280312 2496003 updates

پاکستان میں ادویات سازوں کا بہت بڑا مافیا ہے، حکومت خود کچھ کرتی نہیں فیصلے کرنے کیلئے معاملہ ہمارے گلے ڈال دیا جاتا ہے- چیف جسٹس سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں نجی ادویہ ساز کمپنی کی جانب سے قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ،چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ،چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاکستان میں ادویات سازوں کا بہت بڑا مافیا ہے،کیا وفاقی کابینہ نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق کوئی فیصلہ کیا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ معاملہ کابینہ نہیں ٹاسک فورس کو بھیجا گیا تھا.

جسٹس اعجاز الاحسن نے جواب میں کہا کہ لگتا ہے ٹاسک فورس فیصلہ کرنے کے بجائے معاملے پر بیٹھ ہی گئی ہے.

چیف جسٹس کا نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آخر کر کیا رہی ہے، حکومت کو معلوم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے،
حکومت صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں،حکومت خود کچھ کرتی نہیں فیصلے کرنے کیلئے معاملہ ہمارے گلے ڈال دیا جاتا ہے,ادویات کمپنیاں ہوں یا خریدار سب ہی غیر یقینی صورتحال میں رہتی ہیں، ادویہ ساز کمپنیاں خام مال خریداری کے نام پر سارا منافع باہر بھیج دیتی ہیں، افسوس ہوتا ہے کہ حکومت کوئی کام نہیں کر رہی،
ڈریپ کہتی ہے مٹھی گرم کرو تو سارا کام ہوجائے گا، حکومت خود فیصلہ کرتی نہیں اور ہائی کورٹ کے فیصلے چیلنج کرتی ہے.

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجی کمپنی نے باسکوپان نامی دوائی مارکیٹ سے غائب کر رکھی ہے، دوائی کی قیمت پوری نہ ملے تو مارکیٹ سے غائب کر دی جاتی ہے،نجی کمپنی نے آٹھ دوائیوں کی قیمت بڑھائی،ڈریپ نے ایکشن لیا تو سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع دے دیا.

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ڈریپ بروقت فیصلہ نہ کرے تو مقررہ مدت کے بعد ازخود قیمت بڑھ جاتی ہے،
عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی.