p613 40

گالیوں کی سزا برہنہ کرنا نہ تھا

سوشل میڈیا پر پولیس افسران کیخلاف نازیبا اور قابل اعتراض کلمات کی ادائیگی پر نوجوان کیخلاف پولیس کی شرمناک قانون شکنی اور عوامی احتجاج پر پولیس افسران کا تبادلہ وگرفتاری کے عمل کے باعث پولیس کے دامن پر لگے بہت سارے دھبوں میں ایک بڑے دھبہ کا اضافہ مٹ نہیں سکتا۔ نوجوان کی حرکت کم قابل مذمت اور شرمناک نہ تھی، پولیس افسران کی عزت نفس کی مجروحی اور تذلیل کے واقعے کو اس کے سخت ردعمل میں چھپانا مناسب نہیں۔ گالیاں کھانے والی پولیس افسران سے ہمدردی کے اظہار کیساتھ ان کے فرائض، ذمہ داریوں اور حلف کا جائزہ لیا جائے تو صرف برہنہ کر کے تشدد ہی نہیں بلکہ نوجوان کو تھانے لیجانے سے لیکر چھوڑ دینے تک کے پورے واقعے میں قانون کو پامال کیا گیا۔ پولیس افسران کی ذاتی مخاصمت اور نفرت کا بدترین اظہار قدم قدم پر سامنے آیا۔ پولیس کی وردی کا تقاضا ہی یہ ہے کہ وہ قانون کو مقدم رکھے اور ملزم ومجرم اور پولیس اہلکاروں میں فرق باقی رہے۔ تہکال کے واقعے میں گالی کے بدلے ننگا کر کے تشدد شراب کے نشے پر طاقت کے نشے اور گھمنڈ وغرور کا بھاری رہنا ہے۔ خیبرپختونخوا کی مثالی واصلاح شدہ پولیس کا جو چہرہ اس واقعے کی صورت میں خود ان کے اپنے کیمروں کی آنکھ سے حکومت اور عوام کے سامنے آیا ہے، یہ خیبرپختونخوا کی پولیس کی مثالیں دیتے نہ تھکنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ صوبے کی پولیس اب بھی ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہے، صوبہ پولیس سٹیٹ ہے، پولیس جس سے چاہے جو سلوک کرے پولیس آرڈر اور قوانین کی باز گشت تک حوالات اور تھانوں میں سنائی نہیں دیتی۔ جہاں تک کارروائی اور سزاء کا تعلق ہے صلاح الدین کا قتل ہو یا پھر شاہراہ پر سرعام کسی خاندان کو بھون ڈالنے کا واقعہ یاکوئی اور جہاں پولیس مدعی، پولیس تفتیشی، پولیس منصف اور پولیس مقتدر ہو، وہاں انصاف کی چڑیا پر نہیں مارسکتی۔ جس طرح قبل ازیں کے واقعات میں ہوتا رہا ہے اس واقعے کا بالآخر انجام وہی ہونا ہے۔ پولیس کے افسران اور ذمہ داران کیخلاف کارروائی نمائشی اور کمزور ہے، اس واقعے کیخلاف عوام کا احتجاج اگر امریکہ میں سیاہ فام باشندے کے قتل کیخلاف احتجاج کی طرح بھرپور نہ ہو تو چند دنوں کا احتجاج چائے کی پیالی میں طوفان جیسا لاحاصل ہی رہے گا۔ اُس درجے کا عوامی شعور اوراحتجاج کی توقع نہیں اور نہ ہی حالات اس کی اجازت دیتے ہیں، اب یہ تحریک انصاف کی حکومت کا امتحان ہے کہ اس نے عوام سے انصاف وتحفظ اور پولیس کی اصلاح کا جو وعدہ کیا تھا اور جو دعوے کئے گئے تھے اس پر کس طور پورا اُترتی ہے۔ عوام کے جذبات کی کیا ترجمانی ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مظلوم خاندان کو انصاف کیسے ملتا ہے اور اس کا ازالہ کیسے کیا جاتا ہے۔ وکلاء برادری ، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کو اس صورتحال میں متوازن کردار کے ذریعے فریقین یعنی پولیس اور گالیاں دینے والے نوجوان دونوں فریقوں کو قانون کے دائرے میں انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
بینکوں سے کورونا کا پھیلائو
خیبرپختونخوا میں پیٹرول کے حصول کیلئے ہلمٹ کی شرط عائد ہوتی ہے تو اس کا توڑ نکال لیا جاتا ہے اور ماسک کی پابندی کی شرط عائد ہو تو اس کا بھی توڑنکال لیا گیا۔ یہ ایک ایسی عوامی بد عت ہے جس کا کوئی علاج نہیں، عوامی سطح پر اس طرح کی صورتحال سے قطع نظر بنکوں کی جانب سے ماسک کے بغیر آنے والے صارفین کو واپس بھجوانے کی بجائے ان کو استعمال شدہ ماسک دے کر بنک جانے کی اجازت اور واپسی پر ماسک لیکر دوسرے کو دینے کا خطرناک اور وائرس کی منتقلی کا یقینی طریقہ اختیار کرنا حیرت انگیز اور فوری توجہ طلب معاملہ ہے جس کا کمرشل بنکوں کے حکام اور سٹیٹ بنک کے مقامی چیف منیجر کو فوری اور سختی سے نوٹس لیا جانا چاہئے۔ اس الزام کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے اہم برانچوں کے سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ دیکھ کر بنک منیجر کیخلاف تاددیبی کارروائی کی جائے، عوام اس خطرناک اقدام میں شریک نہ ہوں اور اس سے بچنے کیلئے ماسک کا استعمال کریں۔ آزمائشی طور پر بغیر ماسک کے بنکوں کی شاخوں میں جا کر یہ طریقہ کار اپنانے کی کوشش کر کے سٹیٹ بنک کے حکام کو حقیقت حال معلوم کرنا چاہئے جبکہ نوجوان اس طرح کی کسی عمل کی ویڈیو اگر بنا کرسوشل میڈیا پر ڈال سکیں تو یہ قومی خدمت ہوگی۔
اچھی روایت
حکومت کا کرک میں گیس رائیلیٹی کے اجرائ، گرگری روڈ کی تعمیر،نو پشتہ گریٹر واٹر سپلائی سکیم سمیت گیارہ مطالبات کو تسلیم کرنا اور مذاکرات کے بعد دھرنے کا اختتام خوش آئند امر ہے۔ جن تین مطالبات پر اتفاق نہیں ہوا، اس پر مزید گفت وشنید ہونی چاہئے۔ کرک کے عوامی نمائندوں نے نوروز تک علاقے کے مسائل کے حل کیلئے جو کوششیں کیں اور حکومت نے ان مسائل کے حل کی جو یقین دہانی کرائی ہے، پر امن طور پر اور خوش اسلوبی سے اس کا اختتام پذیر ہونا فریقین کی سنجیدگی اور اپنے مقصد کیلئے مناسب لائحہ عمل اختیار کرنے کا مظہر ہے۔ قانون کے مطابق مطالبات کے حصول اور حکومت کا ان سے مذاکرات اور یقین دہانی مروجہ طریقہ کار ہے جہاں بھی عوامی مسائل کے حل کیلئے جدوجہد مطلوب ہو، اس کا انداز شائستہ اور قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔