت کرتے ہیں لیکن ہمارے پڑھے لکھے اور بارسوخ لوگ ہی پولیس کے کام میں مداخلت کرتے ہیں، ہمارے یہاں سفارشی کلچر بڑا عام ہے، ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو اوپر سے فون کروائے جاتے ہیں، انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ان کیساتھ تعاون کریں چاہے انہیں قانون کی دھجیاں ہی کیوں نہ اُڑانی پڑیں۔ جو علاقے سیل کئے گئے ہیں وہاں مریضوں کی تعداد بھی زیادہ ہے اور اموات بھی زیادہ ہوئی ہیں اور اگر ان علاقوں میں سماجی دوریوں کو یقینی نہ بنایا جاسکا تو وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔ اس وائرس کی وجہ سے نہ صرف کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا ہے بلکہ دوسرے مسائل بھی سر اُٹھا رہے ہیں اب کئی مرتبہ کی یقین دہانیوں کے باوجود بھی آٹے کی قیمت کم نہیں ہو سکی تو نانبائی ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر مکمل ہڑتال کرنے کا اعلان کردیا ہے،
نانبائیوں کا کہنا ہے کہ پنجاب سے ہمیں پچاسی کلو آٹے کی بوری پانچ ہزار تین سو روپے میں مل رہی ہے اور اگر آٹے کی قیمت کم نہ کی گئی تو ہم مجبوراً 150گرام کی روٹی 15روپے میں بیچیں گے۔ اس وقت عوام جو روٹی دس روپے میں خرید رہے ہیں، یقینا اس کا وزن 150گرام سے کم ہے اور آٹا بھی غیرمعیاری استعمال کیا جارہا ہے یہ اس قسم کا آٹا ہے کہ بزرگ شہریوں کیلئے اس کا چبانا بہت مشکل ہے۔ روٹی پنکھے کے نیچے آتے ہی سخت ہوجاتی ہے، کیا نانبائیوں کو اس بات کا پا بند نہیں بنایا جاسکتا کہ وہ معیاری آٹا استعمال کریں؟ ایک طرف عوام کو کرونا کے حملوں کا سامنا ہے، دوسری طرف مہنگی روٹی، غیرمعیاری آٹا اور نانبائیوں کی ہڑتال اور تیسری طرف سبزیوں میں خطرناک کیمیکلز سے بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ پشاور، چارسدہ، مردان، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں اگائی جانے والی سبزیوں میں زنک، کاپر، لیڈ، نکل اور کیڈمیم کا انکشاف ہوا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سبزیوں کے استعمال سے پھیپھڑوں کے سرطان، ذہنی امراض، گردے اور جگر کے امراض لاحق ہوسکتے ہیں اور یہ کسی دشمن کی اڑائی ہوئی خبر نہیں ہے بلکہ مندرجہ بالا شہروں میں اگائی جانے والی سبزیوں کے باقاعدہ نمونے لیکر سرکاری لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کئے گئے جن میں یہ بات سامنے آئی کہ ان سبزیوں میں انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک کیمیکلز موجود ہیں۔ کالم کے شروع میں اُمید کی بات کی گئی تھی اب آپ خود غور فرمائیے اس قسم کے حالات میں اگر انسان اُمید کا دامن چھوڑ دے تو اس کیلئے زندگی گزارنا کتنا مشکل ہوجائے گا؟۔