امریکی محکمہ داخلہ کی رپورٹ اور وزیراعظم کا خطاب

وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی سے خطاب میں ڈرون حملوں اور اُسامہ بن لادن (شہید) کو مارنے پر پاکستان کی سبکی کے تندو تیز بیان اور بدھ کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے انسداد دہشت گردی بیورو کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ دونوں کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان کے امریکہ طالبان مذاکرات میں تعمیری کردار کے اعتراف کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت نفرت ومحبت کے پرانے اصول سے ہٹی نہیں۔محکمہ داخلہ امریکہ کی رپورٹ میں اس امر کو دہرایا گیا ہے کہ پاکستان نے سال 2015ء میں انسداد دہشت گردی کیلئے شروع کردہ نیشنل ایکشن پلان پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں کیا، خاص طور پر اس پلان میں دہشت گرد تنظیموں کو بلا تخصیص ختم کرنے کے وعدے پر عمل نہیں ہوا۔ پاکستان کی طرف سے اس رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے، اس عالم میں قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا خطاب امریکہ کو جواب تھا۔ پاکستان کے ٹھوس اقدامات کے تناظر میں حکومت کو بجاطور پر توقع تھی کہ امریکی رپورٹ میں ان کا اعتراف شامل ہوگا اور غلط فہمیوں میں کمی آئے گی لیکن امریکی رپورٹ میں مرغے کی وہی ایک ٹانگ والی مثال ہے، امریکہ کی تازہ رپورٹ بھی ڈومور کا اعادہ ہے اور پاکستان کی پوری کوشش کے باوجود اس پر لگی چھاپ کا برقرار رہنا غم وغصے کا باعث امرہے جس کا واضح اظہار وزیراعظم کا قومی اسمبلی سے خطاب ہے۔ امریکی رپورٹ سے پاکستان پر الزام لگانے والے ممالک کو شہ ملتی ہے جس کے اثرات افغانستان اور بھارت سے پاکستان سے تعلقات میں عدم بہتری کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ امریکہ جب تک حقیقت پسندانہ رویہ نہ اپنائے، پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم نہ ہوسکے گا اور دونوں ممالک مواقع کا فائدہ اُٹھانے کی تاک میں رہیں گے اور خطے کے حالات میں تبدیلی واقع نہ ہوگی۔ نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش، پاکستان اور چین کی حالیہ پالیسیوں اور اقدامات کے بعد بھارت اور امریکہ کے درمیان پہلے سے زیادہ ایک دوسرے کی ضرورت بن جانا اپنی جگہ اور اس طرح کی پالیسی دونوں ممالک کا داخلی معاملہ ہے اس کے اثرات اگردیگر ممالک پر پڑنے لگے تو ردعمل فطری امر ہوگا، بہتر ہوگا کہ امریکہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے اور پاکستان وبھارت سے یکساں رویہ اپنائے۔
باعث عبرت امر
گومل یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ کی جنسی ہراسگی سکینڈل میں جرم ثابت ہونے پر برطرفی اور مراعات سے محرومی کی سزا عبرت کا باعث امر ضرور ہے جس سے ان کو دنیا میں اپنے کئے کی سزا ضرور مل گئی، ان کے طرزعمل سے دین اور دینی طبقے علماء اور دین سے محبت رکھنے والے افراد کی جو توہین اور دل آزاری ہوئی ہے ان کی برطرفی کے باوجود بھی اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ ان کا یہ فعل اساتذہ اور علماء کیلئے تادیر تکلیف دہ امر رہے گا۔ کسی دینی پس منظر رکھنے والے شخص کا قابل اعتراض فعل اسلئے زیادہ سنگین اور شدت کا حامل امر ہوتا ہے کہ لوگ کم از کم ان سے اس طرح کے عمل کی توقع نہیں رکھتے۔ اساتذہ کی تکریم والدین کے برابر ہوتی ہے، ایسے میں ان کی کسی قابل اعتراض حرکت پر معاشرے کا لرز جانا فطری امر ہے۔یہ درست ہے کہ کسی ایک انسان اور عہدیدار کے کئے کی سزا دوسروں کو نہیں دی جاسکتی، بہرحال جامعات میں اس واقعے کے بعد جہاں اساتذہ کرام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے، وہاں یونیورسٹی انتظامیہ کو کسی بھی غیرمعمولی صورتحال پر نظر رکھنے کی ذمہ داری پر خصوصی طور توجہ دینی چاہئے۔ طلبہ کو اس امر کا بآسانی موقع اور رسائی دی جائے کہ وہ کسی قابل اعتراض گفتگو واشارے کنائے تک کو بلا جھجھک اور اعتماد سے یونیورسٹی انتظامیہ کے علم میں لائیں تاکہ اس قسم کی صورتحال کا پیشگی تدارک ہوسکے۔ اگر غلط فہمی کے باعث کوئی شکایت ہوتی ہے تو اسے انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے بلکہ سہو اور غلط فہمی قرار دے کر دور کیا جائے۔ اس طرح حوصلہ افزارویہ اپنانے پر ہی طالبات رئیس الجامعہ یا رجسٹرار سے اعتماد سے رجوع کرسکیں گی اور باعزت تعلیم حاصل کر پائیں گی، اور ان کے والدین کو بھی اطمینان ہوگا۔
شوگر مافیا کے دبائو میں آنے کا اعتراف
دبائو میں آکر شوگر ملز کو رعایت اور سبسڈی کا وزیراعظم کے اعتراف کے بعد شوگر سکینڈل کا رخ ہی تبدیل ہوگیا ہے، جب حکومت ہی نے دبائو میں آکر سبسڈی دیدی تھی تو اتنی ہوا کھڑی کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں دبائو کا اعتراف اگرچہ اس عمل کا مداوا تو نہیں لیکن اعتراف حقیقت اور قوم کو صحیح صورتحال سے آگاہ کرنا احسن قدم ہے۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد شوگر مافیا کیخلاف تحقیقات وکارروائی کی اب زیادہ توقع نہیں، شوگر مافیا حکومت سے طاقتور ہو اور حکومت دبائو میں آئے سیاسی مصلحت کو عوام کے لٹنے سے زیادہ مقدم جانا جائے تو باقی کیا رہ جاتا ہے؟۔