p613 39

طیارہ حادثہ رپورٹ

کراچی میں حال ہی میں پی آئی اے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کرنے والی ماہرین کی ٹیم نے فلائٹ ڈیٹا اور وائس ریکارڈز کے مفصل جائزے کے بعد جو رپورٹ دی ہے اس ٹیم میں فرانسیسی حکومت کے ماہرین اور شہری ہوابازی کی صنعت کے ماہر تجزیہ کار شامل تھے۔ وفاقی وزیر برائے شہری ہوابازی غلام سرور خان نے پارلیمان میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا ایئر بس طیارہ پرواز کیلئے سوفیصد فٹ تھا اور اس میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔ ماہرین کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کی ہدایات کو سنجیدہ نہیں لیا۔ رپورٹ کے مطابق لینڈنگ کے وقت کا ک پٹ میں کورونا موضوع بحث تھا، کورونا سے اموات کی رپورٹ تو معمول کا حصہ بن چکے ہیں، کورونا کا فضائی حادثے کا سبب بننا اور اموات اس وبائی مرض کاایک اوررخ ہے جس کا انکشاف حادثے کی تحقیقات کرنے والی ماہرین کی ٹیم نے کیا ہے۔ کوئی رپورٹ خواہ ذہنی طور پر جس حد تک بھی ناقابل قبول اور ناقابل یقین ہو، اس رپورٹ کے حوالے سے مختلف آراء کا اظہار کرنے اور سوال اُٹھانے کی تو گنجائش ہے، اسے رد کرنے کا اختیار حکومت،پارلیمان اور ماہرین ہی کو ہے، بہرحال رپورٹ کے مطابق کورونا کی گفتگو میں پائلٹ اور معاون پائلٹ اتنے محورہے کہ کنٹرول ٹاور سے بار بار توجہ دلانے کے باوجود پائلٹ اپنی اور مسافروں کی جانوں وطیارے کی بحفاظت لینڈنگ کے بنیادی فریضے کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ ہوابازی کی تاریخ میں اس قدر سنگین غفلت کا اظہار شاید ہی کبھی ہوا ہے اور شاید ہی کبھی ہوگا۔ طیارہ اُڑانے والا پائلٹ سینئر پائلٹ تھا اور ان کے حوالے سے قبل ازیں کسی بے احتیاطی کی کوئی رپورٹ نہیں آئی، اس سے قطع نظر پائلٹ کسی بھی حالت کنٹرول ٹاور کی ہدایات سے انکار اور روگردانی نہیں کر سکتا، لینڈنگ اور ٹیک آف دونوں کنٹرولر کی صوابدید پر ہوتے ہیں، جہاز کی اپروچ اور لینڈنگ گیئر چیک کرنے ہوتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ رپورٹ ناکافی اور نامکمل ہے، ایوان میں پیش شدہ رپورٹ کے سارے مندرجات بہت پہلے ہی اخبارات میں رپورٹ ہوچکے تھے۔ اس موقع پر شہری ہوابازی کے وزیر نے پائلٹس کی جھوٹی اسناد کا قضیہ چھیڑ کر اگرچہ اس رپورٹ کو مدد دینے کی کوشش کی ہے، قطع نظر کتنے فیصد پائلٹ کی اسناد جھوٹی ہیں اور وہ کتنے عرصے سے جہاز اُڑا رہے ہیں، کس دور میں بھرتی ہوئے کیسے ہوئے، اس سارے عمل کی چھان بین اور کارروائی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اس بیان سے پہلے سے انحطاط کا شکار قومی فضائی کمپنی کے پرخطر ہونے کا جو تاثر قائم ہوا ہے علاوہ ازیں یورپی یونین اور محتاط ممالک میں پروازوں کے معیار پر پورا اُترنے والے کتنے طیارے پی آئی اے کے بیڑے میں موجود ہیں اس ساری صورتحال میں پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازیں خطرے میں دکھائی دینے لگی ہیں، اندرون ملک اس پر سفر مزید پرخطر ہوگیا ہے۔ پی آئی اے طیاروں کے دیگر ائیر لائنز کے مقابلے میں بڑھتے حادثات اور ہر عشرے میں ایک بڑا فضائی حادثہ توجہ کے متقاضی امور ہیں، حادثات اور انسانی غلطی کی ہر جگہ گنجائش ہوتی ہے لیکن اس کی ایک خاص شرح اور امکانات ہوتے ہیں۔ پی آئی اے کے طیارے بوسیدہ، پرزے ناکارہ اور پائلٹ جعلی لائسنس والے ہوں تو لوگ کم ہی بھاری کرایہ ادا کر کے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے پر آمادہ ہوں گے۔ حکومت کو پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کی اصلاح، شہری ہوابازی کو محفوظ بنانے اور پائلٹس کی بھرتی احتیاط سے کرنے کے عمل پر توجہ دینی چاہئے۔ مزید حادثات اور غلطیوں کے ارتکاب میں کمی کے اقدامات کے طور پر ان تمام جعلی لائسنس کے حامل پائلٹوں کو فوری طور پر گرائونڈ کیا جائے جن کے نام حکومت کے پاس موجود ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس انکشاف کیساتھ ہی ان تمام مشکوک لائسنس کے حامل پائلٹوں کو پروازوں سے روک دیا جاتا، حکومت کو اس عمل کو یقینی بنانے میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔